ہماچل پردیش میں مرکز ی امداد بند ہونے سےریاست کو ۸؍ ہزار کروڑ روپئے کا نقصان کا سامنا ہے، جس کے بعد وزیر اعلیٰ سکھو نے وزرا ء اور اراکین کی تنخواہوں میں چھ ماہ کی کٹوتی کا اعلان کر دیا۔
EPAPER
Updated: March 22, 2026, 8:10 PM IST | Shimla
ہماچل پردیش میں مرکز ی امداد بند ہونے سےریاست کو ۸؍ ہزار کروڑ روپئے کا نقصان کا سامنا ہے، جس کے بعد وزیر اعلیٰ سکھو نے وزرا ء اور اراکین کی تنخواہوں میں چھ ماہ کی کٹوتی کا اعلان کر دیا۔
مرکز کی جانب سے یکم اپریل سے ہماچل پردیش کی ریونیو ڈیفیسیٹ گرانٹ بند کرنے کے بعد ریاستی حکام کو غیر معمولی مالی مسائل کا سامنا ہے۔ہماچل پردیش حکومت نے سنیچر کو۲۰۲۶-۲۷ء کے لیے۵۴۹۲۸؍ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلیٰ عہدیداران کے لیے کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کیا۔ وزیراعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو نے چھ ماہ کی تنخواہ میں کٹوتی کا اعلان کیا ،جس میں ان کی اپنی تنخواہ میں۵۰؍ فیصد کمی بھی شامل ہے۔بعد ازاں یہ اقدام فلاحی اسکیموں کو متاثر کیے بغیر مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آسام: ہیمنت بسوا شرما کی دولت ۵؍ برس میں دگنی
رپورٹس کے مطابق یہ۱۹۵۲ء کے بعد پہلا موقع ہوگا جب ہماچل پردیش اس مخصوص مرکزی امداد کے بغیر کام کرے گا۔ سکھو کے مطابق، اس کے بند ہونے سے سالانہ۸؍ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوگا۔انہوں نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہم ریاست اور اس کے عوام کے لیے کام کر رہے ہیں، انتخابات کے لیے نہیں۔ میں تمام طبقات سے چھ ماہ کی حمایت چاہتا ہوں، اور میں یقین دلاتا ہوں کہ ہماچل پردیش خود انحصاری کی طرف گامزن ہوگا۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ صرف ایک عارضی التوا ہے، اور جیسے ہی ریاست کی مالی حالت بہتر ہوگی، یہ رقم واپس کر دی جائے گی۔‘‘
تاہم ہماچل کے وزیراعلیٰ نے اخراجات پر قابو پانے کے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے، جس میں اعلیٰ عہدیداران اور تمام قانون سازوں کی تنخواہ میں چھ ماہ کے لیے کمی۔ وزیراعلیٰ کی تنخواہ میں۵۰؍ فیصد کمی کی جائے گی جبکہ وزرا کی تنخواہ میں۳۰؍ فیصد تخفیف ہوگی۔ایم ایل اے کی تنخواہ کا۲۰؍ فیصد چھ ماہ کے لیے موخر کیا جائے گا۔جبکہ اعلیٰ بیوروکریٹس بشمول چیف سکریٹری، ایڈیشنل چیف سکریٹریز، سکریٹریز اور ڈی جی پی رینک کے افسران کی تنخواہ کا۳۰؍ فیصد موخر کیا جائے گا جبکہ دیگر افسران کی تنخواہ کا ۲۰؍فیصد موخر کیا جائے گا۔اس کے علاوہ اے ڈی جی پی سے ڈی آئی جی رینک تک کے پولیس افسران کی تنخواہ کا بھی۳۰؍ فیصد موخر کیا جائے گا، ایس پی لیول کے افسران کا۲۰؍ فیصد، اور دیگر عملے کا۲۰؍ فیصد۔اس کے علاوہ ملازمین کے لیے۳؍ فیصد تنخواہ میں اضافے کا منصوبہ چھ ماہ کے لیے موخر کر دیا جائے گا۔ گروپ ڈی کے ملازمین کو اس عرصے کے دوران یہ اضافہ نہیں ملے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ’’محمد دیپک‘‘ کیس میں ایف آئی آر منسوخی سے انکار
وزیر اعلیٰ سکھو نے مرکز پر ریونیو ڈیفیسیٹ گرانٹ بند کرنے کا الزام عائد کیا ہے، اور اسے ایک بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ہمیں گرین بونس دیا جانا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے، ریونیو ڈیفیسیٹ گرانٹ روک دی گئی ہے، جس سے ریاست پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔‘‘انہوں نے بی بی ایم بی اور جی ایس ٹی معاوضے کے تحت تقریباً۷؍ ہزار کروڑ روپے کے بقایا جات، جی ایس ٹی کی وجہ سے تخمینہ شدہ۲۵؍ ہزار کروڑ روپے کا نقصان، اور بڑھتے ہوئے قرضے کے بوجھ کی طرف بھی اشارہ کیا، اور زور دیا کہ حکومت عوام پسندانہ فیصلوں کی بجائے مالی استحکام پر توجہ مرکوز کرے گی۔