Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہماچل پردیش: ریکارڈ سیاحتی ہجوم، ٹریفک جام، مقامی آبادی کیلئےبڑھتے چیلنجز

Updated: June 12, 2026, 10:06 PM IST | Shimla

ہماچل پردیش میں سیاحوں کی ریکارڈ آمد نے ریاست کی معیشت کو فائدہ پہنچایا ہے، لیکن اس کے ساتھ ٹریفک جام، ماحولیاتی آلودگی، فضلہ، پانی و سیوریج کے مسائل اور مقامی آبادی کی مشکلات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ صرف مئی ۲۰۲۶ء میں لاکھوں سیاح ریاست پہنچے، جس سے شملہ، منالی اور اٹل ٹنل جیسے مقامات پر شدید دباؤ پیدا ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر منظم سیاحت نہ صرف مقامی ماحولیات بلکہ ہمالیائی گلیشیئرز اور قدرتی وسائل کے لیے بھی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ہماچل پردیش میں سیاحوں کی بے مثال آمد نے جہاں ریاست کی معیشت کو نئی توانائی بخشی ہے، وہیں ٹریفک، آلودگی، فضلہ اور ماحولیاتی دباؤ کے سنگین مسائل بھی نمایاں کر دیے ہیں۔ مقامی رہائشیوں، سرکاری حکام اور ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ اگر سیاحتی سرگرمیوں کو منظم نہ کیا گیا تو ریاست کے حساس پہاڑی نظام کو طویل المدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ۲۴؍ مئی کو شملہ کے رہائشی نتیش ٹھاکر معمول کے مطابق اپنے گاؤں واپس جا رہے تھے، جو کُلّو ضلع میں تقریباً ۲۰۰؍ کلومیٹر دور واقع ہے۔ عام حالات میں چار گھنٹے میں طے ہونے والا سفر اس روز چھ گھنٹے پر محیط ہو گیا کیونکہ شملہ منالی شاہراہ پر سیاحتی گاڑیوں کی غیر معمولی بھیڑ نے ٹریفک کا نظام مفلوج کر دیا تھا۔ اسکرول کی ایک رپورٹ کے مطابق نتیش ٹھاکر نے بتایا کہ ’’تنگ سڑکوں پر گاڑیاں ایک دوسرے کو اوور ٹیک کرنے کی کوشش کرتی ہیں، جس سے ٹریفک جام مزید سنگین ہو جاتا ہے۔ کئی نجی سیاحتی گاڑیاں لین ڈسپلن کی پابندی نہیں کرتیں اور تصاویر بنانے کے لیے اچانک سڑک کے بیچ رک جاتی ہیں۔‘‘

اعداد و شمار کے مطابق صرف مئی میں تقریباً آٹھ لاکھ سیاحتی گاڑیاں مختلف راستوں سے شملہ میں داخل ہوئیں، جبکہ ۲۲؍ سے ۲۴؍ مئی کے درمیان صرف تین دنوں میں تقریباً ۷۰؍ ہزار گاڑیاں شہر پہنچیں۔ شملہ چونکہ ریاست کے متعدد معروف سیاحتی مقامات کا مرکزی راستہ ہے، اس لیے سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں، پارکنگ کی شدید قلت اور مسلسل ٹریفک جام معمول بن گئے۔ محکمہ سیاحت کے مطابق ہماچل پردیش میں ۲۰۱۴ء سے ۲۰۲۴ء کے درمیان اوسطاً سالانہ ۶۳ء۱؍ کروڑ سیاح آئے، تاہم ۲۰۲۵ء میں پہلی بار سیاحوں کی تعداد تین کروڑ سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً ۷۲؍ فیصد زیادہ تھی۔

کُلّو ضلع، جہاں منالی واقع ہے، گزشتہ برس ۲۷؍ لاکھ سیاحوں کی میزبانی کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ شملہ میں ۷ء۲۶؍ لاکھ اور سولن ضلع میں تقریباً ۲۴؍ لاکھ سیاح پہنچے۔ سیاحتی دباؤ کی سب سے واضح مثال اٹل ٹنل ہے، جو منالی کو لاہول و اسپیتی سے جوڑتی ہے۔ تقریباً نو کلومیٹر طویل یہ سرنگ روزانہ ۴۵۰۰؍ گاڑیوں کے لیے ڈیزائن کی گئی تھی، مگر رواں سیاحتی موسم میں روزانہ تقریباً ۱۱؍  ہزار گاڑیاں اس سے گزریں۔ بڑھتے دباؤ کے باعث بارڈر روڈز آرگنائزیشن کو سرنگ کا خصوصی حفاظتی آڈٹ بھی کرانا پڑا۔ ہماچل پردیش کے وزیر محصولات جگت سنگھ نیگی نے کہا کہ ’’ہمیں اپنی سیاحتی اور انفراسٹرکچر کی صلاحیت کا دوبارہ جائزہ لینا ہوگا۔‘‘

شملہ پولیس نے بھی صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اضافی انتظامات کیے ہیں۔ شملہ کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ابھیشیک کے مطابق، ’’سیاحوں کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اگر ان کا قیام شملہ میں نہیں ہے تو وہ بائی پاس کا استعمال کریں۔ ہم نے ٹریفک کے فوری انتظام کے لیے ۳۲؍ موٹر سائیکل سوار پولیس اہلکار بھی تعینات کیے ہیں۔‘‘ سیاحتی دباؤ صرف ٹریفک تک محدود نہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کُلّو ضلع کے سرکاری ملازم ہیم راج کے مطابق، ’’لوگ ٹریفک سے بچنے کے لیے صبح بہت جلد گھروں سے نکلتے ہیں، لیکن شام کو واپسی پر گھنٹوں جام میں پھنس جاتے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر اسکول کے بچے ہوتے ہیں جو گھر پہنچنے میں تاخیر کا شکار ہوتے ہیں۔‘‘ رواں موسم میں مقامی افراد اور سیاحوں کے درمیان تنازعات کے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ یکم جون کو منالی کے نگر روڈ پر ایک ۶۰؍ سالہ مقامی شخص اس وقت ہلاک ہو گیا جب دہلی سے آنے والی ایک سیاحتی گاڑی نے اسے ٹکر مار دی۔ عینی شاہدین کے مطابق گاڑی غلط سمت میں چل رہی تھی اور مبینہ طور پر اس میں سوار افراد نشے کی حالت میں تھے۔

اسی طرح ۳۰؍ مئی کو کسول میں پارکنگ کے تنازع پر پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک سیاح پر مقامی شخص کو گولی مارنے کا الزام بھی سامنے آیا۔ماہرین ماحولیات کے مطابق سیاحوں کی بے تحاشا آمد ریاست کے قدرتی وسائل پر بھی دباؤ بڑھا رہی ہے۔ ہماچل پردیش یونیورسٹی کے ۲۰۲۱ء کے ایک مطالعے کے مطابق منالی میں سیاحتی سیزن کے دوران روزانہ تقریباً ۳۵؍ میٹرک ٹن اضافی ٹھوس فضلہ پیدا ہوتا ہے، جبکہ سیوریج کی مقدار ۱۵؍ سے ۱۶؍ ملین لیٹر یومیہ تک پہنچ جاتی ہے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سیاح بڑی مقدار میں پلاسٹک، بوتلیں اور دیگر کچرا پہاڑی علاقوں میں پھینک دیتے ہیں۔ نتیش ٹھاکر کے مطابق، ’’جب لوگ نشے میں ہوتے ہیں تو انہیں ماحول کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ سڑکوں، پہاڑوں اور حساس مقامات پر ہر طرف کوڑا پھینک دیتے ہیں۔‘‘

ماہر گلیشیالوجسٹ ڈاکٹر انیل کلکرنی نے خبردار کیا ہے کہ گاڑیوں سے خارج ہونے والا بلیک کاربن اور دھول گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار بڑھا سکتا ہے۔ ان کے بقول، ’’کچی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیاں بڑی مقدار میں دھول پیدا کرتی ہیں، جو ہوا کے ذریعے گلیشیئرز تک پہنچتی ہے اور برف کے پگھلنے کے عمل کو تیز کرتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سردیوں میں بلیک کاربن برف پر جمع ہو جاتا ہے، جس سے برف جلد پگھلتی ہے۔ اس کے نتیجے میں زمین میں نمی کم ہوتی ہے اور جنگلاتی آگ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: خلیج عمان میں تجارتی جہاز پر امریکی حملے میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک؛ امریکی سفارت کار طلب کرلیا گیا

ڈاکٹر کلکرنی نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’’۱۹۸۸ء میں جب میں پہلی مرتبہ لاہول و اسپیتی گیا تھا تو کئی دنوں تک کوئی انسان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ آج وہی علاقے سیاحوں سے بھرے ہوئے ہیں اور متعدد مقامات کیمپنگ سائٹس میں تبدیل ہو چکے ہیں۔‘‘ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاحت ہماچل پردیش کی معیشت کے لیے ناگزیر ہے اور ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار میں تقریباً 7 فیصد حصہ ڈالتی ہے، لیکن اس کے ساتھ ماحولیات، بنیادی ڈھانچے اور مقامی ثقافت کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر مستقبل میں سیاحتی منصوبہ بندی، فضلہ کے انتظام، ٹریفک کنٹرول اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کو مضبوط نہ بنایا گیا تو ہمالیہ کے اس حساس خطے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK