دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کارکنوں اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے ہر طرح کے قوانین اورحربہ استعمال کر رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ تنقید کا بہترین جواب خاموش کروانا نہیں بلکہ مکالمہ اور جواب دینا ہے۔
EPAPER
Updated: August 01, 2026, 5:04 PM IST | New Delhi
دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ نے ایک بیان میں کہا کہ حکومت کارکنوں اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے ہر طرح کے قوانین اورحربہ استعمال کر رہی ہے، ان کا کہنا ہے کہ تنقید کا بہترین جواب خاموش کروانا نہیں بلکہ مکالمہ اور جواب دینا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اے پی شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت کارکنوں اور مخالفین کو خاموش کرنے کے لیے ہر طرح کے قوانین اور اوزار استعمال کر رہی ہے۔جسٹس شاہ نے کہا کہ تنقید کا بہترین جواب خاموش کروانا نہیں بلکہ مکالمہ اور جواب دینا ہے۔ جمعہ کو گوا ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے مرحوم جسٹس ایچ آر کھنہ کی یاد میں منعقدہ دوسری سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ’’ سپریم کورٹ نے تاریخی طور پر اس نظریے کو برقرار رکھا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی جمہوری اقدار سے گہری جڑی ہوئی ہے، اور آزاد سیاسی بحث عوامی بیداری کو فروغ دیتی ہے اور عدالت کے صحیح کام کرنے میں معاون ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جمہوری معاشرے کو برقرار رکھنے کے لیے متنوع نقطہ ہائے نظر کے احترام اور رواداری کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’تنقید کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ اسے بند کرنا نہیں، بلکہ مقرر کے ساتھ مشغول ہونا اور جواب دینا ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے کہا،’’ لیکن ایسا لگتا ہے کہ آج ہمارے ملک میں حاکم طبقات یہ بھول چکے ہیں۔ بدقسمتی سے، آج کارکنوں، مخالفین اور سیاسی کارٹونسٹوں کے خلاف ہر طرح کے قوانین اور اوزار استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں خاموش اور ہراساں کیا جا سکے۔ اگر نوجوانوں کا ایک گروہ کسی سیاستدان سے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے اس کے استعفیٰ کا تقاضا کرتا ہے، تو انہیں مقدمات اور لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اگر میڈیا ہاؤس موجودہ حکومت پر تنقیدی ہیں، تو ان پر ٹیکس کیس اور مالی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ کہیں کوئی اسٹینڈ اپ کامیڈین کی بات غلط سن لیتا ہے۔ یہ بہت عام ہو گیا ہے۔ کوئی ناراض ہو جاتا ہے اور اگلی خبر یہ آتی ہے کہ کامیڈین جیل میں ہے۔ یہاں تک کہ اگر آپ اس پروگرام کے منتظم ہیں جس نے ایسے کامیڈین کو بلایا، تو آپ کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ باہر نکلنے میں ہفتے بلکہ مہینے لگ سکتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اراکین پارلیمان کا رام مندر چندہ چوری معاملے کو تمثیلی انداز میں پیش کرکے احتجاج
مزید برآں انہوں نے ملک بھر میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف حالیہ طلبہ احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاج مخصوص امتحانات جیسے نیٹ تک محدود نہیں، بلکہ یہ جمہوری توانائی کے احیاء کی علامت ہیں۔ برسوں تک بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ اختلافِ رائے ختم ہو رہا ہے، سول سوسائٹی تھک چکی ہے، سیاسی اپوزیشن غیر مؤثر ہے، اور تنقید کی گنجائش مستقل طور پر بند ہو چکی ہے۔ ان نوجوان شہریوں نے دکھایا کہ ہندوستان میں جمہوری روح اب بھی زندہ ہے، احتجاج پرامن تھے اور ان کے مطالبات شفافیت اور احتساب کے لیے معقول تھے۔‘‘جسٹس شاہ نے کہا کہ’’ سڑکیں، عدالتیں اور پارلیمنٹ تمام معاشرے کے تکمیلی ستون ہیں۔ ججوں کو ہیرو ایکٹوسٹ بننے کی ضرورت نہیں، انہیں صرف اپنا کام آزادانہ اور بے خوفی سے کرنے، قانون کی حکمرانی، فطری انصاف کے اصولوں اور آئینی اخلاقیات کی پاسداری پر توجہ دینی چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’جنتر منتر پر پتھرائو بی جے پی کے غنڈوں نے کیا تھا‘‘
انہوں نے کہا کہ بلڈوزر سیاست عدالتی اختیار سے ہٹ کر استعمال کیے جانےحربے نظر آتے ہیں۔ آج بلڈوزر اس طاقت کی علامت ہے جو قانونی اجازت اور اختیار کے بغیر استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں ریاست خود تفتیش کار، پراسیکیوٹر، جج اور جلاد بن جاتی ہے اور بغیر مقدمہ چلائے ملزمان کے مکانات کو بلڈوزر سے گرادیتی ہے۔ اس مسماری سے پورے خاندانوں اور برادریوں کی زندگیاں تباہ ہو جاتی ہیں۔ اگر قانون کی حکمرانی کی جگہ بلڈوزر، انکاؤنٹر اسکواڈ اور سرکاری کمیشن لے لیں، تو عدالتوں اور ججوں کا کیا کردار رہ جائے گا؟
یہ بھی پڑھئے: آج امیت شاہ پونے میں، کانگریس کو پولیس نے احتجاج کی اجازت دی
بعد ازاں جسٹس شاہ نے کہا کہ’’ جب بھی حکومت کو اپنے لیے خطرہ محسوس ہوتا ہے، شہریوں کو بنیادی مواصلات سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں انٹرنیٹ بندشوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ حال ہی میں دہلی میں بھی موبائل نیٹ ورک کچھ دیر کے لیے بند کر دیے گئے۔ مجموعی طور پر، یہ تمام چیزیں ایک حکمت عملی اور ریاستی اجارہ دارانہ گفتگو کی طرف دانستہ دھکیلنے کی نشاندہی کرتی ہیں۔ آج اظہارِ رائے کی آزادی پر ایک خوفناک سایہہے، اور بدقسمتی سے عدالتیں بھی ان معاملات کو جلد سننے سے گریز کر رہی ہیں۔‘‘