Inquilab Logo Happiest Places to Work

امسال قربانی کی کھالوں کی قیمت میں بہتری کی امید

Updated: May 27, 2026, 11:03 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

تاجروں نےکہا: وہ کھالیں خریدیں گے، مدارس نے مختلف کیفیات کا حوالہ دیا۔

Goat Skin.Photo:INN
بکرے کی خال۔ تصویر:آئی این این
امسال قربانی کی کھالوں کے دام میں کچھ بہتری کی امیدہے۔ چمڑاکے تاجروں نے کھالیں خریدنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس سے یہ امید ہے کہ گزشتہ سال جیسے حالات پیدا نہیں ہوں گے اورقربانی کی کھالیں ضائع نہیں ہوں گی۔ نمائندۂ انقلاب نے تاجروں سےبات چیت کی ۔انہوں نے کیا کہا؟ اسےذیل میںدرج کیاجارہا ہے ۔ 
تاجروں کی زبانی 
چمڑےکے بڑے تاجر عبدالعزیز عرف اجّی نے بتایاکہ’’ اس دفعہ گزشتہ سال سے بہتر حالات ہیں ، ہم لوگ چمڑا خریدیں گے ۔ ‘‘ انہوںنےیہ بھی بتایا کہ ’’ بکرے کی کھال ۴۰؍ روپے میںاوربڑے جانور کی کھال ۱۰۰؍روپے میںلی جائیں گی مگر کھالیں احتیاط سے چھڑائی جائیں تاکہ کٹیں نہ اورجمع کرانے میں بھی جلدی کی جائے تاکہ شدید گرمی کےسبب خراب ہونے کااندیشہ نہ رہے۔‘‘ ’’مارکیٹ کچھ بہتر ہوا ہے‘‘
ایک اوربڑے تاجرشیخ ساجد عرف سجّونےکہاکہ ’’ مارکیٹ کچھ بہتر ہوا ہے اس لئے امید ہے کہ گزشتہ سال جیسے حالات نہیںرہیں گے ۔ کھالیں خریدی جائیں گی اورکوشش کی جائے گی کہ کھالیں ضائع نہ ہوں۔‘‘ 
 
 
انہوں نے یہ بھی کہاکہ ’’ پہلے کانپور میں چمڑا انڈسٹری برباد کی گئی اب مغربی بنگال میںبھی یہ صنعت بری طرح سے متاثر ہوئی ہےمگراچھا یہ ہوا کہ مسلمانوں نے دانشمندی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ 
ایک اورتاجرمنّو بھائی نے بتایاکہ’’ وہ کرلا ، ساکی ناکہ اورخیرانی روڈ وغیرہ علاقوں میں۸؍تا ۱۰؍ ہزار کھالیں خریدتے ہیں ،امسال بھی خریدیںگے مگر اب تک دام وغیرہ طے نہیں کیا گیا ہے۔‘‘ ان کایہ بھی کہنا تھا کہ ’’اگر دوسرے تاجر بہترقیمت پر کھالیں خریدتے ہیںتو اس سے بہتر اور کیا ہوسکتا ہے۔‘‘ مدارس کے ذمہ داران نے کیا کہا؟تحسین احمد(دارالعلوم محمدیہ )نے بتایاکہ ’’بدھ کو مغرب کی نماز کے بعد ٹینڈر کھلے گا تب ہی صحیح اندازہ ہوگا کہ کھالوں کی قیمت کیا ہوگی، اسی حساب سے کھالیںجمع کرنے کے تعلق سے فیصلہ کیا جائے گا۔ ابھی تک اس بارے میںحتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ۔‘‘
 
 
جامعہ عربیہ معراج العلوم چیتا کیمپ کےنائب ناظم مولانا محمدزاہدقاسمی نے بتایا کہ’’ ممبئی کی سطح پر کھالیں جمع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے البتہ مدرسے کے قریب علاقے میں کھالیں جمع کی جائیںگی اور مقامی لوگ ازخود پہنچا بھی دیں گے، ساتھ ہی کچھ رقم بھی دے دیںگے ۔ اس کے بعد کھالیںتاجر کوپہنچاد ی جائیں گی ۔‘‘ 
دارالعلوم امدادیہ کے ٹرسٹی مولانا محمود خان دریابادی نے کہا کہ’’ امسال کھالیں جمع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘‘جامعہ عربیہ منہاج السنہ کے ذمہ دار مولانا نوشاد احمد صدیقی نے بتایاکہ’’ باضابطہ کھالیںجمع کرنے کا نظم نہیںکیا گیا ہے مگر جو لوگ مدرسے میں پہنچائیں گے وہ کھالیں ملاڈ میں تاجر کو پہنچادی جائیں گی۔ ‘‘ جامعہ رحمانیہ کاندیولی کے سربراہ مولانا محمدالطاف رحمانی کے مطابق’’ مدرسہ میںجمع کرائی جانے والی کھالیں بغیرطے شدہ قیمت کے قصائی کو بلاکر دے دی جاتی ہیں، اس دفعہ بھی یہی نظم رہے گا ۔‘‘ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK