پہلی بارحق رائے دہی کا استعمال کرنے والے نوجوانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا، کہا : ووٹ دے کر ذمہ دارشہری ہونے کا حق ادا کیا ہے۔
۸؍ سال بعد ہونے والے بی ایم سی انتخابات میں ایک طرف جہاں شہری حق رائے دہی کا استعمال کرنے میں انتہائی جوش وخروش کا مظاہرہ کرتے ہوئے دکھائی دیئے وہیںان نوجوانوں اور طلبہ کی خوشی کا بھی کوئی ٹھکانہ نہیں تھا جنہوںنے پہلی بار ووٹ دے کر ذمہ دار شہریوں کی فہرست میں اپنا نام درج کرایا ہے۔
انجمن سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول میں پہلی بار ووٹ دینے والی حریہ رفیق شیخ جو صوفیہ کالج سے گریجویشن کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایس این ڈی ٹی یونیوسٹی سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کررہی ہیں ، نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ مجھے پہلے بار ایسا محسوس ہوا کہ میں نے ووٹ دے کر ایک ذمہ دار شہری ہونے کا حق ادا کیا ہے۔ پولیٹیکل سائنس کی طالبہ ہونے کے ناطے شہریوں کے حقوق کے تئیں ، کارپوریٹر ، ایم ایل اے اور ایم پی کی کیا ذمہ داریاں ہوتی ہیں ، یہ میں بخوبی جانتی ہوں۔ اس لئے ایک عام شہری ہونے کے ناطے یہی چاہتی ہو ں کہ جس کسی سیاسی جماعت کا امیدوار فتح حاصل کرے ، اس کارپوریٹر کو اپنے علاقے کے عوام سے کئے گئے وعدوں کو نہ صرف یاد رکھنا چاہئے بلکہ اسے پورا بھی کرنا چاہئے ۔‘‘
پہلے بار ووٹ دینے والے ۲۱؍ سالہ خان محمد عاطف محمد نفیس کا تعلق کرلا کے جری مری علاقے سے ہے ۔ محمد عاطف کے بقول ’’ اکثر میں نے دیکھا اور اپنے والدین اور بزرگوں سے سنا ہے کہ الیکشن کے وقت امیدوار ہاتھ جوڑ کر گھر گھر جاتا ہے اور ووٹ کی بھیک مانگتا ہے پھر پانچ سال تک عوام کو اس سے بنیادی سہولتوں کیلئے بھیک مانگنا پڑتی ہے لیکن میں نے اپنے علاقے کے امیدوار کو ووٹ اس امید پر دیا ہے کہ جیتنے کے بعد وہ عوام کی بنیادی ضرورت پانی ، بجلی ،سڑک اور بہتر تعلیمی ادارے قائم کرے گا۔‘‘
خان محمد عامل علیم اس بات سے خوش ہیں کہ انہوں نے پہلی بار ووٹ دے کر اپنا شہری فرض ادا کیا ہے ۔ محمد عامل کے بقول ’’جس طرح ہم نے ووٹ دے کر امید وار کو چنا ہے ، اسی طرح ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہم کئے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر اس سے سوال جواب کریں اوراسے کام کرنے پر مجبور کریں۔‘‘