Updated: March 28, 2026, 8:04 PM IST
| Paris
ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ توانائی کی ترسیل، عالمی قیمتوں اور سفارتی کوششوں پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ فرانس نے صنعتی شعبے کو بچانے کیلئے ہنگامی پیکیج متعارف کروایا، جبکہ یورپی یونین اور خلیجی قیادت نے ہرمز بحران کو عالمی معیشت کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔
(۱) فرانس کا ۷۰؍ ملین یورو ہنگامی پیکیج، صنعتوں کو بچانے کی کوشش
فرانسیسی حکومت نے مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پیدا ہونے والے ’’قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے بحران‘‘ سے نمٹنے کیلئے ۷۰؍ ملین یورو کا ہنگامی امدادی منصوبہ شروع کیا ہے۔ حکام نے کہا کہ یہ پیکیج خاص طور پر توانائی سے متاثرہ صنعتوں کیلئے ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’ہم اپنی معیشت اور صنعتوں کو غیر یقینی صورتحال سے بچانا چاہتے ہیں۔‘‘ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ جنگ کے اثرات یورپی معیشت تک پہنچ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی نیٹو چھوڑنے کی دھمکی، ایران کو ’بدمعاش‘ قراردیا، ہرمز پر نیا تنازع
(۲) ایران کی رضامندی، ہرمز سے انسانی ہمدردی کے جہازوں کو محفوظ راستہ
ایران نے اقوام متحدہ کی درخواست پر آبنائے ہرمز کے ذریعے انسانی ہمدردی کے جہازوں کی محفوظ نقل و حمل پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ اقدام کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ انسانی امداد کو روکا نہیں جائے گا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہرمز عالمی تجارت کا اہم ترین راستہ بنا ہوا ہے۔
(۳) ڈاکٹر سلطان الجابر کا بیان، ’’ایران نے ہرمز کو یرغمال بنا رکھا ہے‘‘
متحدہ عرب امارات کے وزیر ڈاکٹر سلطان الجابر نے کہا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ’’یرغمال‘‘ بنا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جب ایران ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے تو ہر ملک اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سے عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ یہ بیان خلیجی ممالک کی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسپین کے وزیر اعظم کا یورپ پر زور،کہا امریکہ کےآگے نہ جھکیں
(۴) یورپی یونین کی کوششیں، ہرمز بحران کا سفارتی حل تلاش کیا جا رہا ہے
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کلاس نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حل تلاش کرنے کیلئے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم فوجی حل کے بجائے سفارتی راستہ چاہتے ہیں۔‘‘ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ یورپ جنگ کے پھیلاؤ سے بچنا چاہتا ہے۔ یہ پیش رفت عالمی سفارتی کوششوں کو واضح کرتی ہے۔