او ای سی ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق۱۵؍ سال کی عمر کے طلبہ نے۲۵؍ سالوں میں بدترین PISA نتائج درج کیے، جب کہ تین میں سے ایک طالب علم بنیادی پڑھنے اور ریاضی کی مہارتوں سے محروم ہے۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 8:59 AM IST | Berlin
او ای سی ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق۱۵؍ سال کی عمر کے طلبہ نے۲۵؍ سالوں میں بدترین PISA نتائج درج کیے، جب کہ تین میں سے ایک طالب علم بنیادی پڑھنے اور ریاضی کی مہارتوں سے محروم ہے۔
جرمن طلبہ نے PISA ٹیسٹ میں اب تک کے سب سے کم اسکور حاصل کیے، ۱۵؍ سال کی عمر کے طلبہ نے۲۵؍ سالوں میں بدترین PISA نتائج درج کیے، جب کہ تین میں سے ایک طالب علم بنیادی پڑھنے اور ریاضی کی مہارتوں سے محروم ہے ۔منگل کو جاری کردہ او ای سی ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق،۱۵؍ سال کی عمر کے جرمن طلبہ نے اس وقت سے کمزور ترین کارکردگی دکھائی جب OECD نے ۲۵؍سال قبل اپنے PISA ٹیسٹ شروع کیے تھے، اور تقریباً تین میں سے ایک طالب علم پڑھنے اور ریاضی میں بنیادی سطح تک پہنچنے میں ناکام رہا۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے۱۰؍ اسکولوں کو مثالی بنانے کا منصوبہ
بعد ازاں طلبہ نے سائنس میں۴۸۶؍، پڑھنے میں۴۶۵؍ اور ریاضی میں۴۶۴؍ پوائنٹس حاصل کیے۔۲۰۲۵ء کے اوسط نتائج جرمنی میں ریاضی اور پڑھنے میں۲۰۲۲ء سے کم تھے، اور سائنس میں۲۰۲۲؍ کے تقریباً برابر رہے۔ تقریباً چار میں سے ایک۱۵؍ سالہ طالب علم میں سائنس کی بنیادی مہارتوں کی کمی تھی۔وزیر تعلیم کرین پرین نے برلن میں صحافیوں کو بتایا’’آج ہم جو دیکھ رہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں، ایک تشویشناک علامت ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ بڑی تعداد میں نوجوان اپنے مستقبل کے تعلیمی راستوں کے لیے درکار بنیادی اہلیت حاصل کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔‘‘ اور مزید کہا کہ سوشل میڈیا، مصنوعی ذہانت، اور سماجی و معاشی طور پر پسماندہ پس منظر کے طلبہ کے مشکل حالات بڑے مسائل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پونے: ایم پی ایس سی کی مبینہ بدعنوانی کیخلاف زبردست احتجاج
واضح رہے کہ پروگرام فار انٹرنیشنل سٹوڈنٹ اسسمنٹ (PISA) جانچتا ہے کہ آیا۱۵؍ سالہ طلبہ روزمرہ کے کاموں میں علم استعمال کر سکتے ہیں، جیسے کہ ایک لمبی ای میل کو سمجھنا، قیمتوں کا موازنہ کرنا یا چارٹ پڑھنا۔ یاد رہے کہ موسم بہار۲۰۲۵ء میں جرمنی کے تقریباً۲۵۰؍ اسکولوں میں تقریباً ۶۷۰۰؍ طلباء نے حصہ لیا۔ عالمی سطح پر،۹۱؍ ممالک اور معیشتوں کے تقریباً۷۶۰۰۰۰؍ طلبہ نے ۲۰۲۵ء کے ٹیسٹ دیے۔ملکی سطح پر تاریخی گراوٹ کے باوجود، جرمنی سائنس میں۴۸۲؍، پڑھنے میں ۴۶۱؍ اور ریاضی میں۴۶۳؍ کے OECD اوسط کے قریب رہا۔ جبکہ چودہ OECD ممالک، بشمول اسٹونیا، کینیڈا، سوئٹزرلینڈ اور آسٹریا، نے مجموعی طور پر زیادہ اسکور حاصل کیے۔ نیدرلینڈز اور فرانس جرمنی کے قریب تھے۔