سعودی فضائی دفاع نے ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا؛ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کردی، ریاض نے حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی کو ’ریڈ لائن‘ قرار دے دیا۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 11:57 AM IST | Riyadh
سعودی فضائی دفاع نے ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کیا؛ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی تردید کردی، ریاض نے حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی کو ’ریڈ لائن‘ قرار دے دیا۔
سعودی عرب نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے مکہ مکرمہ کی طرف آنے والے ایک ڈرون کو مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے مار گرایا۔ سعودی قیادت میں یمن میں سرگرم اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ڈرون کو ۱۵؍ ستمبر کی شام تقریباً ۶:۵۰ بجے مکہ کے جنوب میں روکا گیا اور اسے تباہ کردیا گیا، جبکہ اس کا ملبہ شہر کے جنوب میں گرا۔
ترکی المالکی نے اس واقعے کو مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی دوسری کوشش قرار دیا۔ ان کے مطابق اس سے قبل ۲۷؍ جولائی ۲۰۱۷ء کو بھی حوثیوں کی جانب سے مکہ کی سمت ایک بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین اور زائرین کی سلامتی سعودی عرب کے لیے ’’ریڈ لائن‘‘ ہے اور مزید حملوں کو روکنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔
تاہم حوثی حکام نے سعودی عرب کے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ حوثی سیاسی دفتر کے رکن حازم الاسد نے کہا کہ مکہ مکرمہ یا کسی دوسرے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ یوں ڈرون کے مکہ کی جانب جانے اور اسے کس نے لانچ کیا، اس بارے میں سعودی اور حوثی بیانات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب سعودی عرب کے متعدد علاقوں میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سکیورٹی الرٹس جاری کیے گئے۔ ۱۵؍ ستمبر کو مکہ مکرمہ، جدہ، طائف اور دیگر علاقوں میں مختصر مدت کے لیے ہنگامی انتباہ جاری کیا گیا، جسے بعد میں سعودی حکام نے خطرہ ٹلنے کے بعد ختم کردیا۔ مکہ مکرمہ میں جاری کیا جانے والا یہ الرٹ موجودہ علاقائی جنگ کے دوران شہر کے لیے پہلا ایسا انتباہ تھا۔
اس سے ایک روز قبل سعودی قیادت میں اتحاد نے بتایا تھا کہ حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں میں خمیس مشیط، ابہا اور طائف کے علاقوں میں ۱۳؍ شہری زخمی ہوئے جبکہ ۷؍ مکانات اور ۲؍ گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ حوثیوں نے ان حملوں کو سعودی کارروائیوں کے جواب میں کیا گیا فوجی آپریشن قرار دیا تھا۔
مکہ مکرمہ میں خطرے کا یہ واقعہ یمن میں کئی برس کی نسبتاً کم شدت کے بعد دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ حوثیوں اور یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی فورسز کے درمیان جولائی کے آغاز سے لڑائی میں شدت آئی ہے، جبکہ سعودی عرب بھی دوبارہ براہِ راست سکیورٹی دباؤ کا سامنا کررہا ہے۔ یمن میں جنگ کا موجودہ سلسلہ ۲۰۱۴ء میں حوثیوں کے دارالحکومت صنعاء اور دیگر علاقوں پر قبضے کے بعد شدت اختیار کرگیا تھا، جس کے بعد سعودی قیادت میں اتحاد نے ۲۰۱۵ء میں مداخلت کی تھی۔
حالیہ کشیدگی کا تعلق صرف سعودی فضائی حدود تک محدود نہیں ہے۔ حوثیوں نے بحیرہ احمر اور باب المندب کے اطراف بھی اپنی کارروائیوں میں اضافہ کیا ہے، جو عالمی بحری تجارت کے لیے اہم راستہ ہے۔ موجودہ علاقائی جنگ کے دوران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہونے کے بعد سعودی عرب کے لیے بحیرہ احمر کا راستہ اپنی تیل کی برآمدات کے متبادل راستے کے طور پر مزید اہم ہوگیا ہے۔
سعودی عرب کے لیے معاملے کی حساسیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام اور خانہ کعبہ واقع ہیں اور شہر سال بھر لاکھوں زائرین کی میزبانی کرتا ہے۔ تنظیم تعاون اسلامی (OIC) نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔