مسلم اکثریتی شہر کے عوام کورونا اور اومیکرون سے کس طرح محفوظ ہیں؟تحقیق کیلئے ایک ٹیم مالیگاؤں پہنچ

Updated: January 12, 2022, 8:01 AM IST | m | malegaon

اِس وقت صرف ملک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر یہ جاننے کا تجسس پیدا ہورہا ہے

Vice Chancellor Retired Lt. Gen. Madhuri Kanetkar and his team
وائس چانسلر ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مادھوری کانیٹکر اور ان کی ٹیم

: اِس وقت صرف ملک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر یہ جاننے کا تجسس پیدا ہورہا ہے کہ پارچہ بافی کے حوالے سے شہرت یافتہ چھوٹے سے شہر مالیگائوں کے عوام ماضی قریب میں کورونا اور حال میں ’اومیکرون ‘سے محفوظ کیوں  ہیں ؟ لوگ یہ جانناچاہتے ہیں کہ آخر وہ کون سی حکمت عملی ہے جس کی وجہ سے کووڈ کی ابتدائی لہر میںیہ شہر بری طرح متاثر ہوا تھا، شرح اموات بھی بڑھی تھی اور مریضوں کی تعداد بھی اچھی خاصی تھی لیکن بہت جلد اس شہر نے اس صورتحال پر قابو پالیا تھا۔ کورونا کو مات دی تھی اور اومیکرون سے بھی بہت حد تک محفوظ ہے۔ اِن خیالات کا اظہار مادھوری کانیٹکر نے مالیگائوں دورے کے موقع پرکیا۔
 مہاراشٹر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس کی جانب سے ایک ٹیم عالمی وبائی مرض کووڈ کے پس منظر میں تحقیقی کاموں میں مصروف ہے۔مہاراشٹر کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری متذکرہ یونیورسٹی کے چانسلر ، ریاست کے کابینی وزیر میڈیکل ایجوکیشن امیت دیشمکھ اِس یونیورسٹی کے پروچانسلر اور ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل مادھوری کانیٹکر اس کی وائس چانسلر ہیں۔
  وائس چانسلرکانیٹکر نے کہا کہ مجھے بتایا گیا کہ یہاں کے لوگ چائے کا استعمال زیادہ کرتے ہیں۔وبائی مرض کی شدت کے ایام میںچائے کے ساتھ مخصوص قسم کی جڑی بوٹیوں کے سفوف بھی کرونا سے تدارک کیلئے مستعمل رہا۔روزمرہ کی غذائی اشیاء میں گرم مسالے کااستعمال اور اس کی مقدار بھی وبائی مرض سے مدافعت کیلئے کارآمدہوئی ۔ مقامی حکیموں کا تیار کردہ کاڑھا، جوشاندہ اور مشروب بھی اس مرض میںقابل استعمال رہا۔ایسے تمام نکات پر محققین تحقیقی کام کریں گے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ریسرچ ورک ’میڈیکل گرائونڈ‘پر کیاجارہاہے اس کیلئے شہریوں کے خون کے نمونے بھی جمع کئے جائیں گے۔کسی قسم کی افواہ کا شکار نہ ہوں ۔ریسرچ کیلئے آنے والوں کے ساتھ ممکن تعاو ن کریں ۔مالیگائوں میونسپل کارپوریشن ہیلتھ ڈپارٹمنٹ بھی اس مہم میں شانہ بشانہ ہے۔
 ضلع کلکٹر سورج مانڈھرے نے کہا کہ ’مالیگائوں پیٹرن‘پر دستاویزی طبی تحقیق کیلئے مہاراشٹر یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنس نے مالیگائوں کا رُخ کیاہے ۔ملکی اور بین الاقوامی سطح پرطبّی ماہرین اور محققین کے درمیان مالیگائوں پیٹرن کو پیش کیا جائے۔ یہ اُس وقت ممکن ہوگا جب ریسرچ ورک تمام پہلوئوں سے مکمل ہوجائے اور اسے دستاویزی شکل میں محفوظ رکھا جائے۔ مانڈھرے نے کہا کہ مالیگائوں کو بچانے میں یہاں کے سماجی کارکنان اور صحافیوں نے بھی بڑھ چڑھ کر اپنا ذمہ نبھایا ہے ،اِس تحقیقی کام کی تکمیل میںسب کی معاونت ضروری ہے۔اس موقع پر میونسپل کمشنر بھالچندرگوساوی ،ایس ڈی ایم وجئے نندا شرما کے ساتھ میئر طاہرہ شیخ رشید اور ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سپنا ٹھاکرے موجود تھیں۔

malegaon Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK