Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراٹھی سیکھنے کیلئے ڈرائیوروں کو کتنی مہلت دی جائے؟ فیصلہ آج

Updated: April 28, 2026, 10:01 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

مختلف تنظیموں نے ۳ ؍ مہینے تا ایک سال کی مہلت طلب کی۔ تمام آر ٹی او کے افسران کے ساتھ وزیر پرتاپ سرنائک کی آج میٹنگ۔ تبادلۂ خیال کے بعد مہلت کی مدت طے کی جائے گی۔

Scene Of Transport Minister Pratap Sarnaik`s Meeting With Representatives Of Rickshaw And Taxi Drivers` Organizations.Photo:INN
رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی تنظیموں کے نمائندوں کے ہمراہ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کی میٹنگ کا منظر-تصویر:آئی این این
رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی لازمی قرار دینے کے تعلق سے پیر کو وزیر ٹرانسپورٹ اور مختلف تنظیموں کے نمائندوں اور سنجے نروپم کے درمیان میٹنگ ہوئی جس میں تنظیموں کی جانب سے ڈرائیوروں کو مراٹھی سیکھنے کیلئے ۳؍ مہینوں سے ایک سال تک کی مہلت طلب کی گئی۔ اب منگل (آج) کو تمام آر ٹی او کے افسران کے ساتھ وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک کی میٹنگ ہوگی جس میں مشورہ سے مراٹھی سیکھنے کیلئے مدت طے کئے جانے کا امکان ہے۔
پیر کو ہونے والی میٹنگ میں ڈرائیوروں کیلئے فوری طور پر مراٹھی لازمی قرار دینے کی مخالفت کرنے والے شیوسینا (شندے)  کے لیڈر سنجے نروپم، حاجی عرفات شیخ، مزدور یونین کے صدر ششانک رائو اور دیگر تنظیموں کے نمائندے اوردوسری طرف وزیر ٹرانسپورٹ پرتاپ سرنائک، ٹرانسپورٹ کمشنر راجیش نارویکر اور دیگر سرکاری افسران موجود تھے۔ سنجے نروپم نے ایک روز قبل ہی وزیر ٹرانسپورٹ کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ مراٹھی لازمی قرار دینے کے فیصلے کو ۶؍ ماہ کیلئے موخر کیا جائے۔ ان کے علاوہ میٹنگ میں موجود نمائندوں میں سے کسی نے ۳؍ ماہ،کسی نے ۶؍ ماہ تو کسی نے ایک سال کی مہلت طلب کی۔
ان نمائندوں نے پرتاپ سرنائک سے یہ بھی سوال کیا کہ حکومت ڈرائیوروں سے کس سطح کی مراٹھی چاہتی ہےجس پر انہوں نے کہا کہ مسافر کہاں جانا چاہتا ہے، کتنے پیسے ہوں گے یا اور سفر کے تعلق سے کوئی ضروری ہدایت دینا چاہتا ہے تو اتنا سمجھ اور بول سکے۔
 
 
میٹنگ کے بعد صحافیوں سے گفتگو کے دوران پرتاپ سرنائک نے کہا کہ اس میٹنگ میں ان افراد کو بلایا گیا تھا جو مراٹھی لازمی قرار دینے کی مخالفت کررہے تھے لیکن میٹنگ میں کسی نے بھی اس فیصلے کی مخالفت نہیں کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ جو لوگ اس موضوع پر ہڑتال پر جانے کی دھمکی دے رہے تھے، انہوں نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ہڑتال نہیں کریں گے۔ انہوں نے صرف یہ درخواست کی کہ ڈرائیوروں کو مراٹھی سیکھنے کیلئے مناسب مہلت دی جائے اور حکومت مراٹھی سکھانے کیلئے کیا اقدام کررہی ہے ،وہ بتایا جائے۔ اس پر پرتاپ سرنائک نے یہی باتیں دہرائیں کہ ’کوکن مراٹھی ساہتیہ پریشد‘ اور ’ممبئی مراٹھی ساہتیہ سنگھ‘ نے مراٹھی سکھانے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اس پر کسی تنظیم کے نمائندے نے کہا کہ وہ اپنی یونین کے دفتر میں تو کسی نے ہال بُک کرکے ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی سیکھنے کا نظم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
 
 
مراٹھی سیکھنے کیلئے دی جانے والی مہلت کی مدت کے سوال پر پرتاپ سرنائک نے کہا کہ حکومت نے ابتداء سے کہا ہے کہ کسی کا روزگار چھیننا مقصد نہیں ہے اس لئے اگر مطالبہ کیا گیا تو سرکار مہلت دینے کیلئے تیار ہے۔ اگر اتنے برسوں تک حکومت نے انتظار کیا ہے تو مزید کچھ انتظار کرلیں گے لیکن کوئی یہ کہے گا کہ وہ مہاراشٹر میں روزگار کمائے گا لیکن مراٹھی نہیں سیکھے گا تو یہ نہیں چلے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ منگل کو تمام ۵۹؍ آر ٹی او دفاتر کے افسران کے ساتھ صبح ۱۰؍ بج کر ۳۰؍ منٹ پر میٹنگ کرنے والے ہیں۔ اس میٹنگ میں مشورہ کے بعد طے کیا جائے گا کہ کتنی مہلت دی جائے کیونکہ صرف اعلان اور کسی کی تسلی کیلئے مہلت دینا مقصد نہیں ہے بلکہ اس کیلئے جوابدہی بھی ہونی چاہئے کہ جو مہلت دی جارہی ہے، اس میں ڈرائیور ضرور مراٹھی سیکھ لیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK