• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

متعدد ممالک میں طوفان دتوا کے سبب سیکڑوں افراد ہلاک

Updated: November 30, 2025, 3:28 PM IST | Agency | Bangkok/Colombo

سیلاب اور زمین دھنسنے سے انڈونیشیا کے جزیرے سماترا میں ۳۰۰؍افراد جاں بحق،تھائی لینڈ میں ۱۶۲؍اورسری لنکا میں ۱۵۳؍ہلاک۔

In Sri Lanka, roads have become a model of a pond where rescue operations are being carried out by boats. One such boat can be seen in the picture below. Photo: PTI
سری لنکا میں سڑکیں تالاب کا نمونہ بنی ہوئی ہیں جہاںکشتیوں کے ذریعہ امدادی سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔ زیر نظر تصویر میں ایسی ہی ایک کشتی دیکھی جاسکتی ہے۔ تصویر:پی ٹی آئی
 ’دتوا‘ نامی طوفان کے سبب جنوب مشرقی ایشیا کےکئی ممالک میں شدید بارش سے پیدا ہونے والے سیلاب میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ طوفان ’دتوا‘ کے سبب انڈونیشیا،تھائی لینڈ اور سری لنکا بری طرح متاثر ہیں۔ ان ممالک میں ہی بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہے جس سے سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ خبر لکھے جانے تک انڈونیشیا کے جزیرے سماترا میں ۳۰۰؍، تھائی لینڈ میں ۱۶۲؍ اور سری لنکا میں ۱۵۲؍افراد کی ہلاکت کی خبر موصول ہوچکی ہے۔
تھائی لینڈ میں ۳۶؍لاکھ افراد متاثر
تھائی لینڈ میں شدید بارش کے باعث آنے والے سیلاب میں اب تک کم از کم ۱۶۲؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں اورکئی علاقوں میں پانی کی سطح اب بھی خطرناک حد پر ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں سونگ کھلا میں رپورٹ ہوئی ہیں۔تھائی لینڈ کے ڈپارٹمنٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے مطابق جنوبی صوبوں کےبارہ اضلاع میں تقریباً۱۲؍ لاکھ گھروں اور۳۶؍ لاکھ سے زائد افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔ ہنگامی امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں خوراک، پانی، ریسکیو بوٹس اور دیگر ضروری سامان فراہم کر رہی ہیں۔
تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے سونگ کھلا میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا ہے اور رائل تھائی آرمڈ فورسز کے کمانڈر کو امدادی کارروائیوں کی قیادت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ علاقے میں مزید بارش کی پیش گوئی کے بعد شہریوں سے محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سری لنکا میں ۳۰۰؍ملی میٹر بارش
سری لنکا میں سائیکلون دتوا کے بعد تباہی کے اثرات اب بھی جاری ہیں۔ سری لنکا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر ۱۵۲؍ ہو گئی ہے جبکہ ۱۳۰؍ افراد لاپتہ ہیں۔ سب سے زیادہ نقصان کینڈی اوربادولا اضلاع میں ہوا، جہاں ۸۶؍افراد ہلاک اور متعدد لاپتہ ہیں۔ متاثرہ افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق حکام کا کہنا ہےکہ زیادہ تر اموات لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے ہوئی ہیں، شمالی اور مشرقی علاقوں میں ۳۰۰؍ملی میٹر تک ہونے والی بارش لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ بنی۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ سینٹر کے مطابق طوفان اور سیلابی صورتحال کے سبب ملک بھر میں۴۴؍ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، متاثرہ افراد کو اسکولوں اور پبلک مقامات میں منتقل کیا گیا ہے۔ سری لنکن محکمہ آبپاشی کا کہنا ہےکہ ملک کے مشرقی اور جنوبی علاقے جو پہلے سے ہی سیلاب سے متاثرہ ہیں وہاں مزید سیلاب متوقع ہے جب کہ دارالحکومت کولمبو میں بھی سیلاب کا خطرہ ہے۔حکام کے مطابق سیلاب کے باعث متعدد افراد نے گھروں کی چھتوں پر پناہ لے رکھی تھی جنہیں ہیلی کاپٹرز کے ذریعے ریسکیو کیا گیا ہے۔
انڈونیشیا کا شمالی سماترا سب سے زیادہ متاثر
ہمسایہ ملک انڈونیشیا کے سماترا جزیرے میں بھی شدید سیلاب اور لینڈ سلائیڈز نے کم از کم۳۰۰؍ افراد کی جان لے لی ہے اور ہزاروں بے گھر ہو گئے ہیں۔ شمالی سماترا سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جبکہ مغربی سماٹرا اور آچے کے کچھ علاقے بھی شدید نقصان سے دوچار ہوئےہیں۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث غیر متوقع اور شدید بارش اور سیلاب قدرتی آفت کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ان کا اصرار ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو موسمی تبدیلیاں مستقبل میں انسانی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔
قومی ادارہ برائے آفات کے سربراہ سوہاریانتو نے اس سے قبل  کہاتھا کہ شمالی سُماترا سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ آفت کی تباہ کاریاں اپنے چوتھے دن میں ہیں اور تلاش کے آپریشن مشکل زمینی حالات،نقصان زدہ رسائی راستوں اور خراب موسمی حالات کی وجہ سے متاثر ہورہے ہیں۔ کئی متاثرہ علاقے اب بھی ناقابلِ رسائی ہیں، اور حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ 
انہوں نے خبردار کیا’’اب بھی ایسے مقامات ہیں جہاں ہم رسائی حاصل نہیں کر سکے اور وہاں اضافی متاثرین کے خدشات قوی  ہیں۔‘‘امدادی ٹیمیں زمین اور فضا سے کاروائیاں کر رہی ہیں، تاہم مشکل زمینی راستے بھاری مشینری کی تعیناتی میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔ مقامی حکام کے ساتھ رابطہ جاری ہے تاکہ ہلاکتوں کے بارے میں تازہ معلومات فراہم کی جا سکیں اور اہم لاجِسٹک ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ عہدیداروں نے علاقائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ سب سے زیادہ مصروف انخلا مراکز پر طبی اسٹیشنز اور عوامی کچن جلد قائم کریں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK