• Sun, 18 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی پولیس کیخلاف سیکڑوں خواتین کا احتجاج

Updated: October 18, 2026, 9:45 AM IST | New Delhi

پولیس کمشنریٹ تک مارچ، گیانیش کمار کیخلاف احتجاج میں جنسی تشدد اوربدسلوکی کیخلاف میمورنڈم دیا، امیت شاہ کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

Hundreds of activists from women`s organizations staged a massive protest outside the Police Commissionerate in Delhi. Photo: PTI
دہلی میں خواتین تنظیموں کی سیکڑوں کارکنوں نے پولیس کمشنریٹ کے باہر زبردست احتجاج کیا۔ تصویر: پی ٹی آئی

الیکشن کمیشن آف انڈیا اور گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاجی سلسلے کے دوران خواتین مظاہرین کے ساتھ دہلی پولیس اہلکاروں کی جانب سے مبینہ ہراسانی، تشدد اور بدسلوکی کے الزامات کے خلاف سنیچر کو خواتین کی متعدد تنظیموں اور سماجی کارکنوں نے دہلی پولیس ہیڈکوارٹرس تک احتجاجی مارچ کیا۔ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کی مبینہ زیادتیوں پر جوابدہی طے کرنے، الزامات کی منصفانہ تحقیقات کرانے اور قصوروار ثابت ہونے والے اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی دہرایا گیا۔ مظاہرین گرودوارہ بنگلہ صاحب کے قریب جمع ہوئے اور ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھائے دہلی پولیس ہیڈکوارٹرس کی جانب مارچ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری نظام میں احتجاج کرنا شہریوں کا حق ہے اور اس حق کو استعمال کرنے والے افراد کو پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کی جنسی ہراسانی، تشدد یا توہین آمیز سلوک کا سامنا نہیں ہونا چا ہئے۔ مظاہرین نے متعلقہ حکام کو میمورنڈم پیش کرکے مطالبہ کیا کہ احتجاج کے دوران خواتین کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے تمام واقعات کی تحقیقات کی جائے اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ خواتین تنظیموں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ۲۰؍ جولائی سے پولیس کارروائیوں کے دوران خواتین مظاہرین کے ساتھ مبینہ جنسی ہراسانی اور جسمانی تشدد کے واقعات پیش آنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں جبکہ ۲؍ اکتوبر کے بعد اس نوعیت کی شکایات میں اضافہ ہوا ہے۔ تنظیموں کے مطابق، ویڈیوس، تصاویر اور متاثرین کے ذاتی بیانات میں بدسلوکی کے واقعات درج ہیں، جن کی بنیاد پر معاملے کی سنجیدہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

یہ بھی پڑھئے: ۸۰؍ کروڑ نوجوانوں کو روزگار نہیں مل سکے گا، عالمی معیشت کو بڑے بحران کا سامنا

میمورنڈم میں ایک نوجوان خاتون صحافی کی شکایت کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ ایک اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس (اے سی پی) رینک کے افسر نے انہیں نامناسب طریقے سے چھوا اور پھر بدسلوکی کی۔ خواتین تنظیموں کے بیان کے مطابق خاتون صحافی نے مبینہ واقعے کے خلاف شکایت درج کرانے کی کوشش کی تو انہیں حراست میں لے لیا گیا اور ان سمیت دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔ اس احتجاج میں شامل کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی رہنما اور نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن (این ایف آئی ڈبلیو) کی سابق جنرل سیکریٹری اینی راجہ نے احتجاج کے دوران خواتین کے سا تھ بدسلوکی پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ اے این آئی کے مطابق انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج میں شریک خواتین کو نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ انہیں خاموش کرایا جاسکے۔ اینی راجہ نے مرکزی حکومت پر بھی سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ خواتین کو خوفزدہ کرنے کیلئے جنسی تشدد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ دہلی پولیس مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، اس لئے ان واقعات کی ذمہ داری سے حکو مت کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس احتجاجی مارچ میں آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمنز ایسوسی ایشن، نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن، آل انڈیا پروگریسیو ویمنز ایسوسی ایشن، آل انڈیا مہیلا سنسکرتک سنگٹھن، کلیکٹیو، آل انڈیا فیمینسٹ الائنس، آل انڈیا کوآرڈی نیشن کمیٹی آف ورکنگ ویمن، پرگتی شیل مہیلا سنگٹھن اور پروگامی مہیلا سنگٹھن سمیت متعدد خواتین اور طلبہ تنظیموں نے حصہ لیا۔ 
خواتین تنظیموں نے کیا الزام عائد کیا ہے؟
خواتین تنظیموں نے الزام لگایا کہ بعض مواقع پر مرد پولیس اہلکاروں نے خواتین مظاہرین کے ساتھ جسمانی تشدد کیا۔ بعض ویڈیوس میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کو خواتین مظاہرین پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ حراستی بسوں اور حراستی مراکز کے اندر بھی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں جن میں جنسی تشدد بھی شامل ہے۔ تنظیموں نے ان واقعات کو خواتین کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا۔ 
ابھیجیت دپکے کی گرفتاری اور پھر رِہائی 
گزشتہ روز ’ترنگا مارچ‘ کے دوران حراست میں لئے گئے کاکروچ جتناپارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے کو دہلی پولیس کے ذریعہ گرفتار کئے جا نے کے بعد سب ڈویزنل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ عدالت نے مشروط ضمانت دے دی ہے۔ دوسری جانب آئیسا کی صدر نیہا بورا کو بھی سنیچر کی صبح رہا کردیا گیا۔ دہلی پولیس نے دپکے کو گرفتار کرکے ان کے خلاف دفعہ ۱۷۰، ۱۲۶ ؍کے تحت مقدمہ درج کیا تھا اور صبح عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK