Updated: October 17, 2026, 10:01 PM IST
| New York
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے سربراہ الیگزینڈر ڈی کرو نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ۱۰؍ سے ۱۵؍ برسوں میں روزگار کی تلاش میں لیبر مارکیٹ میں داخل ہونے والے تقریباً ۱۲۰؍ کروڑ نوجوانوں کے مقابلے میں صرف ۴۰؍ کروڑ ملازمتیں پیدا ہونے کا اندازہ ہے۔ اس طرح تقریباً ۸۰؍ کروڑ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع میسر نہیں آسکیں گے۔ ان کے مطابق، یہ فرق ترقی پذیر ممالک میں تیزی سے بڑھتی نوجوان آبادی اور روزگار پیدا کرنے کی ناکافی صلاحیت کا نتیجہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومتوں کو پالیسی سازی، سرمایہ کاری اور روزگار کی منصوبہ بندی میں فوری تبدیلیاں کرنا ہوں گی۔
اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو نے منگل کو عالمی روزگار کے مستقبل سے متعلق تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ ڈیڑھ دہائی میں روزگار کی منڈی میں داخل ہونے والے نوجوانوں کی تعداد اور دستیاب ملازمتوں کے درمیان بہت بڑا فرق پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے یہ بات بنکاک سے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہی، جہاں وہ عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کررہے تھے۔ ڈی کرو کے مطابق، اگلے ۱۵؍ برسوں میں تقریباً ۲ء۱؍ ارب نوجوان اپنی تعلیم مکمل کرکے روزگار کی تلاش میں لیبر مارکیٹ میں داخل ہوں گے، لیکن ان میں سے صرف ۴۰؍ کروڑ افراد کے لیے ملازمتیں دستیاب ہونے کا اندازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ باقی ۸۰؍ کروڑ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونا ایک سنگین معاشی اور سماجی مسئلہ بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اٹلی: حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج
یو این ڈی پی سربراہ نے اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ کئی ترقی پذیر ممالک میں نوجوان آبادی کے تناسب کو قرار دیا۔ ان کے مطابق، ایسے ممالک میں اوسط عمر تقریباً ۱۸؍ سے ۲۵؍ برس کے درمیان ہے، جس کے باعث ہر سال بڑی تعداد میں نوجوان تعلیم مکمل کرکے کام کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ اگر معیشتیں اسی رفتار سے روزگار پیدا نہ کرسکیں تو نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے لیے مناسب ملازمتیں فراہم کرنا مشکل ہوجائے گا۔ ڈی کرو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ صورتِ حال کوئی ناگزیر مستقبل نہیں، بلکہ پالیسیوں اور منصوبہ بندی کے ذریعے اس میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ مسئلہ اپنے آپ حل نہیں ہونے والا، یہ دراصل غلط پالیسیوں اور منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے۔‘‘ ان کے مطابق، حکومتوں کو روزگار پیدا کرنے کے لیے سرمایہ کاری بڑھانے، کاروبار کے فروغ اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر توجہ دینا ہوگی۔
یو این ڈی پی نے ۱۳؍ اکتوبر کو بنکاک میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر ترقی پذیر معیشتوں میں سرمایہ کاری اور روزگار کے فروغ کے لیے دو نئے اقدامات کا اعلان بھی کیا۔ ان میں انویسٹمنٹ ایکسیلیریٹر اور جابز فار پراسپرٹی فیسیلٹی شامل ہیں، جن کا مقصد ممالک کو سرمایہ کاری حاصل کرنے، کاروباری ماحول بہتر بنانے اور زیادہ اور بہتر معاوضے والی ملازمتیں پیدا کرنے میں مدد دینا ہے۔ ان اقدامات کے لیے عالمی بینک گروپ، یورپی سرمایہ کاری بینک اور یورپی بینک برائے تعمیرِ نو و ترقی کے ساتھ شراکت داری کو وسعت دی جارہی ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد حکومتی معاشی ترجیحات، مالی وسائل، نجی سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنا ہے، تاکہ ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ کاری محض منصوبوں تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے نتیجے میں حقیقی ملازمتیں اور آمدنی کے مواقع بھی پیدا ہوں۔ یو این ڈی پی کے مطابق، نوجوانوں کے لیے روزگار کے بڑھتے ہوئے خلا کو کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری اور معاشی پالیسیوں کو روزگار کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں مبینہ ووٹ چوری کے خلاف دھرو راٹھی کا لندن میں احتجاج کا اعلان
عالمی سطح پر روزگار کے اس ممکنہ بحران کا تعلق صرف ملازمتوں کی تعداد سے نہیں، بلکہ اس بات سے بھی ہے کہ نئی نسل کو اپنی تعلیم، تربیت اور صلاحیتوں کے مطابق کام مل سکے۔ اگر نوجوانوں کو مناسب روزگار فراہم نہ کیا گیا تو اس کے اثرات آمدنی، معاشی ترقی اور سماجی استحکام پر بھی پڑسکتے ہیں۔ یو این ڈی پی کا مؤقف ہے کہ بروقت اقدامات کے ذریعے نوجوان آبادی کو معاشی بوجھ کے بجائے ترقی اور خوش حالی کے ایک بڑے موقع میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔