جمائیکا کے سینٹ ایلزبتھ ضلع کے سانتاکروز علاقہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم سڑکیں بند ہو گئی ہیں، گلیاں کیچڑ کے تالابوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
EPAPER
Updated: October 31, 2025, 2:28 PM IST | Agency | Jamaica
جمائیکا کے سینٹ ایلزبتھ ضلع کے سانتاکروز علاقہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم سڑکیں بند ہو گئی ہیں، گلیاں کیچڑ کے تالابوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
صدی کے سب سے طاقتور ترین طوفانوں میں سے ایک ’میلیسا‘ نے کیوبا، ہیتی اور جمائیکا میں زبردست تباہی مچا دی ہے۔ اس طوفان کے سبب درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں گھروں کی چھتیں اُڑ گئیں، بجلی کے کھمبے گر گئے اور جگہ جگہ پانی اور ملبے کے ڈھیر نظر آ رہے ہیں۔ سب سے زیادہ۳۰؍ ہلاکتیں کیوبا میں بتائی جا رہی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً ۶۵؍افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جمائیکا کے سینٹ ایلزبتھ ضلع کے سانتاکروز علاقہ میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث اہم سڑکیں بند ہو گئی ہیں، گلیاں کیچڑ کے تالابوں میں تبدیل ہو چکی ہیں، لوگ گھروں سے پانی نکالنے کی کوشش کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس طوفان کی تیز رفتاری سے ایک ہائی اسکول کی چھت بھی اُڑ گئی، جسے ریلیف کیمپ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔مقامی رہائشی جینیفر اسمال نے میڈیا کو بتایا کہ ’’میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔ ابھی تک نقصان کا مکمل اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے کیونکہ کئی علاقوں میں بجلی اور رابطہ نظام ٹھپ ہے۔‘‘ جمائیکا کی وزیرِ تعلیم ڈانا مورس ڈِکسن کا کہنا ہے کہ ’’فی الحال ہم یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘‘قابل ذکر ہے کہ ’میلیسا‘ نے منگل کو جمائیکا میں پانچویں زمرہ کے طوفان کے طور پر۲۹۵؍ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دستک دی تھی۔ یہ بحر اوقیانوس کی تاریخ کے سب سے طاقتور طوفانوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ بعد میں یہ کیوبا کی سمت بڑھ گیا، لیکن اس کے اثرات ارد گرد کے ممالک پر بھی پڑے۔ہیتی میں اس طوفان کی وجہ سے۲۵؍ افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ۱۸؍ لاپتہ ہیں۔ ہیتی کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق مرنے والوں میں سے۲۰؍، جبکہ لاپتہ افراد میں سے۱۰؍ جنوبی ساحلی قصبہ کے رہائشی ہیں جہاں سیلاب کے باعث درجنوں مکانات منہدم ہو گئے۔ جمائیکا میں بھی اب تک۸؍ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیوبا میں بدھ کو متعدد عمارتیں منہدم ہوئیں، سڑکیں بند ہو گئیں اور چھتیں اُڑ گئیں۔ سب سے زیادہ نقصان جنوب مغربی اور شمال مغربی علاقوں میں ہوا ہے۔ حکام کے مطابق تقریباً۷؍ لاکھ۳۵؍ ہزار افراد اب بھی ریلیف کیمپوں میں ہیں۔سینٹیاگو دی کیوبا کے۵۲؍ سالہ رہائشی رینالڈو چرون نے بتایا کہ وہ رات جب طوفان آیا ، وہ جہنم جیسا تھا، پوری رات خوفناک گزری۔ اچھی بات یہ ہے کہ طوفان میں نرمی پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرینِ موسمیات نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اب یہ زمرہ۲؍ کا طوفان بن چکا ہے اور اگلے چند گھنٹوں میں بہاماس میں تیز ہواؤں اور سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔بہرحال، جمائیکا میں۲۵؍ ہزار سے زیادہ افراد ریلیف کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ طوفان نے ان کے گھروں کی چھتیں اُڑا دیں اور انہیں بے گھر کر دیا۔ وزیرِ توانائی ڈِکسن نے بتایا کہ۷۷؍ فیصد علاقوں میں بجلی معطل ہے۔ محکمہ آفاتِ سماوی کے ڈائریکٹر رچرڈ تھامسن کے مطابق کچھ مقامات پر مواصلاتی نظام مکمل طور پر بند ہے، جس سے نقصان کا تخمینہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔ وزیرِاعظم اینڈریو ہولنیس نے کہا کہ ’’دوبارہ تعمیر میں وقت لگے گا، لیکن حکومت پوری طرح متحرک ہے۔ ریلیف سامان تیار کیا جا رہا ہے اور ہم معمول کی صورتحال بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔‘‘اس درمیان بلیک ریور کے میئر رچرڈ سلیمان نے کہا کہ ’’جو منظر ہم دیکھ رہے ہیں، اس کے مقابلے میں ’تباہ کن‘ لفظ بھی چھوٹا پڑ جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ مقامی اسپتال، پولیس اور ریلیف خدمات سیلاب کے باعث ناکارہ ہو گئی ہیں۔ دوسری طرف وزیرِ ٹرانسپورٹ ڈیرل واز نے کہا کہ۲؍ ہوائی اڈے اب ریلیف پروازوں کے لئے کھولے جا رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایجنسیاں اور کئی غیر سرکاری تنظیمیں ریلیف سامان تقسیم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’تباہی بہت بڑی ہے، ہمیں متحد ہو کر کام کرنا ہوگا تاکہ ضرورت مندوں کی مدد کی جا سکے۔‘‘