مرکزی حکومت نے مسافر گاڑیوں کیلئے نیا ’’کارپوریٹ ایوریج فیول اکنامی ‘‘ کے معیار کا مسودہ جاری کردیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 11:31 AM IST | New Delhi
مرکزی حکومت نے مسافر گاڑیوں کیلئے نیا ’’کارپوریٹ ایوریج فیول اکنامی ‘‘ کے معیار کا مسودہ جاری کردیا ہے۔
مرکزی حکومت نے مسافر گاڑیوں کیلئے نیا ’’کارپوریٹ ایوریج فیول اکنامی ‘‘ کے معیار کا مسودہ جاری کردیا ہے۔ یہ نئے ضوابط یکم اپریل۲۰۲۷ء سے نافذ ہوں گے۔اس پالیسی کا بنیادی مقصد کاروں کی ایندھن کی کارکردگی یعنی مائلیج بڑھانا اور ماحول کو آلودگی سے بچانا ہے۔ اس سے اتھنال، ہائبرڈ اور الیکٹرک سے چلنےوالی کاریں سستی ہو سکتی ہیں جبکہ زیادہ آلودگی پھیلانے والی پیٹرول اور ڈیزل کاریں مہنگی ہو سکتی ہیں۔
الیکٹرک اور ہائبرڈ کاریں سستی کیوں ہو ں گی
نئی پالیسی میں حکومت کمپنیوں کو ای وی اور ہائبرڈ کاریں فروخت کرنے پر ’سپر کریڈٹ‘ دے گی۔ اگر کوئی کمپنی ایک الیکٹرک کار فروخت کرتی ہے تو اسے کاغذات میں۳؍کاروں کے برابر شمار کیا جائے گا۔ ایک ہائبرڈ کار کو۱ء۶؍کاروں کے برابر شمار کیا جائے گا۔اس سے کمپنیوں کیلئے آلودگی کم کرنے کا اپنا ہدف پورا کرنا آسان ہو جائے گا۔ ایسے میں کمپنیاں ان کاروں کو پرکشش قیمتوں یا آفرس کے ساتھ فروخت کر سکتی ہیں تاکہ ان کی فروخت میں اضافہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے: او این جی سی کے نئے چیئرمین کی دوڑ میں رنجیت رتھ سمیت کئی بڑے نام شامل
پیٹرول اور ڈیزل کاریں مہنگی کیوں ہو سکتی ہیں
زیادہ آلودگی پھیلانے والی یعنی کم مائلیج والی کاریں کمپنیوں کیلئے مشکل کا باعث بنیں گی۔ اگر کسی کمپنی کی کاروں کا اوسط اخراج مقررہ حد سے زیادہ ہوتا ہے تو اسے نقصان ہوگا۔اس نقصان کی تلافی کیلئے کمپنیوں کو دوسری کمپنیوں یا حکومت سے کریڈٹ خریدنے ہوں گے، جن کی قیمت۲۵۰۰؍ روپے سے۴۵۰۰؍ روپے فی گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ تک ہوگی۔کمپنیاں اس کا بوجھ زیادہ آلودگی پھیلانے والی کاروں کی قیمت بڑھا کر صارفین پر ڈالیں گی۔