خواتین کمیشن کی سابق چیئرپرسن کی طویل پوسٹ، میڈیا کی خبروں کو ’یکطرفہ ‘ اور انہیں بدنام کرنے والی بتایا، بیڑ سے آئے خط پر بھی ناراضگی ۔
روپالی چاکن کر (چھتری ہاتھ میں) اشوک کھرات اور اپنی بہن پرتبھا چاکن کر کے ساتھ- تصویر:آئی این این
خواتین کمیشن کی سابق چیئر پرسن روپالی چاکن کر نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کے بعد ایک طویل پوسٹ سوشل میڈیا پر لکھی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کچھ لوگ انہیں بدنام کرنے اور پھنسانے کیلئے دانستہ ان پر بغیر کسی ثبوت کے الزامات لگا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں اشوک کھرات کے معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی کے نام بیڑ سے کسی گمنام شخص نے خط بھیجا ہے جس میں دعوی کیا گیا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کی جان کو خطرہ ہے اور جن لوگوں سے خطرہ ہے ان میں روپالی چاکن کر بھی شامل ہیں۔
اسی پس منظر میں چاکن نے سوشل میڈیا پر لکھا ہے کہ ’’مہاراشٹر کے سیاسی میدان میں آج تک کئی لوگوں پر الزامات لگائے گئے، میڈیا نے ان الزامات کے ثبوت پورے مہاراشٹر کو دکھائے اور الزام لگانے والوں نے ثبوت کے ساتھ الزام بھی لگایا۔ تاہم آج ۲۸؍ دن ہوچکے ہیں اور وقتاً فوقتاً مجھ پر اور میرے خاندان پر صرف اور صرف بدنامی کیلئے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات لگائے جارہے ہیں۔ الزام لگانے والوں نے اس حوالے سے نہ تو ثبوت فراہم کئے ہیں اور نہ ہی میڈیا نے ان سے مانگا ۔‘‘ انہوں نے آگے لکھا ہے ’’ اس کے علاوہ جو لوگ گمنام خط کے حوالے سے الزامات لگا رہے ہیں وہ بتائیں کہ وہ خط ان تک کیسے پہنچا؟ بغیر کسی تفتیش کے، ہتک عزت کے مکروہ منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پولیس انتظامیہ کی جانب سے موصول ہونے والا ایک گمنام خط میڈیا کے حوالے کر دیا گیا اور دن بھر بحث و مباحثہ ہوا۔‘‘
یاد رہے کہ حال ہی میں کسی نے بیڑ ضلع سے اشوک کھرات کے معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی کے نام خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار کی جان کو خطرہ ہے اور جن لوگوں سے انہیں خطرہ ہے ان میں روپالی چاکن کر بھی شامل ہیں۔ اپنی پوسٹ میں چاکن کر نے لکھا ہے ’’ اس( خط) کے پیچھے کس کی ’’ بدعنوانی ‘‘ تھی یہ سامنے آنا چاہئے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’ بیڑ ضلع کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس نونیت کاؤت نے بھی میڈیا کے سامنے واضح کیا ہے کہ ایک گمنام خط جس پر کوئی نام اور پتہ نہیں ہے، اسے کوئی قانونی اہمیت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔‘‘ چاکن کر کا کہنا ہے کہ ’’ پھر بھی اس بات کی تحقیق ہونی چاہئے کہ یہ خط کس نے لکھا ہے اور فساد پھیلانے کیلئے کہاں سے بھیجا گیا ہے؟ اس موقع پر ایک نیا غلط قدم اٹھایا جا رہا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ محض تصور، قیاس آرائیوں، میٹھی کہانیوں اور دلچسپ افواہوں کی بنیاد پر مجھے اور میرے خاندان کو ذہنی طور پر ہراساں اور بدنام کیا جا رہا ہے۔‘‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’’میں پہلے دن سے اپنا موقف مضبوطی اور واضح طور پر پیش کر رہی ہوں۔ درحقیقت ہمارا کسی مالی لین دین، زمین کے لین دین یا کسی اور غلط کام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آخر میں سچ سامنے آجائے گا، یہ میرا پختہ یقین ہے۔‘‘ چاکن کے مطابق’’ پھر بھی، میں نے گزشتہ کچھ دنوں سے میڈیا میں میرے خلاف آ رہی یک طرفہ خبروں پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی وضاحت دی ہے کیونکہ اس کا مقصد ایس آئی ٹی اور تحقیقات کرنے والی جانچ ایجنسی کو غیر جانبدارانہ طور پر تفتیش کرنے کے قابل بنانا ہے۔‘‘
خواتین کمیشن کی سابق چیئرمین روپالی چاکن کر اشوک کھرات کے سب سے قریبی لوگوں میں سے ایک کہلاتی تھیں ۔ کھرات کو ناسک پولیس نے جنسی زیادتی کے معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ چاکن کرکی کھرات کے ساتھ کئی تصاویر ہیں جن میں وہ کھرات کے پیر چھوتے ہوئے اور اس کے پیر دھلواتے ہوئے دیکھی جا سکتی ہیں۔ جب کھرات کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر یہ تصویریں وائرل ہوئیں تو چاکن کرنے بجائے کھرات کی مذمت کرنے کے اس کا دفاع شروع کر دیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ وہ اپنے گرو اشوک کھرات کیلئے ایسے کئی عہدوں کو قربان کر سکتی ہیں۔ بالآخر انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔