جنوبی افریقی ریزرو بینک کے گورنر لیسیٹجا کانیاغو نے ہندوستان کے ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس(یو پی آئی) (UPI) کو ایک مثالی ماڈل قرار دیا ہے۔
EPAPER
Updated: June 14, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi
جنوبی افریقی ریزرو بینک کے گورنر لیسیٹجا کانیاغو نے ہندوستان کے ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس(یو پی آئی) (UPI) کو ایک مثالی ماڈل قرار دیا ہے۔
جنوبی افریقی ریزرو بینک کے گورنر لیسیٹجا کانیاغو نے ہندوستان کے ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس(یو پی آئی) (UPI) کو ایک مثالی ماڈل قرار دیا ہے۔ یہ معلومات جنوبی افریقہ کے آئی او ایل کی رپورٹ میں دی گئی ہیں۔ ایک نئی رپورٹ کے مطابق، جنوبی افریقہ نقدی کے استعمال کو کم کرنے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے اور اس عمل میں یو پی آئی کو ایک کامیاب مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس کے لیے جنوبی افریقہ کو کئی چیلنجز کا سامنا بھی ہے۔
ریزرو بینک کے گورنر نے کہا کہ کئی ممالک کیش لیس معیشت کی طرف جنوبی افریقہ سے کافی آگے ہیں۔ انہوں نے ہندوستان کے یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یوپی آئی) نظام کی مثال دیتے ہوئے اسے ایک ایسا تیز رفتار اور کم لاگت ادائیگی کا ذریعہ قرار دیا جو مہنگے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) ٹرمینلز کے بجائے موبائل نمبر یا کیو آر کوڈ جیسے آسان ذرائع سے ادائیگی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
جنوبی افریقی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ہندوستان اور دیگر ممالک الگ الگ نظام بنانے کے بجائے ایسی ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ گئے ہیں جو مختلف سرکاری محکموں کے ذریعے متعدد خدمات کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔یو پی آئی ہندوستان کے ادائیگی کے نظام (پے منٹ ایکو سسٹم) کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے، جو دنیا کے تقریباً نصف ریئل ٹائم لین دین کو سنبھالتا ہے۔
جنوبی افریقہ کی حکومت ایک مفت، ریئل ٹائم قومی ادائیگی نظام پر کام کر رہی ہے تاکہ ڈجیٹل ادائیگیوں کے ذریعے نقد لین دین کو کم کیا جا سکے۔ اس کا استعمال جنوبی افریقہ کے لوگ مفت میں کر سکیں گے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے’’یہ تجویز جنوبی افریقہ کو ترقی پذیر معیشتوں کے برابر لانا چاہتی ہے جو تیزی سے کیش لیس لین دین کی طرف بڑھ رہی ہیں۔‘‘
ملک میں پری پیڈ کارڈ اور ڈجیٹل والٹ مارکیٹ کے ۲۰۲۴ء میں ۸ء۱۱؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر۲۰۲۹ء تک ۲ء۲۱؍ ارب ڈالر ہونے کا اندازہ ہے۔ تاہم، کیش لیس لین دین کے حوالے سے جنوبی افریقہ کو کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ یہاں ۴۳؍ فیصد بالغ افراد بینکنگ سہولیات سے محروم ہیں۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی رسائی ۷۰؍ فیصد سے کم ہے، اور موبائل ڈیٹا کی قیمت آمدنی کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جسپال رانا کی بایوپک بن رہی تھی، رائے کپور فلمز نے معلومات فراہم کیں
مزید یہ کہ ۲۰۲۴ءمیں جنوبی افریقہ میں ۱۲؍ہزار میگاواٹ سے زیادہ کی غیر منصوبہ بند بجلی بندشیں ریکارڈ کی گئیں، جس سے ڈیجیٹل نظاموں کی قابلِ اعتماد حیثیت پر تشویش اور شکوک پیدا ہوئے۔گورنر نے رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نقدی پر زیادہ انحصار کی وجہ سے خواتین کے لیے گھریلو مالی ضروریات، خاص طور پر بچوں کے لیے ملنے والی امدادی رقم کا انتظام کرنا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ معاشرے کے لیے نقدی پر حد سے زیادہ انحصار مثالی صورتحال نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ویسٹ انڈیز کی خاتون ٹیم نے نیوزی لینڈ کو سات وکٹ سے شکست دی
جنوبی افریقی میڈیا ہاؤس نے کہا’’ہندوستان کا یو پی آئی ایک ڈجیٹل پلیٹ فارم کی کامیابی کی کہانی ہے۔یو پی آئی عالمی سطح پر تسلیم شدہ مالی ٹیکنالوجی کا ایک شاہکار ہے جس نے زیادہ تر نقد پر چلنے والی معیشت کو دنیا کے سب سے بڑے ریئل ٹائم ڈجیٹل ادائیگی کے نظام میں بدل دیا ہے۔‘‘رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ این پی سی آئی انٹرنیشنل پیمنٹس لمیٹڈ (این آئی پی ایل) کی شراکت کے ذریعے ہندوستان کایو پی آئی سنگاپور، متحدہ عرب امارات، ماریشس اور فرانس تک پہنچ چکا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا’’نیپال اور بھوٹان پہلے ہی منتقلی کے لیے یو پی آئی کو اپنا چکے ہیں اور ایشیا، افریقہ اور یورپ کے مرکزی بینکوں اور فِن ٹیک اداروں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔‘‘