مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر جرنگے فرنویس حکومت پر برہم۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 10:51 AM IST | Pandharpur
مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر جرنگے فرنویس حکومت پر برہم۔
کُنبی سرٹیفکیٹ منسوخ کیے جانے پر مراٹھا تحریک کے لیڈر منوج جرنگے پاٹل شدید ناراض ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس، نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور وزیرچندر شیکھر باونکولے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جرنگے نے الزام عائد کیا ہے کہ باونکولے کے حکم پر ہی کُنبی سرٹیفکیٹ منسوخ کئے گئے ہیں۔جرنگے اس وقت مغربی مہاراشٹر کے دورے پر ہیں۔ سانگلی ضلع میں ان کی چار عوامی جلسے ہوں گے۔ اس سے قبل انہوں نے شولاپور، تلجا پور اور پنڈھرپور میں مراٹھا سماج کے لوگوں سے بات چیت کی۔ پنڈھرپور کے جلسے میں انہوں نےسخت بیان دیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔ ٹی وی نائن مراٹھی کی رپورٹ کے مطابق جرنگے پاٹل نے کہا کہ باونکولے کی ایک غلطی کی وجہ سے مراٹھا برادری میں شدید ناراضگی پیدا ہوئی ہے۔ وہ کُنبی سرٹیفکیٹس کو جعلی قرار دے رہے ہیں، جبکہ اصل میں وزیر ہی جعلی ہیں۔ اس معاملے کی وجہ سے ریاست بھر کے مراٹھا سماج میں ناراضگی کی لہر ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ باونکولے کی وجہ سے فرنویس مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ حکومت میری جان لینے کی کوشش کر رہی ہے اور میں بھی جان دے دوں گا۔ لیکن بدلہ لوں گا اور حکومت کو نہیں چھوڑوں گا۔ اگر میں جان لیوا بھوک ہڑتال کر سکتا ہوں تو جان بھی لے سکتا ہوں۔ منوج جرنگے کے اس سخت بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں زبردست بحث شروع ہوگئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پرشانت کشور اور سونیترا پوار کی ملاقات پرسپریہ سُلےکا ردعمل
خیال رہے کہ مراٹھا ریزرویشن تحریک کے لیڈر منوج جرنگے پاٹل کے مغربی مہاراشٹر کے دورے کا آغاز اتوار سے ہوچکا ہے۔ سانگلی ضلع میں ان کے چار مقامات پر عوامی جلسے ہوں گے۔ یہ جلسے آٹپاڑی، کَوٹھے مَہانکال، بورگاؤں اور کڑےگاؤں میں منعقد کیے جائیں گے۔ جرنگے پاٹل اتوار کو آٹپاڑی پہنچے اور شام کو عوامی جلسے سے خطاب کیا۔ آج (پیر )کی صبح وہ کَوٹھے مَہانکال تعلقہ کا دورہ کریں گے، جہاں صبح۱۰؍ بجے عوامی جلسہ ہوگا۔ اس کے بعد دوپہر۳؍ بجے وِالشوا تعلقہ کے بورگاؤں میں مراٹھا سماج کی جانب سے عوامی جلسے کا انعقاد کیا گیا ہے۔ جبکہ کڑےگاؤں تعلقہ کے دیو راشٹرے میں شام کے وقت جرنگے پاٹل کا عوامی جلسہ ہوگا۔منوج جرنگے پاٹل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندرفرنویس کی بات مان کر ہی وزیر باونکولے نے کُنبی سرٹیفکیٹس کو درست ہونے کے باوجود منسوخ کرنے کا کام کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فرنویس اور شندے کو بتانا چاہیے کہ آخر یہ سرٹیفکیٹس منسوخ کیوں کیے گئے۔ جرنگے پاٹل نے الزام لگایا کہ فرنویس نے نئے منصوبے بنائے ہیں۔ دھاراشیو سے سڑکوں کی سیکوریٹی بھی ختم کر دی گئی۔ منصوبہ یہ تھا کہ مجھ پر حملہ ہو، پتھراؤ ہو اور مارپیٹ کی صورتحال پیدا کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثریت کی وجہ سے حکمرانوں کے سر پر اقتدار کا نشہ چڑھ گیا ہے۔ حکمرانوں کو غرور ہو گیا ہے۔ جب تک ان کا یہ غرور نہیں توڑوں گا، میں خاموش نہیں بیٹھوں گا۔ جرنگے پاٹل نے کہا کہ باونکولے نے کُنبی سرٹیفکیٹس منسوخ کرنے کا جو کام کیا ہے، اس کی اطلاع فڑنویس کو ضرور ہوگی۔ انہوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت میں کسی بھی وزیر کو اپنی مرضی سے ایک روٹی کھانے کا بھی اختیار نہیں ہے۔