آر ایس ایس کی تقریب میں شرکت کرکے تنازع کو جنم دینے والے ناگپور کے نئے پولیس کمشنر وشواس نانگرے پاٹل، پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی جانب سے صفائی پیش کی ہے۔ نانگرے پاٹل نے کہا کہ’’میری وابستگی صرف ہندوستانی آئین کے ساتھ ہے، اور میں نے اس پروگرام میں کسی بھی آئینی اصول کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔
آر ایس ایس کی تقریب میں شرکت کرکے تنازع کو جنم دینے والے ناگپور کے نئے پولیس کمشنر وشواس نانگرے پاٹل، پریس کانفرنس کے ذریعے اپنی جانب سے صفائی پیش کی ہے۔ نانگرے پاٹل نے کہا کہ’’میری وابستگی صرف ہندوستانی آئین کے ساتھ ہے، اور میں نے اس پروگرام میں کسی بھی آئینی اصول کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔
یاد رہے کہ وشواس نانگرے پاٹل کی آر ایس ایس کی تقریب میں شرکت اور تنظیم کے بانیوں کی تعریف پرپہلے کانگریس اس کے بعد ایم این ایس سربراہ راج ٹھاکرے نے تنقید کی تھی اور ان سے سوالات کئے تھے۔ وشواس نانگرے پاٹل نے پریس کانفرنس میں ان تنقیدوں کا جواب دیا۔انہوں نے کہا’’میں انڈین پولیس سروس میں ایک افسر ہوں، میری وابستگی صرف ہندوستانی آئین اور آئین میں موجود اقدار سے ہے۔ ناگپور بابا صاحب امبیڈکر کی ’دکشا بھومی‘ ہے۔ ہم ان کے خیالات، اصولوں کے ساتھ وفادار ہیں اور رہیں گے۔ قانون کی بالادستی کو برقرار رکھنا میرا بنیادی فرض ہے۔‘‘ پولیس کے کام کی نوعیت کی وضاحت کرتے ہوئے، انہوں نے کہا’’پولیسنگ صرف ری ایکٹیو (جرم کے ہونے کے بعد کارروائی کرنا) نہیں ہے، بلکہ پولیس کا ’احتیاطی تدابیر‘ کے ساتھ فعال ہونا بھی ضروری ہے۔ قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ عوام میں شعور پیدا کرنا، تعلیم اور روشن خیالی پیدا کرنا بھی پولیس کا فرض ہے۔ اسلئے سماجی اور ثقافتی تنظیموں کے تعمیری پروگراموں میں شرکت کرکے نوجوانوں ، خواتین اور بزرگوں کی رہنمائی کرنا ہمارے فرض کا حصہ ہے۔‘‘ آر ایس ایس کی تقریب کا پس منظر بتاتے ہوئے نانگرے پاٹل نے کہا ’’اس تقریب کا اہتمام سکل ہندو سماج، سانپاڑا نے ۱۹؍اپریل کو کیا تھا۔ یہ تقر یب وندے ماترم کے ۱۵۰ سال اورآر ایس ایس کے ۱۰۰؍ سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ معروف سی اے، آرکیٹیکٹ اور ڈاکٹر مجھے مدعو کرنے آئے تھے۔ تقریب میرے دفتری اوقات کے بعد، رات ۸؍بجے تھی۔ تقریب میں یوگا انسٹی ٹیوٹ کے ہنسا جی، کسٹم۔جی ایس ٹی کے کمشنر اور اسکان اور برہما کماری کے روحانی گرو کی تقریریں بھی ہوئیں۔‘‘
اپنے سیکولر موقف پر زور دیتے ہوئے، انہوں نے کہا، ’’میں ۳۰؍سال سے پولیس سروس میں ہوں، میں باقاعدگی سے رمضان، عید، جین مت، بدھ مت اور عیسائیت کے بہت سے تعمیری پروگراموں میں شرکت کرتا ہوں، رمضان کے پروگرام میں قرآن کی آیات کی تلاوت کرتا ہوں، جب کہ اس پروگرام میں میں نے اپنشدوں کے ’شانتی منتر‘ پر تفصیل سے بات کی اور میں نے گیانیشوری میںپسائے دان کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ میں نے عالمگیر بھائی چارے اور محبت کا درس دینے والے مذہب کے بارے میں بات کی۔‘‘ افسرنے کہا’’ میں نے اس تقریب میں وہاں کے نوجوانوں کو نشے اور منشیات کے خلاف تعلیم دی۔ میں نے پولیس میں کریئر کے مواقع اور سب سے اہم پریونشن آف کرپشن ایکٹ کی معلومات دی تھی۔ مجھے اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے کہ کسی نے اس کی کیا تشریح کی ہے۔ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ قانون اور قواعد کے دائرہ کار میں کہا ہے۔ اس میں کسی بھی کنڈکٹ رول کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ہے۔‘‘ یاد رہے کہ وشواس نانگرے پاٹل جس آئین کا حوالہ دے رہے تھے آر ایس ایس اس آئین کو بدلنے کی بات کرتی ہے جس افسر نے تذکرہ نہیں کیا۔