۱۴؍ مہینے کی تحقیقات کے بعد میڈیکل آفیسر سمیت ۹؍ افراد کو خاطی پایا گیا ، سماجی کارکن کی کوششوں کے سبب کارروائی انجام دی گئی ۔
مادھا کا دیہی اسپتال جہاں یہ معاملہ پیش آیا تھا- تصویر:آئی این این
شولاپور میں حاملہ خاتون کی ڈیلیوری کے بعد اسپتال کے عملے نے اسی سے صاف صفائی کروائی ۔ اس معاملے میں تفتیش کے بعد کل ۹؍ لوگوں کو معطل کر دیا گیا ہے جن میں ایک ڈاکٹر بھی شامل ہے۔ یہ معاملہ ۱۴؍ ماہ پرانا ہے لیکن کارروائی اب کی بھی ہے۔
اطلاع کے مطابق یہ اپریل ۲۰۲۵ء کی بات ہے جب شولا پور کے مادھا تعلقے میں کھیرائو گائوں سے تعلق رکھنے والی ہیما دھاڈے ( ۳۰) کو ڈیلیوری کیلئے یکم اپریل کو مادھا کےدیہی اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ اسی رات سی آپریشن کے ذریعے اس نے ایک بچے کو جنم دیا۔ بچے کی پیدائش کے بعد اسپتال کے عملے نے ہیما اور اس کے شوہر سے وارڈ اور بیت الخلا کی صفائی کروائی۔ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا تھا جس پر لوگوں نےغم و غصے کا اظہار کیاتھا۔
ڈیلیوری کے بعد خاتون کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہیما مادھے جو اسپتال میں داخل کروائی گئی تھی اس سے اس طرح کی خدمات لی گئیں جو کہ پوری طرح غیر انسانی حرکت تھی ۔ مقامی سماجی کارکن شمبھو ساٹھے نے اس معاملے کی پیروی کی اور اسپتال کے عاملے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ساٹھے کی شکایت کے بعد محکمہ صحت نے تحقیقات شروع کردی۔ تحقیقاتی رپورٹ کی بنیاد پر متعلقہ ملازمین اپنے کام میں غفلت کے مرتکب پائے گئے، ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ معطل کئے گئے ملازمین میں ڈاکٹر ولاس میمانے بھی شامل ہیں جو اسپتال کے میڈیکل آفیسر ہیں۔ ان کے علاوہ دیویہ گاولی، سمیتا جمدادے، چندرکانت گوار، سوداگر جادھو، ستیہ جیت راٹھور، شوبھم ڈکولوار، بھارت کوٹیوانا اور سوپنل جادھو شامل ہیں۔دریں اثنا، اس کارروائی کا خیر مقدم کرتے ہوئے سماجی کارکن شمبھو ساٹھے نے ایک اہم سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس بات کی بھی انکوائری کی ضرورت ہے کہ واقعہ سامنے آنے کے بعد کارروائی میں ۱۴؍ ماہ کیوں لگے؟ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ قصورواروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے لیکن تاخیر کی وجوہات کا سامنے آنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس معاملے نے ایک بار پھر دیہی اسپتالوں میں انتظامات اور مریضوں کے حقوق کے تحفظ کے مسائل پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔ اب سب کی توجہ اس طرف ہے کہ اگلی تفتیش میں مزید کیا معلومات سامنے آتی ہیں۔