عدالت نے کہا ’یہ معاملہ انتہائی غیر معمولی ہے ، مجرم کیلئے پھانسی ضروری ہے‘ ۔
مجرم بھیم رائو کامبلے- تصویر:آئی این این
پونے کے نصرہ پور علاقے میں پیش آئے ساڑھے تین سالہ بچی کی عصمت دری اور قتل کے معاملے میں عدالت نے مجرم قرار دیئے گئے بھیم راؤ کامبلے کو سزائے موت سنائی ہے۔ خصوصی جج ایس آر سالونکھے نے پیر کے روز ۱۳۷؍ صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ سنایا۔ تفتیش اور عدالتی عمل کی تیز رفتاری کے سبب یہ کیس ۲؍ ماہ کی مختصر مدت میں نمٹا دیا گیا۔ یاد رہے کہ کامبلے کو گزشتہ جمعرات کو خصوصی عدالت نے مجرم قرار دیا تھا لیکن سزا کیلئے ۲۹؍ جون کی تاریخ مقرر کی تھی۔
یاد رہے کہ یکم مئی ۲۰۲۶ء کونصرہ پورمیں ایک ساڑھے ۳؍ سالہ بچی غائب ہو گئی تھی۔تلاش کرنے کے بعد اس کی لاش ایک گئو شالہ میں گوبر کے ڈھیر کے نیچے ملی تھی۔ طبی جانچ میں معلوم ہوا تھا کہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے بعد اسے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور آس پاس کے لوگوں سے پوچھ تاچھ کی بنا پر ۶۵؍ سالہ بھیم رائو کامبلے کو گرفتار کیا تھا جس نے اپنا جرم قبول کر لیا تھا۔ تفتیش کے دوران جائے وقوعہ سے شواہد، تکنیکی معلومات، سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر ملزم کے خلاف مضبوط شواہد اکٹھے کئے گئے۔ پولیس نے جلدہی چارج شیٹ داخل کرکے کیس کی سماعت شروع کردی۔حکومت کے مطابق ملزم نے منصوبہ بندی کے ساتھ لڑکی کو اغوا کیا، زیادتی کی اور ثبوت مٹانے کی نیت سے اسے قتل کردیا۔
دوسری جانب دفاع نے دعویٰ کیا کہ پولیس کی جانب سے پیش کئے گئے شواہد حالات پر مبنی تھے اور یہ جرم ’ریئر آف دی ریئر‘ (انتہائی غیر معمولی) کے زمرے میں نہیں آتا لیکن عدالت نے کہا کہ نصرہ پور کیس انتہائی غیر معمولی ہے۔ اس میں سفاکانہ قتل اور دیگر عوامل شامل ہیں۔ عدالت نے کہا کہ عمر اور ذہنی حالت ملزم کے حق میں نہیں ہے۔ ملزم کو سزا سنانے کیلئے تمام پہلوئوں کومدنظر رکھا گیاہے۔جج نے سزا سنانے کے دوران کہا کہ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حتمی فیصلہ تیار کیا ہے۔ ملزم کے خلاف ساتوں الزامات ثابت ہوچکے ہیں۔ اس میں ملک میں سابقہ مقدمات کے فیصلوں کو مدنظر رکھا گیا ہے۔ ماضی میں عصمت دری اور غیر انسانی قتل کے مقدمات میں سزائے موت دی جاتی رہی ہے۔ اس معاملے میں ملزم کی سفاکی کو دیکھتے ہوئے سزائے موت ضروری ہے۔