بی جے پی کے جے کمار گورے نےطنز کیا ’’ اس کیلئے اکثریت درکار ہوتی ہے، اراکین اسمبلی کی تعداد اور حمایت درکار ہوتی ہے ‘‘گوگائولے نے اسے جے پوار کا خواب بتایا۔
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 10:41 AM IST | Pune
بی جے پی کے جے کمار گورے نےطنز کیا ’’ اس کیلئے اکثریت درکار ہوتی ہے، اراکین اسمبلی کی تعداد اور حمایت درکار ہوتی ہے ‘‘گوگائولے نے اسے جے پوار کا خواب بتایا۔
اجیت پوار اور سونیترا پوار کے بیٹے جے پوار نےیہ کہہ کر مہاراشٹر کی سیاست میں کھلبلی مچا دی ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ ۲۰۲۹ء میں ان کی ماں سونیترا پوار ریاست کی وزیر اعلیٰ بنیں۔ اس پر جہاں بی جے پی کی جانب سے ان پر طنز کیا ہے تو دیگر پارٹیوں نے اسے اپنی ماں کیلئے ان کے جذبات قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی بیوہ اورموجودہ نائب وزیر اعلیٰ سونیترا پوار نے ۲؍ لاکھ ۱۸؍ ہزار ووٹوں سے جیت حاصل کر کے ریکارڈ قائم کیا ہے۔ جمعرات کو بارامتی میں ان کی جگہ ان کے بیٹے جے پوار نے جنتا دربار منعقد کیا جس میں بڑی تعداد میں مقامی باشندوں نے اپنے مسائل اور کام ان کے سامنے بیان کئے۔ جنتا دربا ر کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے جے پوار نے کہا ’’ سونیترا پوار ٹھیک اجیت پوار کے نقش قدم پر چل رہی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ۲۰۲۹ء میں انہیں وزیر اعلیٰ بننا چاہئے۔ ‘‘ انہوں نے کہا’’ میں نے حال ہی میں اپنے قریبی ساتھیوں سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ بارامتی کے عوام کی یہ مجموعی خواہش ہے کہ وہ کم از کم اجیت پوار کو ایک بار وزیر اعلیٰ بنتا ہوا دیکھیں۔ اب میری والدہ سونیترا سخت محنت کر رہی ہیں۔ اب ہمیں لگ رہا ہے کہ انہیں ۲۰۲۹ء کا الیکشن لڑنا چاہئے اور وزیر اعلیٰ کا دفتر سنبھالنا چاہئے۔ ‘‘
جے پوار کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے کیونکہ مہایوتی میں سب سے بڑی پارٹی بی جے پی ہے اور عام طور پر وزیر اعلیٰ کی کرسی بی جے پی کیلئے مختص سمجھی جاتی ہے۔ ان کے اس بیان پر بی جے پی لیڈر اور وزیر جے کمار گورے نے طنز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ’’ وزیر اعلیٰ بننے کیلئے اکثریت درکار ہوتی ہے۔ اراکین اسمبلی کی تعداد اور ان کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا ’’۲۰۲۹ء میں بھی دیویندر فرنویس ہی وزیر اعلیٰ ہوں گے۔‘‘ جے کمار گورے کی طرح شیوسینا (شندے) کے رکن اسمبلی بھرت گوگائولے نے بھی جے پوار پر طنز کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’جے پوار کی ماں نے بہت بڑے فرق سے الیکشن جیتا ہے۔ ممکن ہے اس کی وجہ سے جے پوار کو خواب دکھائی دینے لگے ہوں۔ انہیں اپنی خواہش ظاہر کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ البتہ ایک بار جو الفاظ منہ سے نکل جائیں وہ واپس نہیں ہو سکتے۔ ‘‘البتہ شیوسینا ( شندے) کے سینئرلیڈر سنجے شرساٹ نے کہا ہے کہ ’’ جے پوار نے صرف اپنی خواہش ظاہر کی ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔
یاد رہے کہ ۲؍ ہفتے قبل این سی پی (شرد) کی کارگزار صدر سپریہ سلے نے بھی کہا تھا کہ انہیں اپنی بھابھی سونیترا پوار کو ریاست کا وزیر اعلیٰ بنتے ہوئےدیکھ کر بڑی خوشی ہوگی۔ ‘‘اب این سی پی شرد کے رکن اسمبلی اور جے پوار کے چچا زاد بھائی روہت پوار نے بھی ان کی حمایت میں بیان دیا ہے۔ روہت کا کہنا ہے کہ ’’ ہماری بھی خواہش تھی اور دادا (اجیت پوار) کی بھی خواہش تھی کہ ۲۰۲۹ء میں ہم وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے کوشش کریں گی۔ ہماری خواہش تھی اجیت دادا کیلئے تھی۔ دونوں پارٹیوں (شرد پوارگروپ اور اجیت پوار گروپ) کے کارکنان کو متحدکرکے ہم این سی پی کو دوبارہ ایک کر دیتے اور وزیر اعلیٰ کے عہدے کیلئے کوشش کرتے، یہ اجیت دادا کی خواہش تھی۔ ‘‘ انہوں نے کہا’’ ریاست میں بی جے پی کے علاوہ اور کسی کا وزیر اعلیٰ نہیں ہو سکتا۔ کسی اور پارٹی کا وزیر اعلیٰ بنانا ہو تو آپ کو بی جے پی کی مخالفت کرنی ہوگی۔ ‘‘ انہوں نے کہا ’’ آپ اجیت دادا کے آخری ۴؍ ماہ کے بیانات دیکھ لیجئے، وہ بی جے پی کی مخالفت کر رہے تھے۔ ‘‘