سونوگرافی کی مقررہ فیس سے دُگنی رقم وصول کرنے کا انکشاف، کارپوریشن نے تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔
EPAPER
Updated: May 09, 2026, 11:12 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Titwala
سونوگرافی کی مقررہ فیس سے دُگنی رقم وصول کرنے کا انکشاف، کارپوریشن نے تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔
کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن (کے ڈی ایم سی) کے تحت جاری رکمنی پلازہ زچگی اسپتال ایک بار پھر تنازعات میں گھر گیا ہے۔ اسپتال میں سونوگرافی خدمات کے نام پر حاملہ خواتین سے مبینہ طور پر زائد رقم وصول کئے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ جہاں سونو گرافی کی مقررہ فیس صرف ۴۰۰؍روپے ہے وہاں خواتین سے ۸۰۰ ؍سے ۹۰۰؍ روپے تک وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ دور دراز علاقوں سے آنے والی خواتین سے اس مد میں ۲۴۰۰؍ روپے تک لئے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ٹٹوالا، بنیلی، امبرنی اور وڈولی میں رہائش پذیر غریب اور متوسط طبقے کیلئے رکمنی پلازہ میٹرنیٹی اسپتال شروع کیا گیا ہے۔ اس اسپتال میں مختلف قسم کے میڈیکل ٹیسٹ اور سونو گرافی کیلئے ایک پرائیویٹ کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا ہے تاہم نجی ٹھیکہ دار صحت خدمات کے نام پر غریب اور متوسط طبقے کی حاملہ خواتین کا استحصال کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کے ڈی ایم سی: ہر پیر اور منگل کو ۲۴؍ گھنٹے پانی کی سپلائی منقطع رہے گی
مقامی کارپوریٹر اپیکشابھوئیر کے مطابق سرکاری اصولوں کے تحت حاملہ خواتین کی پہلی ۲؍ سونوگرافی مفت ہونی چاہئیں اور اس کے بعد صرف ۴۰۰ ؍روپے فیس مقرر ہے مگر حقیقت میں خواتین سے اس سے کہیں زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ مالی بوجھ ان خواتین پر پڑ رہا ہے جو علاج کی غرض سے دور دراز کے علاقوں سے اسپتال آتی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ٹٹوالا کا رکمنی پلازہ زچگی اسپتال آؤٹ سورسنگ پالیسی کے تحت نجی کمپنی ویسٹرن ہیلتھ کنسلٹنسی کے ذریعہ چلایا جا رہا ہے۔ کمپنی کو عملہ فراہم کرنے، لیبارٹری ٹیسٹ انجام دینے اور سونوگرافی خدمات مہیا کرنے کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ ٹینڈر عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے کمپنی کو مزید ۳؍ ماہ کی توسیع دینے کی تجویز اسٹینڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کی گئی تھی تاہم عوامی نمائندوں کے اعتراض کے بعد اس تجویز کو وقتی طور پر موخر کردیا گیا ہے۔ ادھر محکمۂ صحت کے ڈپٹی کمشنر نے وضاحت پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حاملہ خواتین کی پہلی ۲؍ سونوگرافی کے اخراجات میونسپل کارپوریشن برداشت کرتی ہے اور اس کے بعد صرف ۴۰۰؍ روپے وصول کئے جانے چاہئے۔ اگر اس سے زیادہ رقم وصول کی جا رہی ہے تو یہ واقعی سنگین معاملہ ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کی جائے گی۔