• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی بامبے کے بعد آئی سی ٹی کے طالب علم کی خودکشی

Updated: October 22, 2026, 12:08 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

ماٹونگا کے انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی میں کیمیکل انجینئر نگ کے دوسرےسال میں زیرتعلیم سدھیش پاٹل نے ہاسٹل کے کمرے میں خودکشی کرلی، ڈپریشن کا علاج جاری تھا، منگل کو اپنے ڈاکٹر سے زندگی ختم کرنے کے بارے میں بات بھی کی تھی۔

The building of the Institute of Chemical Technology in Matunga. Photo: INN
ماٹونگا کے انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی کی عمارت۔ تصویر: آئی این این

ماٹونگا کے انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل  ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) میں کیمیکل انجینئرنگ کے دوسرے سال کے طالب علم سدھیش پاٹل نے منگل کی رات اپنے ہاسٹل کے کمرے میں خودکشی کر لی، یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو آئی آئی ٹی بامبے میں دوسرے سال کے طالب علم کی موت پر مسلسل احتجاج اور کیمپس میں ہونے والی موت پر تشویش کے درمیان سامنے آیا ہے ۔پاٹل نے آئی سی ٹی کے ماٹونگا کیمپس میں ہاسٹل نمبر ۵؍ کی دوسری منزل پر اپنے کمرے میں خودکشی کی ۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ واقعہ رات ۱۰؍ بجے سے نصف شب کے درمیان پیش آیا ۔ماٹونگا پولیس کے مطابق ’’سدھیش پاٹل انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی میں کیمیکل انجینئرنگ کے دوسرے سال میں زیر تعلیم تھا۔وہ اپنے ہاسٹل کے کمرے میں مردہ پایا گیا۔ ہم نے حادثاتی موت کی رپورٹ درج کر لی ہے۔‘‘

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ابھی تک موت کی وجہ کا تعین نہیں کر سکی ہے۔ موت کی وجہ کا تعین کرنے کیلئے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کا انتظار ہے ۔ پولیس کے مطابق ہم اس کے خاندان اور دوستوں کے بیانات ریکارڈ کریں گے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ اس نے انتہائی قدم کیوں اٹھایا؟ ہم معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:۶۵ ؍مہاریرا غیر قانونی عمارتوں کے رہائشیوں کی معلومات ہائی کورٹ میں پیش

اگرچہ انسٹی ٹیوٹ نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے ۔ وائس چانسلر اے بی پنڈت نے کیمپس میں پھیلائے گئے ایک پیغام کے ذریعے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کو اس واقعے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔پولیس کو مطلع کر دیا گیا ہے۔ اس کی لاش کو اس کے اہل خانہ کے حوالے کرنے کیلئے ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

ایک ہم جماعت طالب علم کے مطابق ’’پاٹل ناسک کا رہنے والا تھا، شہر میں ایک ڈاکٹر کے پاس ڈپریشن کا علاج کرا رہا تھا۔  پاٹل نے منگل کی رات اپنے ڈاکٹر سے اپنی زندگی ختم کرنے کے بارے میں بات کی تھی۔ اس کے بعد ڈاکٹر نے اس کے والدین کو آگاہ کر دیا تھا، جنہوں نے ہاسٹل میں طلبہ سے رابطہ کرکے ان سے کہا تھاکہ وہ اس کےکمرہ کامعائنہ کریں، جب ہم اس کے کمرے میں پہنچے، وہ مر چکا تھا۔‘‘

یہ واقعہ آئی آئی ٹی بامبے میں ۲۰؍سالہ بی ٹیک کے دوسرے سال کے طالب علم ساحل واکوڈے کی موت کے ایک ماہ بعد پیش آیا ہے، جس کی موت ۱۸؍ ستمبر کو خودکشی سے ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK