• Thu, 22 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۶۵ ؍مہاریرا غیر قانونی عمارتوں کے رہائشیوں کی معلومات ہائی کورٹ میں پیش

Updated: October 22, 2026, 12:05 PM IST | Ejaz Abdul Ghani | Dombivli|

زمین مافیا کی جانب سے میونسپل کارپوریشن اور ریوینیو محکمہ کے فرضی دستاویزات تیار کرکے تعمیر کی گئی درجنوں کثیر منزلہ عمارتوں پر اب مسماری کی تلوار لٹک رہی ہے۔

This building in Dombivli has also been declared illegal. Photo: Inquilab
ڈومبیولی کی اس عمارت کو بھی غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ تصویر:انقلاب

شہر میں بڑے پیمانے پر کھڑی کی گئی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف اب قانونی شکنجہ انتہائی سخت ہو گیا ہے۔زمین مافیا کی جانب سے میونسپل کارپوریشن اور ریوینیو محکمہ کے فرضی دستاویزات تیار کرکے تعمیر کی گئی درجنوں کثیر منزلہ عمارتوں پر اب مسماری کی تلوار لٹک رہی ہے۔بامبے ہائی کورٹ کی سخت ہدایات کے بعد درخواست گزار کی جانب سے مہاریرا کے تحت رجسٹرڈ ۶۵ ؍غیر قانونی عمارتوں کے مکینوں کی تفصیلی فہرست حلف نامے کے ساتھ عدالت میں جمع کرا دی گئی ہے۔اس پیش رفت کے بعد گزشتہ کچھ عرصے سےتعطل کاشکار یہ حساس معاملہ ایک بار پھر گرم ہوگیا ہے۔

چند برس قبل زمین مافیا نے کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن ( کے ڈی ایم سی) کے جعلی تعمیراتی اجازت نامے اور زمین کے جعلی سات بارہ دستاویزات تیار کرکے ۶۵ ؍بڑی عمارتیں کھڑی کر دی تھیں۔ اس جعل سازی کے ذریعے نہ صرف حکومت اور میونسپل انتظامیہ کو کروڑوں روپے کے ریونیو سے محروم کیا گیا بلکہ ان جعلی کاغذات کی بنیاد پر مہاریرا کے سرٹیفکیٹ بھی حاصل کر لئے گئے۔اس کے بعد سادہ لوح خریداروں کو یہ عمارتیں مکمل طور پر قانونی بتا کر فلیٹ فروخت کر دیئے گئے۔معصوم شہری جب اپنے گھروں کے لئے بینکوں سے لئے گئے قرضوں کی قسطیں بھر رہے تھے تب کارپوریشن نے اچانک ان تمام عمارتوں کو غیر قانونی قرار دے دیا اور بلڈروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرا دیئے۔

یہ بھی پڑھئے:آج سائن، ودیا وِہار اور گوریگاؤں - ملنڈ فلائی اوور کا افتتاح

اس سنگین گھپلے کو بے نقاب کرنے کے لئے آرکیٹیکٹ سندیپ پاٹل نے لگاتار میونسپل کارپوریشن و حکومتی دفاتر کے چکر کاٹے لیکن جب کوئی کارروائی عمل میں نہ آئی تو انہوں نے ہائی کورٹ میں مفادِ عامہ کی عرضی دائر کر دی۔ عدالت کے سخت استفسار پر کے ڈی ایم سی  نے خود حلف نامہ جمع کرا کر ان تمام عمارتوں کو گرانے کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ میونسپل انتظامیہ کی اس مجرمانہ خاموشی کے خلاف سندیپ پاٹل نے میونسپل کمشنر سمیت حکومت کے۱۳ ؍ اعلیٰ افسران کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی۔سماعت کے دوران جب سیاسی دباؤ پر ان عمارتوں کو ریگولرائز کرنے کی کوششیں ہوئیں تو عدالت نے واضح کیا کہ صرف وہی عمارتیں محفوظ رہ سکتی ہیں جو قانونی ہوں لیکن بیشتر عمارتیں شرائط پوری نہ کر سکیں اور متعدد عمارتیں تو میونسپل کارپوریشن کے مخصوص محفوظ پلاٹوں پر واقع ہیں۔ عدالت کی ہدایت پر درخواست گزار نے رائٹ ٹو انفارمیشن کے ذریعے کے ڈی ایم سی کے مختلف وارڈوں سے تمام مکینوں کے کوائف حاصل کرکے باضابطہ طور پر عدالت میں داخل کر دیئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK