Updated: August 12, 2026, 10:23 PM IST
| New Delhi
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے بدھ کو رواں سال عالمی تیل کی طلب کے اپنے تخمینے میں نمایاں کمی کردی ہے۔ ایجنسی نے اس کی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں خلل اور تیل کی بلند قیمتوں کو قرار دیا ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی کھپت کو متاثر کررہی ہیں۔
تیل کی قیمت۔ تصویر:آئی این این
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے بدھ کو رواں سال عالمی تیل کی طلب کے اپنے تخمینے میں نمایاں کمی کردی ہے۔ ایجنسی نے اس کی وجہ آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمدورفت میں خلل اور تیل کی بلند قیمتوں کو قرار دیا ہے، جو عالمی سطح پر تیل کی کھپت کو متاثر کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ملیکا شیراوت کا دعویٰ:’’ ٹام کروز کو مجھ پر’ کرش‘ ہے، میں آپ کو ہماری ویڈیوز دکھا سکتی ہوں‘‘
ایجنسی کے نئے تخمینے کے مطابق ۲۰۲۶ء میں عالمی تیل کی طلب میں ۱۶؍ لاکھ بیرل یومیہ کمی متوقع ہے، جبکہ جولائی کی رپورٹ میں اس نے طلب میں ۱۰؍ لاکھ بیرل یومیہ کمی کی پیش گوئی کی تھی۔فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تیل کی قیمتیں اب بھی ان سطحوں سے کافی بلند ہیں جو جنگ شروع ہونے سے قبل ریکارڈ کی گئی تھیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور اہم سپلائی راستے شدید متاثر ہوئے۔
ایران نے بھی آبنائے ہرمز کے ذریعے ٹینکرز اور تجارتی بحری جہازوں کی آمدورفت تقریباً مؤثر طور پر روک دی ہے۔ دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی سپلائی معمول کے حالات میں اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی ہے۔ پیرس میں قائم آئی ای اے نے کہا’’آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش اور ایندھن کی بلند قیمتیں تیل کی کھپت پر بدستور اثرانداز ہورہی ہیں۔‘‘رپورٹ شدہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے قریب ہونے کے بارہا دعوؤں کے باوجود صرف محدود تعداد میں بحری جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جنت زُبیرنے ممبئی کے خوبصورت اور پرتعیش مکان کی جھلک مداحوں کو دکھائی
آئی ای اے کے مطابق اس صورتحال کے نتیجے میں ہونے والی ’’اچانک سفارتی تبدیلیوں‘‘ نے عالمی تیل کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ کیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق جولائی میں عالمی تیل کی سپلائی ۲۴؍ لاکھ بیرل یومیہ بڑھ کر۱۰؍ کروڑ ۱۵؍ لاکھ بیرل یومیہ ہوگئی۔ تاہم یہ مقدار گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں اب بھی ۶۳؍ لاکھ بیرل یومیہ کم ہے۔آئی ای اے نے کہا’’جولائی اور اگست کے اوائل میں دوبارہ شروع ہونے والی دشمنی اور بحری آمدورفت میں رکاوٹوں نے بحالی کی کوششوں کو متاثر کیا۔‘‘ ایجنسی نے اب اندازہ لگایا ہے کہ رواں سال عالمی تیل کی سپلائی میں اوسطاً ۴۳؍ لاکھ بیرل یومیہ کمی آئے گی، تاہم اگلے سال اس میں دوبارہ اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب طلب کے حوالے سے آئی ای اے کو توقع ہے کہ رواں سال کی چوتھی سہ ماہی میں تیل کی کھپت دوبارہ بڑھنا شروع ہوجائے گی۔