۶۰۰؍ سال پرانی شاہی مسجد کے ایک حصہ کا انہدام روکنے کیلئے سیکڑوں کی تعداد میں مسلمان مسجد کے اندر جمع ہوگئے۔
مسجد کے باہر عوام کا جم غفیر دیکھا جاسکتاہے۔ تصویر: آئی این این
سڑک کی توسیع کے نام پر اجین میں ۶۰۰؍سالہ قدیم شاہی مسجد کو منہدم کرنے کے خلاف مسلمان سڑکوں پر اترآئے ہیں۔ رات بھرجاگ کر ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے مسجد کو اپنے گھیرے میں رکھ کر انہدامی کارروائی سے بچایا اور دن نکل آنے کے بعد سیکڑوں کی تعداد میں مسجد اندر جمع ہوگئے ہیں تاکہ انتظامیہ بلڈوزر نہ چلاسکے۔ اجین میں مہا کمبھ کیلئے سڑک کی توسیع کے نام پر مسجد کے ایک حصہ کو منہدم کرنے کا منصوبہ ہے جسے ہائی کورٹ کی منظوری مل گئی ہے۔جیسے ہی شہر کے مسلمانوں کو اس کے بارے میں اطلاع ملی وہ سڑکوں پر اترآئے۔
نمائندہ انقلاب نے خبر لکھے جانے تک جب صورتحال کی معلومات حاصل کی تو حکومت نے بڑی تعداد میں آراے ایف کے جوانوں کو تعینات کردیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اتوار کو دیر رات گئے حکومت مسجد کے انہدام کے منصوبہ پر عمل کرسکتی ہے۔ اندور کےمعروف عالم دین مفتی جنید نے مسلمانوں کے احتجاج کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر یہ مسجد کے خلاف کارروائی ہوگئی تو اُن کے نشانے پر مزید ۲۸؍ مساجد ہیں،انہیں بھی شہید کیا جائےگا۔ یہ سب من مانے طریقے سے ہورہاہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’راستہ کے نام پر وہ یکے بعد دیگرے مسجدیں شہید نہیں کرسکتے۔ ‘‘اہم بات یہ ہے کہ شاہی مسجد کے ایک حصہ کو سڑک کی توسیع کیلئےمنہدم کرنے کےخلاف مسلمانوں نے اندور ہائی کورٹ سے رجوع کیاتھا مگر یک رکنی بنچ نے درخواست کو مسترد کردیا۔