• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گیانیش کمار پر سوال برقرار، جواب ’اقبال ِجرم‘ بن گیا

Updated: September 28, 2026, 8:57 AM IST | Agency | New Delhi

الیکشن کمیشن کے اصلاحی اقدامات کو انڈین ایکسپریس اور سماجی کارکنان نے تحقیقی رپورٹ کی تصدیق قراردیا، چیف الیکشن کمشنر کی مشکلوں میں اضافہ، استعفیٰ کا مطالبہ شدید تر۔

Following the Election Commission meeting on Saturday, this photograph was released in an attempt to convey the impression that there are no differences within the Commission. Photo: INN
سنیچر کو الیکشن کمیشن کی میٹنگ کے بعد یہ تصویر جاری کرکے تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ کمیشن میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ تصویر: آئی این این

الیکشن کمیشن میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی من مانی،  بقیہ دونوں کمشنروں  کے اختلافی نوٹ  ،فارم ۶؍  میں تبدیلی پر اعتراض اورمغربی بنگال میں کمیشن کے ذریعہ ووٹرس  کے خلاف ۱۶؍ لاکھ اپیلوں  کے حوالے سے سنگین الزامات کا جواب دینےکیلئے سنیچر کو الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کئے گئے بیان  کے باوجود کمیشن  کے فیصلوں اور چیف الیکشن کمشنر کے طرز عمل پر اٹھنےوالے سوالات برقرار ہیں۔ سنیچر کی  اچانک میٹنگ   کے بعد جاری کئے گئے بیان کو یوگیندر یادو، انجلی بھاردواج اور دیگر سماجی کارکنان  نے گیانیش کمار کا اقبال جرم قرار دیا ہے۔ یوگیندر یادو نے گیانیش کمار کے ساتھ بقیہ دنوں کمشنروں  کو بھی ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے تینوں کے استعفیٰ کی مانگ کی ہے جبکہ آر جے ڈی کے رکن پارلیمان منوج جھا نے چیف الیکشن کمشنر کے مواخذہ پر زور دیا ہے۔

کمیشن نے خود تحقیقی رپورٹ کی تصدیق کردی

 انڈین ایکسپریس کی ممبئی کی ریسیڈنٹ ایڈیٹر ’رتیکا چوپڑا‘  جن کی تحقیقی رپورٹ نے  الیکشن کمیشن اور گیانیش کمار کو کٹہرے میں کھڑا کردیاہے ، نے نشاندہی کی ہے کہ منگل کوتحقیقی  رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد الیکشن کمیشن کی جانب سےجاری کئے گئے بیان میں سارے الزامات کی تردید کی گئی تھی اور کہاگیاتھا کہ  ایس آئی آر سے متعلق سارے فیصلے ’’اتفاق رائے‘‘سے لئے گئے،  تاہم سنیچر کو یوٹرن لیتے ہوئے جو اصلاحی اقدامات کئے گئے ہیں وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ الزامات درست تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: فلسطین کے حق میں بولنے سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوئی:ہالی ووڈ ادارہ فلورنس پگھ

الیکشن کمیشن  کے بیان میں جواب نما تصدیق

دی انڈین ایکسپریس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ تینوں الیکشن کمشنروں کی مئی سے اگست۲۶ءتک ۴؍ماہ  میں  ایک بھی  میٹنگ نہیں ہوئی تاہم ستمبر میں اب تک۹؍اور۲۶؍ستمبر کو ۲؍  میٹنگیں ہوچکی ہیں۔۹؍ ستمبر کی میٹنگ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے مبینہ غیر قانونی اقدامات کے خلاف کابینہ سیکریٹری سے کی گئی تحریری شکایت کا نتیجہ تھی جبکہ ۲۶؍ستمبر کی میٹنگ  انڈین ایکسپریس  کے سنسنی خیز انکشافات اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کے بڑھتے مطالبات  کے بعد ہوئی ہے۔  الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری وضاحتی پریس نوٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب کمیشن کی میٹنگوں   کا ایجنڈہ  او منٹس  تیار کے جائیں گے اور بقیہ دونوں الیکشن کمشنروں  وویک جوشی اور سکھ بیر سنگھ سندھو کو فراہم کی جائیں  گی۔ یہ اس بات کی تصدیق ہے کہ اب تک میٹنگوں کے ایجنڈہ سے بقیہ دنوں کمشنروں کو آگاہ نہیں کیا جاتا تھا اورمیٹنگ کے منٹس تیار نہیں کئے جاتے تھے۔ سنیچر کو جاری کئے گئے نوٹ میں اس کی بھی تصدیق ہے کہ الیکشن کمیشن میں ڈیپوٹیشن پر تعینات کچھ ملازمین کمیشن کی مناسب منظوری اور رضامندی کے بغیر بیرون ملک سفر کر رہے تھے۔

ای سی آئی نیٹ کے تعلق سے سوالات پر مہر

ای سی آئی نیٹ  کے تعلق سے اٹھنےوالے سوالات پر بھی مہر لگاتے ہوئے سنیچر کی میٹنگ میں فیصلہ کیاگیا کہ کمیشن اس کی جانچ کیلئےکمیٹی بنائےگا جس میں آئی آئی ٹی دہلی کے ایک ’’آزاد‘‘ پروفیسر کو ماہر کے طور پر شامل کیا جائے گا۔ اسی طرح  پریس نوٹ سے یہ بھی تصدیق ہو گئی کہ فارم۶؍کا فارمیٹ تبدیل کیا گیا حالانکہ الیکشن کمیشن کو  اس کا اختیار نہیں ہے۔ وضاحتی نوٹ کے مطابق ای سی آئی نیٹ تک رسائی بھی مرکزی سطح پر محدود کردی گئی تھی اور فیلڈ میں کام کرنے والے قانونی طور پر مقرر انتخابی رجسٹریشن افسران (ای آر اوز) کی رسائی بھی محدود کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ناگپور: ایمس میں ڈاکٹر کیساتھ مارپیٹ، ڈاکٹروں کا احتجاج

 شبہات اب ثبوت بن گئےہیں: یوگیندر یادو

معروف سماجی کارکن یوگیندر یادو نے الیکشن کمیشن کی پریس کا ’’اقبال جرم‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ  اب تک جن معاملات پر شبہات ظاہر کئےجارہے تھے، وہ ثبوت کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پریس ریلیز کے بعد اب ذمہ داری صرف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر نہیں بلکہ تینوں الیکشن کمشنروں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے تینوں کے استعفے اور ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، الیکشن کمیشن کے کام کاج میں اصلاحات اور انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات ضروری ہیں۔انجلی بھاردواج  جو سپریم کورٹ میں ایس آئی آر کے خلاف پٹیشن کا حصہ ہیں،  نے کہا  کہ اگر غیر آئینی طریقے سے کام ہوا ہے تو اس کیلئے  ذمہ دار افراد کا تعین ہونا چاہیے۔ 

کمیشن کے فیصلے اور الزامات کی تصدیق
فیصلہ (۱):الیکشن کمیشن کی ہر میٹنگ کاایجنڈا تقسیم کیا جائےگااور کارروائی کی تفصیلات جاری کی جائیں گی۔
تحقیقی رپورٹ میں انکشاف :الیکشن کمشنر وویک جوشی نے شکایت کی کہ میٹنگوں کا ایجنڈا پہلے سے جاری نہیں کیا جاتا  اور نہ ہی کارروائی کی تفصیلات جاری کی جاتی ہیں۔
فیصلہ(۲): الیکشن کمیشن کے افسران کے غیر ملکی دوروں کیلئےکمیشن کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا۔
تحقیقی رپورٹ میں انکشاف : وویک جوشی ۱۶؍ اپریل کو کہا تھا کہ افسران کو ’’کئی مواقع پر کمیشن کی منظوری  کے بغیر سرکاری غیر ملکی دوروں پر بھیجا گیا۔‘‘
فیصلہ(۳):  آئی ٹی ڈویژن کی جانب سے تیار کئے گئے  نئے ماڈیولز اور پورٹلس کو کمیشن کی منظوری سے پہلے افسران کی ایک کمیٹی کے ذریعے جانچا جائے گا۔
تحقیقی رپورٹ میں انکشاف : الیکشن کمشنر  سکھ بیر سنگھ سندھو نے اعتراض کیاتھا کہ آئی ٹی ڈویژن نے ’’بہت سے نئے ماڈیولز اور پورٹلس تیار کئے ہیں۔مجھے نئی پیش رفت کے بارے میں میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا۔‘‘
فیصلہ(۴):   آئی آئی ٹی یا آئی آئی آئی ٹی کے ایک ’’آزاد ماہر‘‘ پر مشتمل کمیٹی ای سی آئی نیٹ کا جائزہ لے گی۔ 
تحقیقی رپورٹ میں انکشاف : ۲۹؍مئی کو وویک جوشی نے انتخابی فہرست کے ڈیٹا بیس  کے مرکز سے کنٹرول ہونے کا  ذکر کرتے ہوئے بالکل ایسی ہی کمیٹی تشکیل دینے کی تجویز دی تھی۔ کمیشن کے اندر سے اس پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
نوٹ: انڈین ایکسپریس کی صحافی رتیکا چوپڑا نے الیکشن کمیشن کے  بیان پر یہ نکات پیش کئے ہیں۔   

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK