Inquilab Logo Happiest Places to Work

ارجنٹائنا باضابطہ طور پر ڈبلیو ایچ او سے علاحدہ

Updated: March 19, 2026, 10:59 AM IST | Buenos Aires

ارجنٹائنا نے باضابطہ طور پر ڈبلیو ایچ او (عالمی ادارہ صحت)سے علاحدگی کا اعلان کردیا ہے، صدر نے صحت عامہ میں خود مختاری کا حوالہ دیتے ہوئےاس کا اعلان کیا۔

Argentine President Javier Milei. Photo: X
ارجنٹائنا کے صدر جاویئر مائیلی۔ تصویر: ایکس

صدر جیویر میلی کی قیادت والی ارجنٹائناکی حکومت نے منگل کو اعلان کیا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے اس کی علاحدگی باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو گئی ہے۔ یہ اقدام اقوام متحدہ کے صحت کے ادارے سے ایک سال قبل نوٹیفکیشن کے بعد مکمل علاحدگی کی علامت ہے۔ ارجنٹائناکے وزیر خارجہ پابلو کوئیرنو نے سوشل میڈیا پر کہا کہ’’ ارجنٹائنانے۱۷؍ مارچ۲۰۲۵ء کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اس فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔ ویانا کنونشن کے مطابق، نوٹیفکیشن کے ایک سال بعد یہ علاحدگی ازخود موثر ہو جاتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اردگان کا اسرائیل پر سخت حملہ، مغرب پر تنقید، ٹرمپ نے میکرون کو نشانہ بنایا

دراصل صدر میلی کی انتظامیہ کی یہ علاحدگی ڈبلیو ایچ او کی جانب سے وبائی مرض کرونا سے نمٹنے کے طریقہ کار پر شدید نظریاتی اختلاف پر مبنی ہے۔ میلی نے اس ادارے کو ’’نقصان دہ‘‘ قرار دیا ہے اور عالمی لاک ڈاؤن کو ’’تاریخ کا سب سے بڑا سماجی کنٹرول تجربہ‘‘قرار دیا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ وبا کے دوران ڈبلیو ایچ او کی ہدایات سائنسی بنیادوں کی بجائے سیاسی مفادات پر مبنی تھیں۔تاہم اس معاہدے سے نکل کر ارجنٹائنا نے صحت عامہ کی پالیسی میں قومی خودمختاری پر زور دیا ہے۔واضح رہے کہ ارجنٹائنا کا یہ اقدام اس کے بڑے عالمی اتحادی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسی سے ہم آہنگ ہے۔ ٹرمپ نے دوبارہ اقتدار سنبھالتے ہی ڈبلیو ایچ او پر ادارہ جاتی ناکامی اور شفافیت کی کمی کے الزامات دہرائے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹوں کی بارش، کمپاؤنڈ میں آگ لگ گئی

واشنگٹن اور بیونس آئرس کے بیک وقت یہ اقدامات عالمی صحت کے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ دونوں حکومتوں کا الزام ہے کہ ڈبلیو ایچ او اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے اور رکن ممالک کی خودمختاری میں مداخلت کر رہا ہے۔تاہم کوئیرنو نے واضح کیا کہ ارجنٹائنا مکمل طور پر الگ تھلگ نہیں ہو رہا بلکہ صحت کی سفارت کاری کا ایک نیا ماڈل اپنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ارجنٹائنا دو طرفہ معاہدوں اور علاقائی فورم کے ذریعے صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون جاری رکھے گا،اور یہ کہ نیا طریقہ کار صحت کی پالیسیوں پر ارجنٹائنا کے فیصلہ سازی اختیار کو مکمل طور پر محفوظ رکھے گا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK