Updated: April 02, 2026, 9:03 PM IST
| Varanasi
وارانسی میں دریائے گنگا پر مبینہ طور پر افطار کے دوران چکن کھانے اور باقیات دریا میں پھینکنے کے معاملے میں گرفتار ۱۴؍ مسلمانوں کی ضمانت عدالت نے مسترد کر دی۔ سیشن کورٹ کے جج آلوک کمار نے کہا کہ ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی نیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مقدمہ مختلف دفعات کے تحت درج ہے جبکہ واقعہ نے سیاسی اور سماجی سطح پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔
اتر پردیش کے شہر وارانسی میں ایک حساس معاملے میں سیشن کورٹ نے ۱۴؍ ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس نے فرقہ وارانہ فضا اور قانونی بحث کو مزید شدت دے دی ہے۔ یہ معاملہ دریائے گنگا کے گھاٹوں پر ایک کشتی میں افطار کے دوران چکن کھانے اور مبینہ طور پر اس کی ہڈیاں دریا میں پھینکنے سے متعلق ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد سامنے آیا تھا۔ تازہ عدالتی پیش رفت کے مطابق سیشن کورٹ جج آلوک کمار نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ واقعے کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ عمل محض ایک اتفاقی واقعہ نہیں بلکہ ممکنہ طور پر سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرنے کے ارادے سے کیا گیا۔ عدالت نے اس بنیاد پر ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے کیس کی سنگینی پر زور دیا۔
اس سے قبل ۲۳؍ مارچ کو ایڈیشنل چیف جوڈشیل مجسٹریٹ کورٹ بھی ملزمان کی ضمانت کی درخواست مسترد کر چکی تھی۔پولیس کے مطابق یہ واقعہ ۱۵؍ مارچ کو پیش آیا، جب ویڈیوز منظر عام پر آئیں جن میں ملزمان کو روزہ افطار کرتے اور مبینہ طور پر باقیات دریا میں پھینکتے دیکھا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں متعدد سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں مذہبی جذبات کو مجروح کرنا، عبادت گاہ کو ناپاک کرنا، عوامی مقامات کو آلودہ کرنا اور فرقہ وارانہ دشمنی کو فروغ دینا شامل ہیں۔ بعد ازاں مزید سختی کرتے ہوئے بھتہ خوری سے متعلق دفعات بھی شامل کی گئیں۔ کشتی مالکان انیل سہانی اور رنجن سہانی نے الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ان کی کشتی زبردستی استعمال کی۔
یہ کارروائی بی جے پی یووا مورچہ کے مقامی عہدیدار رجت جیسوال کی شکایت پر عمل میں آئی، جنہوں نے اس واقعے کو مذہبی جذبات کی توہین قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کے بیان نے اس معاملے کو سیاسی رنگ بھی دے دیا، جس کے بعد مختلف حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔ دوسری جانب، ملزمان کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ شکایت کنندہ واقعے کے وقت موقع پر موجود نہیں تھے، اس لیے انہیں عینی شاہد نہیں مانا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پولیس واقعے کے مقام سے کوئی ٹھوس شواہد، جیسے مبینہ ہڈیاں، برآمد کرنے میں ناکام رہی، جس سے کیس کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اروناچل پردیش: میونسپل حکام نے ہوٹلوں سے گوشت کے مخصوص نام ہٹانے کا حکم دیا
تاہم عدالت نے ان دلائل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر مواد کی تشہیر اس معاملے کی نوعیت کو مزید سنگین بنا دیتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عید اور دیگر تہوار قریب ہوں، جس سے فرقہ وارانہ حساسیت بڑھ سکتی ہے۔