سینٹرآف انڈین ٹریڈ یونین اور مزدوروں کی دیگر کئی تنظیموں کے اشتراک سے آزاد میدان پر دیا جانے والا دھرنا تیسرے دن ختم، حکومت کو سخت انتباہ۔
آزاد میدان پر مزدوروں کے حقوق کیلئے منعقدہ احتجاج میں سیکڑوں افراد نظر آرہےہیں- تصویر:آئی این این
یر منظم مزدوروں کے مسائل سے چشم پوشی کرنے کی حکومت غلطی نہ کرے۔ لڑیں گے جیتیں گے ،ہم اپنا ادھیکار مانگتے نہیں کسی سے بھیک مانگتے ، اور ہم اپنا حق لے کر رہیںگے۔یہ انتباہ دیتے ہوئے دھرنا ختم کیا گیا۔اس موقع پریہ بھی واضح کیا گیا کہ مطالبات پورےنہ کئےجانے پر ہم سب مزید قوت کے ساتھ آواز بلند کریں گے اور ضرورت پڑنے پرسڑکوں پر اتریں گے۔
سینٹرل ٹریڈیونین اور مزدوروں کی کئی دیگر تنظیموں کے اشتراک سے کئے جانے والے اس احتجاج کا بدھ کو تیسرا دن تھا۔دھرنا ختم کرنے کا اعلان کئے جانے سے قبل یونین لیڈران کے ایک وفد نے منترالیہ میںریاستی وزیر گریش مہاجن سے ملاقات کی اوران کومزدوروں کے حقوق کےتعلق سے۱۰؍ نکاتی میمورنڈم سونپا ۔
اس اہم وفد میں ڈی ایل کراڈ ،ڈاکٹروویک مونیٹریو ، کامریڈایم ایچ شیخ ، کامریڈ شبھا شمیم ، کامریڈ رویندر مدنے اورشیلیندر چوہان وغیرہ شامل تھے ۔
ریاستی وزیرسے ملاقات میںکیا طے پایا ؟
شرکاء وفد کے ہمراہ ایک گھنٹے سے زائدوقت تک ہونے والی بات چیت کے دوران حکومت کی جانب سے مثبت جواب دیا گیا اوریہ بھی بتایا گیا کہ چونکہ بیشتر مطالبات کاتعلق پالیسی سے ہے۔ اس لئے جلد ہی وزیراعلیٰ اور متعلقہ شعبوں کے وزراء کے ہمراہ یونین کے لیڈران کی دوبارہ میٹنگ بلائی جائے گی ۔اس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا ۔
۱۰؍نکاتی میمورنڈم میںکون سے مطالبات ہیں؟
(۱) ۴؍ قوانین کومنسوخ کیا جائے جو مزدور مخالف ہیں، ان قوانین کوکسی صورت مہاراشٹر میںنافذ نہ کیا جائے بلکہ مزدوروں کی فلاح کی اسکیمیں لائی جائیں (۲) غیرمنظم شعبے کےمزدوروں کیلئے سیکٹر کے حساب سے ویلفیئربورڈ قائم کیا جائے ا ور ان کی ترقی پر توجہ دی جائے (۳) تمام ملازمین کو مستقل کیا جائے اور ماہانہ تنخواہ کم ازکم ۳۰؍ہزار روپے دی جائے (۴) آنند دیگھے بورڈ کیلئے ۸۰۰؍روپے داخلہ فیس جو آٹورکشا ڈرائیوروں کیلئے سماجی تحفظ کی غرض سے قائم کی گئی ہے، کو معاف کیا جائے اور ایک روپے کی معمولی فیس لی جائے(۵) تمام مزدوروں کیلئے پراویڈنٹ فنڈ، ای ایس آئی علاج کی سہولت اور پنشن لاگو کی جائے (۶) مہنگائی کم کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کئے جائیں اور سستےدام پر کھانا پکانے اور گاڑیوں کیلئے گیس فراہم کی جائے (۷)ہاکر پالیسی نافذ کی جائے اورتمام ہاکرس کوتحفظ فراہم کیا جائے (۸)پاور لوم ورکرز کیلئے ویلفیئر بورڈ قائم کیا جائے ، انہیں معقول اجرت دی جائے اوران کا تحفظ کیاجائے (۹) علاج معالجےکی معقول سہولت مہیا کرائی جائے (۱۰) محض یقین دہانی کےبجائے جو وعدے کئے جارہے ہیں ان کولازماً پورا کیا جائے اورمطالبات کو منظور کرتے ہوئے جلد سے جلد ان پرعملی اقدام کیاجائے۔
سہ روزہ احتجاج کے دوران کے آر راگھو، ڈاکٹر اروجام ایرانی، ڈاکٹر اروما، ڈاکٹر ایس کے ریگے، شیلیندر کامبلے، دامودر مانکاپے، کشور مہتا، بھوشن پاٹل، سنیل چوان، منوج یادو،سنجیو چندورکر، ڈاکٹر اشوک ڈھولے، مریم ڈھولےاور کسان سبھا کے ریاستی جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اجیت نوالے وغیرہ نے اظہارخیال کیا ۔ ان لیڈران نےیہ واضح کیا کہ جو پالیسی بنائی گئی ہے وہ مزدوروں کو ان کا حق دینے اورانہیں تحفظ فراہم کرانے کےبجائے انہیں غلامی کی جانب دھکیلتی ہے، اسے کسی صورت قبول نہیںکیا جاسکتا۔