Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی دہلی خودکشی کا معاملہ: طلبہ کا احتجاج جاری، شفاف تحقیقات کا مطالبہ

Updated: August 28, 2026, 7:58 PM IST | New Delhi

آئی آئی ٹی دہلی میں ایم ایس سی کے طالب علم رشی کیش کمار کی خودکشی کے بعد طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔ طلبہ شفاف تحقیقات، رشی کیش کو انصاف اور اس کے اہل خانہ کو مالی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Students protesting. Photo: X
طلبہ احتجاج کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

آئی آئی ٹی دہلی میں ۲۲؍اگست کو ایم ایس سی کے ایک طالب علم رشی کیش کمار نے آئی آئی ٹی کیمپس میں خودکشی کرلی۔ جس کے بعد طالب علم کی خودکشی پر سوال اٹھاتے ہوئے گزشتہ چار دنوں سے طلبہ احتجاج کر رہے ہیں ۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ اس پورے معاملے کی شفاف جانچ ہو اور رشی کیش کمار کو انصاف دیا جائےساتھ ہی اس کے اہل خانہ کو مالی امداد بھی فراہم کی جائے۔ طلبہ کے مطابق رشی کیش نے لیکچر ہال کامپلیکس کی چھٹی منزل سے کود کرخود کشی کی تھی۔ حالانکہ اس معاملے میں ادارے نے دہلی ہائی کورٹ کےسابق جج مکتا گپتا کی قیادت میں ایک جانچ کمیٹی بنائی ہے، جو آئندہ دو ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ اس سے پہلے بھی ایک کمیٹی بنائی گئی تھی جس کی ذمہ داری اتراکھنڈ کے سابق ڈی جی پی اشوک کمار کو سونپی گئی تھی لیکن انہوں نے ذاتی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے خود کوجانچ کمیٹی سے الگ کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: پینگوئن انڈیا سونیا گاندھی کی کتاب شائع نہیں کرے گا، تبدلیوں کا مطالبہ مسترد

یاد رہے کہ طلبہ بڑی تعداد میں مسلسل ۴؍ دنوں سے آئی آئی ٹی کے کیمپس میں احتجاج کررہے ہیں ۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ رشی کیش کی خودکشی اس سال کی دوسری خودکشی ہے اور آئی آئی ٹی انتظامیہ اس کا ذمہ دار ہے۔ طلبہ کے مطابق آئی آئی ٹی انتظامیہ نے رشی کیش کو کیمپس کے باہر رہنے پر مجبور کیا، وہ ذہنی دباؤ میں تھا جس کی وجہ سے وہ خودکشی کرنے پر مجبور ہوا۔ طلبہ نے احتجاج کے دوران ڈین آف اسٹوڈنٹس ویلفیئر کے بھی استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ جب تک رشی کیش کو انصاف نہیں مل جاتا اور کن حالات میں اس نے خودکشی کی ان تمام پہلوؤں کی جانچ نہیں ہوجاتی تب تک وہ اسی طرح احتجاج جاری رکھیں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK