Updated: August 28, 2026, 4:04 PM IST
| New Delhi
سونیا گاندھی کی طویل عرصے سے متوقع یادداشتوں کی کتاب ’’Belonging: A Journey of Love‘‘ کی ہندوستان میں اشاعت کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے مسودے میں بعض ’’ادارتی تبدیلیوں اور حذف‘‘ کی خواہش پوری نہ ہونے کے بعد کتاب شائع کرنے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے، جبکہ ہارپرکولنز سمیت کئی پبلشرز اس کی اشاعت کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔
سونیا گاندھی، ان کی کتاب بلونگنگ: اے جرنی آف لَو۔ تصویر: آئی این این
اطلاعات کے مطابق پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا (PRHI)، جسے کانگریس لیڈر سونیا گاندھی کی طویل عرصے سے متوقع یادداشتوں پر مبنی کتاب ’’Belonging: A Journey of Love‘‘ ہندوستان میں شائع کرنا تھا، اب یہ کتاب شائع نہیں کرے گا۔ ذرائع کے مطابق اس کی وجہ وہ ’’ادارتی تبدیلیاں اور حذف‘‘ ہیں جو پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے مسودے کے ایک حصے میں کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، تاہم مصنفہ نے ان تبدیلیوں کو مسترد کر دیا۔ پینگوئن انڈیا کے اس منصوبے سے الگ ہونے کے بعد کئی ہندوستانی پبلشرز کتاب کی اشاعت کے لیے میدان میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہارپرکولنز ہندوستان میں کتاب کی اشاعت اور تقسیم کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے قریب ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کین بیتوا ریوَر لنک پروجیکٹ کے خلاف قبائلی برادری آخراحتجاج کیوں کررہی ہے؟
کتاب کی ریلیز ۱۰؍ نومبر کو مقرر ہے، جس کا اعلان سب سے پہلے امریکہ میں قائم الفریڈ اے نوف نے کیا تھا، جو پینگوئن رینڈم ہاؤس کا ایک ڈویژن ہے۔ نوف نے بتایا تھا کہ کتاب کا پہلا ایڈیشن ایک لاکھ کاپیاں پر مشتمل ہوگا۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق انہوں نے نوف اور سونیا گاندھی کے ایجنٹ ڈیوڈ گوڈوِن سے رابطہ کرکے گاندھی کے مسودے میں مطلوبہ ’’تبدیلیوں اور حذف‘‘ سے متعلق سوالات بھیجے، تاہم دونوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے سی ای او گورو شرینگیش سے بھی اس معاملے پر سوال کیا گیا، لیکن ان کی جانب سے بھی کوئی جواب نہیں ملا۔ سونیا گاندھی اس سے قبل بھی کئی کتابیں تحریر اور مرتب کر چکی ہیں، تاہم ان کے ساتھ کام کرنے والے افراد کے مطابق یہ کتاب ان کی زندگی کے بارے میں سب سے زیادہ ذاتی اور جامع بیان ہے۔ نوف نے اسے ’’دنیا کی نمایاں ترین خواتین لیڈروں میں سے ایک کی دلچسپ یادداشت‘‘ قرار دیا ہے، جس میں محبت، خاندان اور ایک مسلسل حیران کن ملک ہندوستان کی داستان بیان کی گئی ہے۔ نوف کی جانب سے جاری بیان میں سونیا گاندھی کے حوالے سے کہا گیا، ’’میرے خاندان کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، لیکن بہت کم بیانیے ان کے محرکات، اقدامات اور انسانی کمزوریوں کی حقیقت تک پہنچ سکے۔ میری کہانی قارئین کو ان سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کا ایک منفرد نقطۂ نظر بھی فراہم کرتی ہے جنہیں میں نے چھ دہائیوں کے دوران دیکھا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: گوا میں انسداد تبدیلی مذہب بل کو کابینہ کی منظوری، عمر قید تک سزا کی تجویز
واضح ہو کہ یہ پہلا موقع نہیں جب پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کو کسی معروف شخصیت کی کتاب کے معاملے میں تنازع کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ رواں سال کے اوائل میں PRHI نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نروانے کی یادداشت ’’Four Stars of Destiny‘‘ چھاپی ہی نہیں، تاہم راہل گاندھی نے پارلیمنٹ میں اس کتاب کی ہارڈ کاپی دکھائی تھی۔ کتاب کے بعض حصے، جن میں گلوان میں ہندوستان اور چین کے درمیان جھڑپوں اور اگنی پتھ اسکیم سے متعلق نروانے کے بیانات شامل تھے، جو میڈیا میں بھی شائع ہوئے تھے۔
رواں سال جون میں دی انڈین ایکسپریس نے پہلی بار رپورٹ کیا تھا کہ PRHI نے معروف گرافک ناول نگار جو ساکو کی مظفرنگر فسادات پر مبنی کتاب ’’The Once and Future Riot‘‘ کی اشاعت سے بھی دستبرداری اختیار کر لی تھی۔ اس وقت سی ای او گورو شرینگیش نے کہا تھا کہ قانونی جانچ کے دوران پبلشر نے مصنف کے سامنے مواد سے متعلق کچھ مسائل اٹھائے تھے، جن میں ہندوستان کی سرحدوں کو غلط ظاہر کرنے والا ایک نقشہ بھی شامل تھا۔