Updated: August 28, 2026, 9:03 PM IST
| New York
سال کے آخری گرینڈ سلیم یو ایس اوپن ۲۰۲۶ء کے مینز سنگلز ڈرا نے ٹینس شائقین میں زبردست جوش پیدا کر دیا ہے۔ دفاعی چیمپئن کارلوس الکاراز اور۲۴؍ مرتبہ کے گرینڈ سلام چیمپئن نوواک جوکووچ کو ڈرا کے ایک ہی نصف میں رکھا گیا ہے۔ اگر دونوں کھلاڑی اپنے اپنے میچ جیتتے ہوئے سیمی فائنل تک پہنچتے ہیں تو دونوں کا ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ہونا ممکن ہے۔
سال کے آخری گرینڈ سلیم یو ایس اوپن ۲۰۲۶ء کے مینز سنگلز ڈرا نے ٹینس شائقین میں زبردست جوش پیدا کر دیا ہے۔ دفاعی چیمپئن کارلوس الکاراز اور۲۴؍ مرتبہ کے گرینڈ سلام چیمپئن نوواک جوکووچ کو ڈرا کے ایک ہی نصف میں رکھا گیا ہے۔ اگر دونوں کھلاڑی اپنے اپنے میچ جیتتے ہوئے سیمی فائنل تک پہنچتے ہیں تو دونوں کا ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے ہونا ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آن لائن نازیبا زبان استعمال کرنے والے شخص نے شویتا تیواری سے معافی مانگی
دوسری سیڈ الکاراز یو ایس اوپن میں اپنے ٹائٹل کا دفاع کرنے اتریں گے۔ تاہم ان کے لیے یہ واپسی آسان نہیں ہوگی، کیونکہ وہ کلائی کی چوٹ کے باعث تقریباً ر ماہ سے سنگلز مقابلے سے دور رہے ہیں۔ ان کا آخری سنگلز میچ اپریل میں ہوا تھا۔ الکاراز کا پہلے راؤنڈ میں مقابلہ رومن سفیولن سے ہوگا۔ ڈرا کے مطابق آگے چل کر انہیں بین شیلٹن اور دیگر خطرناک حریفوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:عمران خان کے ساتھ عزت، وقار اور انسانیت سلوک کیا جانا چاہیے: پیٹ کمنز
چوتھی سیڈ نوواک جوکووچ کی نظریں ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے پر ہیں۔ وہ اپنے کریئر کا ۲۵؍ واں گرینڈ سلیم ٹائٹل جیت کر نیا ریکارڈ قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جوکووچ پہلے راؤنڈ میں ارجنٹائنا کے ماریانو ناوونے کے خلاف مہم شروع کریں گے۔ دوسرے راؤنڈ میں ان کا ممکنہ مقابلہ میٹیو بریٹینی یا اسٹین واورینکا سے ہوسکتا ہے۔ اس سال ڈرا کے نچلے نصف کو خاص طور پر سخت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں یو ایس اوپن کے پانچ سابق چیمپئن موجود ہیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹورنامنٹ کے اس حصے میں کئی بڑے نام ایک دوسرے کی راہ میں حائل ہوں گے۔
اس ڈرا کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ عالمی نمبر ایک یانک سنر انجری کے باعث یو ایس اوپن میں حصہ نہیں لے رہے۔ ان کی غیر موجودگی نے ٹورنامنٹ کو مزید کھلا بنا دیا ہے اور جوکووچ، الکاراز اور زیوریو جیسے کھلاڑیوں کے لیے ٹائٹل کی دوڑ میں مواقع بڑھ گئے ہیں۔ یو ایس اوپن ۲۰۲۶ء کا مین ڈرا۳۰؍ اگست سے ۱۳؍ ستمبر تک نیویارک میں کھیلا جائے گا۔ اگر الکاراز اور جوکووچ اپنے اپنے راستے کی تمام رکاوٹیں عبور کر لیتے ہیں تو شائقین کو سیمی فائنل میں ایک اور یادگار مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔