کورونا وائرس کا اثر: درگاہ حاجی علیؒ، ماہم درگاہ میں زائرین کے داخلے پرپابندی

Updated: March 20, 2020, 5:12 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

احتیاطی تدابیر کے تحت ماہم درگاہ کے اطراف واقع کھانے پینے کی تمام دکانیں بند ۔ سدھی ونائیک اور مہا لکشمی مندر میں بھی شردھالوؤں کا داخلہ ممنوع

Haji Ali Dargah - Pic : PTI
حاجی علی درگاہ ۔ تصویر : پی ٹی آئی

ممبئی:۲؍ دن قبل تک شہر اور مضافات کے تمام مذہبی مقامات کے ذمہ دارو ں نے ’کووِڈ۔ ۱۹‘ کے بڑھتے اثرات  کے سبب احتیاطی تدابیر کے تحت زائرین کیلئے صابن اور سینیٹائزر کا استعمال اور ماسک لگانے کی سہولت فراہم کی تھی۔ وہیں جمعرات کو اکثر درگاہ اور مندر ٹرسٹوں نے زائرین کے داخلہ پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے ۔ کووِڈ۱۹؍ کے متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ اورپولیس و شہری انتظامیہ کی اپیل کے مد نظردرگاہ مخدومی علی ماہمی ماہم اور حاجی علی درگاہ ٹرسٹ کے علاوہ سدھی ونائیک مندر اور مہالکشمی مندر ٹرسٹ نے بھی ایک پریس ریلیز جاری کی اور درگاہ میں زائرین اورمندروں میں شردھالوؤں کے داخلہ پر پابندی کا اعلان کیا ہے ۔
 تفصیلات کے مطابق  درگاہ اور مندر ٹرسٹ کے اس فیصلہ پر زائرین بھی کسی بھی قسم کا اعتراض نہ کرتے ہوئے درگاہ اور مندروں کے داخلی گیٹ کے باہر سے ہی زیارت کرتے ہوئے وہاں سے رخصت ہورہے ہیں ۔ وہیں مندر اور درگاہ پر موجود ذمہ داران بھی بار بار اعلان کرتے ہوئے درگاہ یا مندر کے باہر بھیڑ اکٹھا نہ کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔ماہم درگاہ ٹرسٹ کے اس فیصلہ پر لبیک کہتے ہوئے درگاہ کے اطراف کھانے پینے کی دکان مالکان نے بھی اپنے دکانیں بند کر دی ہیں جبکہ ٹھیلے والوں کو بھی ٹھیلے لگانے سے منع کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں ماہم درگاہ ٹرسٹ کے سربراہ سہیل کھنڈوانی نے بتایا کہ ’’ کورونا جیسے موذی مرض سے شہر اور شہریوں کو محفوظ رکھنا صرف پولیس یا بی ایم سی محکمہ کی ہی نہیں ہماری بھی ذمہ داری ہے ۔ اس سلسلہ میں  ٹرسٹ ممبران نے بارہا بی ایم سی اور پولیس کے افسران سے میٹنگ کی اور پہلے یہ طے کیا تھا کہ ’’ تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ درگاہ کی زیارت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ لیکن  موذی مرض کے بڑھتے اثرات اور مریضوں کی بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے اب ہم نے حاجی علی اور ماہم درگاہ دونوں میں ہی زائرین کے داخلہ پر مکمل پابندی لگادی ہے ۔ ‘‘ انہوںنے کہا کہ فی الحال یہ پابندی ۳۱؍ مارچ تک رہے گی پھر حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی ۔
 گھاٹ کوپر ایل بی ایس مارگ پر واقع حضرت سید تجمل حسین عرف پنکھے شاہ بابا درگاہ کے ٹرسٹی شاداب خان نے نمائندہ کو بتایا کہ حاجی علی درگاہ اور ماہم درگاہ بند کئے جانے کی خبر سننے کے بعد ہم ٹرسٹیان میٹنگ کرکے فیصلہ کریں گے کہ حالات کے پیش نظر پنکھے شاہ بابا درگاہ کے اندر جانے کی اجازت دی جائے  یا نہیں ۔ پوائی چاند شاہ ولی درگاہ کے ایک ٹرسٹی سلیم خان نے کہا کہ چاندشاہ  ولی درگاہ بند نہیں کی جائے گی لیکن باہر سے آنے والے زائرین کو اندر جانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔کیونکہ درگاہ کے اندرفاتحہ خوانی وغیرہ کی وجہ سے بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے۔  سیوڑی  میں واقع میراداتار درگاہ کو بھیڑ بھاڑ سے بچانے کیلئے جمعرات کو دوپہر سے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اسی طرح ریاستی وزیر اعلیٰ کی اپیل پر سدھی ونائیک مندر ، مہالکشمی، ممبادیوی ، بابل ناتھ اور اسکان مندر ٹرسٹوں نے بھی کورونا وائرس کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر مندروں میں شردھالوؤں کے داخلہ پر پابندی لگادی ہے ۔ تمام ہی مندر ٹرسٹوں نے ۳۱؍ مارچ تک پابندی عائد کرتے ہوئے مندروں کے باہر بورڈ بھی چسپاں کیا ہے ۔
 مریضوں کے متعلقین کو اسپتال میں جانےکی اجازت نہیں
 کوروناوائرس سے عوام کو محفوظ رکھنےکیلئے اسپتالوںمیں زیر علاج مریضوں کے متعلقین کو اسپتال میں ملاقات کیلئے جانےکی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ جو رشتے دار مریض کے ساتھ ہے اسی کو اسپتال میں رہنےکی اجازت دی گئی ہے۔ جس سے متعلقین ناراض ہیں مگر اسپتال انتظامیہ کا اقدام مفاد عامہ کے پیش نظر ہے۔ نائراسپتال میں زیر علاج  ایک عمررسیدہ خاتون کے بیٹے نے انقلاب کو بتایا کہ’’ کوروناوائر س کے سبب اسپتال میں سیکوریٹی سخت کردی گئی ہے۔ مریضوں سے ملاقات کے وقت بھی متعلقین کو اسپتال میں جانےکی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔  اس کی وجہ سے مریضوںاور ان کےرشتے داروںمیں بےچینی پائی جارہی ہے۔ جمعرات کو نائراسپتال کے گیٹ پر سیکوریٹی عملہ سختی کیساتھ مریضوںکے متعلقین کواسپتال میں جانےسےروک رہاتھا جس سے سیکوریٹی اہلکاروں اور عوام میں بحث و تکرار بھی ہوئی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK