مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ امریکی درآمدی محصولات کا ہندوستانی معیشت پر کیا اثر پڑے گا، اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، لیکن اس بارے میں فی الحال کوئی اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 10:23 PM IST | New Delhi
مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ امریکی درآمدی محصولات کا ہندوستانی معیشت پر کیا اثر پڑے گا، اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، لیکن اس بارے میں فی الحال کوئی اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔
مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے پیر کو کہا کہ امریکی درآمدی محصولات کا ہندوستانی معیشت پر کیا اثر پڑے گا، اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے، لیکن اس بارے میں فی الحال کوئی اندازہ لگانا قبل از وقت ہوگا۔
سیتارمن نے کہا کہ امریکہ کی محصولات کی پالیسی کا جائزہ وزیرِ تجارت پیوش گوئل لے رہے ہیں۔ وہ یہاں ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے مرکزی بورڈ آف ڈائریکٹرز کی بجٹ کے بعد ہونے والی روایتی میٹنگ کے بعد میڈیا سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس موقع پر آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے:بافٹا ۲۰۲۶ء: بالی ووڈ کے ’’ہی مین ‘‘دھرمیندر کو خراج عقیدت
آر بی آئی گورنر نے خدشات کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کا مالیاتی نظام مضبوط ہے۔ وزیرِ خزانہ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ حکومت کی جانب سے نئے محصولات سے متعلق اقدامات کے اعلان کے بعد عالمی منڈیوں میں ردِعمل دیکھنے کو مل رہا ہے اور مختلف ممالک اپنے تجارتی خطرات اور ترقی کے امکانات کا ازسرِ نو جائزہ لے رہے ہیں۔ آر بی آئی کو عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود کسی بڑے مالی دباؤ کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آرسنل نے ٹوٹنہم ہاٹسپر کو قابو کر کے پوائنٹس ٹیبل پر پوزیشن مستحکم کر لی
مالیاتی پالیسی کی سمت کے بارے میں گورنر نے دُہرایا کہ شرحِ سود سے متعلق فیصلے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ’’شرحِ سود کا فیصلہ معاشی ترقی اور افراطِ زر کی بدلتی صورتحال پر منحصر ہوگا۔ ہم تمام منڈیوں کے لیے مضبوطی کے ساتھ لیکویڈیٹی فراہم کریں گے۔‘‘ آج کی اس میٹنگ میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ پنکج چودھری اور آر بی آئی کے مرکزی بورڈ کے اراکین نے شرکت کی، جس میں مجموعی معاشی صورتحال، مالیاتی شعبے کے استحکام اور مرکزی بجٹ کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔