ہنگولی میں اسکول ہیڈ ماسٹر پر شراب پی کر کلاس میں آنے کا الزام تھا، ابھیجیت دپکے کے پہنچنے سے پہلے انتظامیہ نے ہیڈ ماسٹر کو چلتا کر دیا۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 3:51 PM IST | ZA Khan | Hingoli
ہنگولی میں اسکول ہیڈ ماسٹر پر شراب پی کر کلاس میں آنے کا الزام تھا، ابھیجیت دپکے کے پہنچنے سے پہلے انتظامیہ نے ہیڈ ماسٹر کو چلتا کر دیا۔
’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھجیت د پکے کی جانب سے شروع کی گئی ’اسکول ٹھیک کرو‘‘ مہم کا اثر ہنگولی ضلع میں دیکھنے کو ملا ہے۔ ضلع کے لمبالا گاؤں میں واقع ضلع پریشد اسکول کے ہیڈ ماسٹر ونود کٹکے کو مبینہ طور پر دن کے وقت شراب نوشی کرنے کے معاملے میں معطل کر دیا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ابھجیت دپکے نے اس معاملے میں احتجاج کا انتباہ دیا تھا۔ ان کے ہنگولی پہنچنے سے قبل ہی ضلع پریشدنے ہیڈ ماسٹر کو معطل کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: بینکنگ شعبہ میں اصلاحات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کا منصوبہ
ہیڈ ماسٹر کے خلاف کارروائی کے باوجود دپکے نے اسکول میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے چار نئے اساتذہ کی فوری تقرری کا مطالبہ کیااور اسکول میں دھرنا شروع کر دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق ہنگولی ضلع کے لمبالا گاؤں کی ضلع پریشد اسکول کے ہیڈ ماسٹر ونود کٹکے پر گاؤں والوں نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ دن کے وقت شراب نوشی کرکے اسکول آتے ہیں۔ ابھجیت دپکے نے جب اسکول کا دورہ کیا تو انہیں ویڈیو دکھایا گیا جس میںہیڈ ماسٹر کے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی ۔ دپکے نے انتظامیہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ ہیڈ ماسٹرپر فوراًکارروائی کی جائے ورنہ وہ منگل کو احتجاج کریں گے۔ منگل کو ابھیجیت دپکے کے ہنگولی پہنچنے سے پہلے ہی ہنگولی ضلع پریشد کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وویک گائیکواڑ نے ہیڈ ماسٹر ونود کٹکے کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا۔ تاہم د پکے کا کہنا ہے کہ صرف ایک استاد کے خلاف کارروائی کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق لمبالا اسکول میں طلبہ کے تعلیمی نقصان کی تلافی کیلئے فوری طور پر ۴؍ نئے اہل اساتذہ مقرر کئے جائیں۔ جب تک اسکول میں نئے اساتذہ کی تقرری نہیں کی جاتی، وہ وہاں سے نہیں جائیں گے بلکہ وہیں دھرنا دیں گے۔ اس کے بعد ایجوکیشن افسر نے ابھیجیت دپکے سے سے فون پر گفتگو کی۔افسر نے لیٹر ہیڈ پر نئے اساتذہ کی تقرری کے سلسلے میں تحریری یقین دہانی دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔فی الحال د پکے لمبالا گاؤں کی اسکول کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک انتظامیہ کی جانب سے تحریری طور پر ٹھوس فیصلہ سامنے نہیں آتا، ان کی یہ تعلیمی جدوجہد جاری رہے گی۔