برآمدات بری طرح متاثر، ۴؍ لاکھ ٹن باسمتی چاول، ۵ء۴؍ہزار ٹن پیاز، ۵؍ سے ۶؍ ٹن تازہ انگور اور دیگر اشیاء بندرگاہوں میں پھنس گئیں۔
EPAPER
Updated: March 08, 2026, 11:51 AM IST | New Delhi
برآمدات بری طرح متاثر، ۴؍ لاکھ ٹن باسمتی چاول، ۵ء۴؍ہزار ٹن پیاز، ۵؍ سے ۶؍ ٹن تازہ انگور اور دیگر اشیاء بندرگاہوں میں پھنس گئیں۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے عالمی تجارتی راستوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے گزرنے والی سپلائی چین سب سے زیادہ متاثر ہے۔ اس جغرافیائی سیاسی کشیدگی کا براہ راست اثر اب ہندوستان کے مغربی ساحلی تجارتی راہداریوں پر محسوس ہونے لگا ہے۔ جے این پی ٹی (نوی ممبئی) اور موندرا پورٹ (گجرات) پر لاجسٹک جام سنگین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے بڑی شپنگ کمپنیوں نے بکنگ معطل کر دی ہے اور جہازوں کو کیپ آف گڈ ہوپ کے لمبے راستے کی طرف موڑ دیا ہے۔ نتیجے کے طور پر ہزاروں کنٹینر جن میں اعلیٰ قیمت کی زرعی اور صنعتی مصنوعات لدی ہیں، ہندوستانی بندرگاہوں پر پھنس گئے ہیں۔ اس کا اثر گھریلو منڈیوں، خاص طور پر واشی اے پی ایم سی میں ریورس فلو بحران کے طور پرظاہر ہو رہا ہے جہاں برآمد کیلئے مقرر کردہ سامان مارکیٹ میں واپس کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مودی کی سمجھوتہ کرنے والی پالیسیوں نے خارجہ پالیسی کو کمزور کیا
ہندوستان سے مشرق وسطیٰ جانے والے کارگو میں زرعی مصنوعات سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ اس وقت بندرگاہوں اور ٹرانزٹ میں بھاری مقدار میں برآمدات پھنسی ہوئی ہیں۔ ان میں باسمتی چاول۴؍ لاکھ ٹن (۲؍ لاکھ ٹن ہندوستانی بندرگاہوں پر، ۲؍ لاکھ ٹن ٹرانزٹ میں پھنسا ہوا ہے۔ وہیں تازہ انگور ۵؍سے۶؍ ٹن (۳۰۰؍ سے زائد کنٹینر) ۵ ؍ہزار ۴۰۰؍ ٹن پیاز (۱۵۰؍ سے ۲۰۰؍ کنٹینر، بنیادی طور پر ناسک سے)، کیلا اور انار ایک ہزار سے زاید ریفر یونٹس میں سیکڑوں ٹن، فروزن بفیلو گوشت۳۰۰؍ سے زائد پوریشیبل کنٹینر میں بڑی مقدار میں پھنسا ہوا ہے۔
برآمدات کے ساتھ ساتھ درآمدی صنعتی اور ضروری مصنوعات بھی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ جیسے سلفر اور جپسم۳؍لاکھ ٹن کی ترسیل میں تاخیر ہوئی ہے۔ خشک میوہ جات اور کھجوریں ۶۰۰؍ سے۷۰۰؍ کنٹینرس بندر عباس جیسے مراکز پر پھنسے ہوئے ہیں۔ وہیں ایل پی جی کے۵؍ بڑے جہازوں کا رخ موڑ دیا گیا ہے یا ان کی آمد کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی برآمدات پر پابندی سے کسانوں اور تاجروں کو دوگنا نقصان پہنچا ہے۔ واشی اے پی ایم سی میں کیلا کی قیمتیں ۲۵؍ روپے فی کلو سے کم ہو کر۱۵؍ روپے فی کلو ہو گئی ہیں۔ برآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہول سیل مارکیٹ میں ذیادہ ذخیرہ پہنچ رہا ہے۔ برآمد کنندگان کو جے این پی ٹی پر فی کنٹینر۸؍ ہزار۵۰۰؍روپے یومیہ بجلی (پلگ ان) اور اسٹوریج چارجز کے طور پر دینا پڑرہا ہے۔ جے این پی ٹی پر۵؍ ہزار سے زیادہ کنٹینر گراؤنڈیڈ، پارکنگ پلازہ اور ٹرمینل بھرے ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو مشرق وسطیٰ کی جنگ نے ہندوستان کی سپلائی چین کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر یہ جنگ طویل عرصے تک جاری رہی تو اس کا زرعی برآمدات، صنعتی پیداوار، توانائی کی حفاظت اور ملکی قیمتوں پر بڑا اثر پڑ سکتا ہے۔ اس اندیشے کو دیکھتے ہوئے ہندوستانی بازوں میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔