Inquilab Logo Happiest Places to Work

تراویح سنانے والوں میں نابینا حفاظ بھی پیش پیش

Updated: March 08, 2026, 1:13 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

نمائندۂ انقلاب نےایسے تین حفاظ سےگفتگو کی جنہوں نےسماعت کرکے حفظ کیا اورکئی سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں ۔ حافظ محمد فرقان، محمد فہیم اورعمر فاروق پونے کے جامعہ عبداللہ بن ام مکتوم کےطالب علم ہیں ، اس وقت جامعہ میں ۱۷؍ صوبوں کے ۲۱۰؍طلباءا ورطالبات زیر تعلیم ہیں، انہیں دینی اور عصری علوم سے آراستہ کیا جارہا ہے۔

Three blind students of Abdullah bin Umm Maktoum University studying in Braille. Photo: INN
جامعہ عبداللہ بن ام مکتوم کےتینوںنابینا حفاظ طلبہ بریل سے پڑھائی کرتےہوئے ۔ تصویر: آئی این این

نابینا حفاظ بھی اہتمام کے ساتھ تراویح پڑھانے میںمصروف ہیں۔ان ۳؍حفاظ نے الگ الگ اداروں میںسماعت کرکے (پوچھ کر) حفظ کیا اور اب وہ پونے کے جامعہ عبداللہ بن ام مکتوم میں بریل زبان سیکھ کر عالمیت کررہے ہیں۔ ۲۰؍ سالہ حافظ محمد فرقان مسعود احمد (بالاپور) نے امسال کونڈوہ (پونے )علاقے کی ایک سوسائٹی میں ۱۰؍ روزہ تراویح پڑھائی۔ حافظ محمد فرقان نے حفظ بالاپور کے جامعہ عربیہ بحر العلوم میں کیا۔ اس کے بعد جامعہ ہٰذا میں داخلہ لے کر بریل زبان سیکھی اوراَب عالمیت کررہے ہیں، عربی چہارم کے طالب علم ہیں۔ انہوں نے حفظ سماعت کرکے چار سال میں مکمل کیا۔ تراویح سنانے کا ان کا یہ تیسرا سال تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ریاست میں ۳۰۰؍ کروڑ درخت لگانے کا وزیر اعلیٰ کا عزم

محمد فہیم محمد اختر کشمیری (۱۸) کونڈوہ کی مسجد عرفات میں ۲۷؍روزہ تراویح پڑھارہے ہیں۔ ۱۵؍ سال کی عمر سے تراویح پڑھانا شروع کیا اور یہ چوتھا سال ہے۔ انہوں نے جامعہ ابوبکر صدیق لولاب شجرو ضلع ریاسی (کشمیر )میں ۵؍ سال کے عرصے میں حفظ کیا۔ یہ جامعہ ٰہذا میں عربی چہارم میں زیرتعلیم ہیں۔

حافظ عمر فاروق (۱۸) نےجامعہ عبداللہ بن ام مکتوم کی مسجد میں۱۰ روزہ تراویح پڑھائی۔ ان کا بھی تراویح پڑھانے کا یہ چوتھا سال تھا،وہ ۱۵ ؍ سال کی عمر سے سنارہے ہیں۔ حافظ عمر فاروق نے حفظ جامعہ عثمانیہ ضلع رامبندکشمیر میں ۲؍ سال کی مدت میں ۱۳؍سال کی عمر میںکیاتھا۔ جامعہ میں وہ عربی دوم میں زیرتعلیم ہیں۔انہوں نے حفظ کرنے کے دوران شروع میں ڈیڑھ صفحہ پھر ڈھائی تین صفحہ اور اخیر میں چار پانچ صفحہ تک سبق سنایا۔

ان تینوں نابینا حفاظ سے نمائندۂ انقلاب کے یہ پوچھنے پرکہ ان کے حفظ کرنے کا طریقہ کیا تھا ؟ تو انہوں نے بتایاکہ ’’ہم اپنے اساتذہ کے قریب بیٹھتے تھے ،ان سے ایک ایک آیت پوچھ کر اسے یاد کرتے تھے ،اس کےبعد دوسری آیت اورپھر تیسری، اس طرح آگے بڑھتے تھے۔ استاد کے درسگاہ میںنہ ہونے پرکسی ساتھی طالب علم کویہ ذمہ داری سونپ دی جاتی تھی کہ وہ ہماری رہنمائی کرے۔ ‘‘ اسی طرح یہ پوچھنے پر کہ چھوٹی آیات توایک دفعہ یا دو دفعہ سن کریاد کرلیتے تھے لیکن بڑی آیات یاد کرنے کی ترتیب کیا ہوتی تھی تو ان نابینا حفاظ کا کہنا تھا کہ’’ ایک ایک ٹکڑا یاد کرتے اور آگے بڑھتے جاتے تھے،پوری آیت یاد ہونے کےبعد اسے ملاکر دہراتے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’ مہایوتی حکومت کا بجٹ قرض لے کر پٹاخے پھوڑنے جیسا ہے‘‘

واضح ہوکہ دیگر نابینا حفاظ حافظ محمد بھدرہ ، حافظ عتیق الرحمٰن ، حافظ محمد ثاقب اور حافظ محمد ریحان بھی الگ الگ مقامات پر امسال بھی تراویح پڑھا رہے ہیں،گزشتہ سال اسی کالم میںان کی تفصیلات شائع کی جاچکی ہیں۔ ان میں سے حافظ مولانا محمد بھدرہ جامعہ عبداللہ بن ام مکتوم کی شاخ کشمیر میں اور حافظ مولانا محمد ثاقب بھڑوچ میں نابیناؤں کے ایک ادارے میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ادارے کے سربراہ مفتی رئیس احمداشاعتی کے مطابق نابینا طلبہ کی سہولت کی خاطرقرآن پاک ، فقہ ، اصول فقہ ، حدیث اورصحاح ستہ وغیرہ تمام کتب بریل زبان (ابھرے ہوئے نقاط) میںمہیا کرائی گئی ہیں۔ اس وقت جامعہ عبداللہ بن ام مکتوب (کوثر باغ کونڈوہ پونے) میں ۱۷؍ صوبوں کے ۲۱۰؍طلباء اورطالبات زیر تعلیم ہیں۔ انہیں دینی اور عصری علوم سے آراستہ کیا جارہا ہےاور کوئی فیس نہیں لی جاتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK