Inquilab Logo Happiest Places to Work

امتیاز علی نے ’’لو آج کل‘‘ کے سیکویل کو ’’بیکار تجربہ‘‘ قرار دیا

Updated: May 28, 2026, 10:01 PM IST | Mumbai

امتیاز علی نے اعتراف کیا ہے کہ فلم ’’لو آج کل‘‘ ایک ’’بیکار تجربہ‘‘ ثابت ہوئی۔ فلمساز نے انکشاف کیا کہ یہ فلم ابتدا میں ’ریورس‘ نامی ایک الگ کہانی تھی اور اسے اصل میں ۲۰۰۹ء کی ہٹ فلم ’’لو آج کل‘‘ کے سیکوئل کے طور پر تصور نہیں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق بعد میں تجارتی وجوہات کی بنا پر اسے فرنچائز سے جوڑا گیا۔

Imtiaz Ali Photo: INN
امتیاز علی۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار امتیاز علی نے اپنی ۲۰۲۰ء کی فلم ’’لو آج کل‘‘ کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے اسے ایک ’’بیکار تجربہ‘‘ قرار دیا ہے۔ فلمساز نے حالیہ انٹرویو میں اعتراف کیا کہ فلم نہ صرف تخلیقی سطح پر ان کی توقعات پر پوری نہیں اتری بلکہ اسے ابتدا سے ہی ’’لو آج کل‘‘ کے سیکوئل کے طور پر بنانے کا ارادہ بھی نہیں تھا۔ امتیاز علی کے مطابق، یہ پروجیکٹ اصل میں ’ریورس‘ کے نام سے ایک مکمل طور پر الگ کہانی تھا، جس کا ان کی ۲۰۰۹ء کی رومانوی فلم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ تاہم بعد میں اسے فرنچائز کا حصہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’چنری چنری‘‘ ریمیک: ابھیجیت بھٹاچاریہ اور انو ملک کی تنقید

زوم کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ صرف تجارتی فائدے کیلئے سیکوئلز بنانے کے تصور سے اتفاق نہیں کرتے، کیونکہ ایسی سوچ تخلیقی عمل کو محدود کر دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’صرف اس لئے کہ کوئی چیز تجارتی طور پر کامیاب ہو سکتی ہے، اس بنیاد پر کہانی بنانا ایک غلط آغاز ہے۔ میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ جب تک کوئی چیز اندر سے مجھے مجبور نہ کرے، صرف دوسرے حصے بنانے میں میری دلچسپی نہیں ہوتی۔‘‘فلمساز نے واضح کیا کہ فلم ’’لو آج کل‘‘ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ’’ایک وقت تھا جب میں ایک مختلف کہانی پر کام کر رہا تھا اور اسے ’لو آج کل ۲ ‘ نہیں کہنا چاہتا تھا۔ میں اسے ’ریورس‘ کہہ رہا تھا، لیکن بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ شاید اسے ’لو آج کل ۲‘ کہنا تجارتی طور پر بہتر ہوگا۔ میرے خیال میں یہ فیصلہ فلم کے حق میں نہیں گیا۔‘‘ یاد رہے کہ ’’لو آج کل ۲‘‘ میں سارہ علی خان اور کارتک آرین نے مرکزی کردار ادا کئے تھے۔ فلم نے ریلیز سے پہلے کافی توجہ حاصل کی تھی، خاص طور پر دونوں اداکاروں کی جوڑی اور اصل ۲۰۰۹ء والی فلم کی مقبولیت کی وجہ سے۔

یہ بھی پڑھئے: یہ حیرت انگیز ہے کہ ہندوستان میں’’الفا‘‘ جیسی ایکشن فلم بن رہی ہے :بوبی دیول

فلم ’’لو آج کل‘‘ میں سیف علی خان اور دپیکا پڈوکون کی جوڑی کو بے حد پسند کیا گیا تھا اور فلم وقت کے ساتھ ایک کلٹ رومانوی ڈرامہ بن گئی۔ اسی وجہ سے ۲۰۲۰ء کی فلم سے توقعات بہت زیادہ تھیں، لیکن ریلیز کے بعد فلم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین اور ناظرین دونوں نے اسکرین پلے، مکالموں، جذباتی گہرائی اور پرفارمنس کو کمزور قرار دیا۔خاص طور پر سارہ علی خان کی اداکاری اور بعض جذباتی مناظر سوشل میڈیا پر طنز اور میمز کا موضوع بن گئے تھے۔ کئی ناظرین نے فلم کا اصل ورژن سے موازنہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی فلم میں وہ جذباتی سچائی اور رومانوی کشش موجود نہیں جو پہلی فلم کی پہچان تھی۔

امتیاز علی نے اب اعتراف کیا ہے کہ تخلیقی نقطۂ نظر کے بجائے ’’تجارتی قابلِ عمل‘‘ پروجیکٹ بنانے کی سوچ نے فلم کو متاثر کیا۔ ان کے مطابق، ’’کوئی بھی فلم مجھے دو سال تک صرف اس لئے پرجوش نہیں رکھ سکتی کہ وہ منافع بخش ہو گی۔ کہانی کے ساتھ حقیقی تخلیقی تعلق ہونا ضروری ہے۔‘‘ دریں اثنا، امتیاز علی اپنی نئی فلم ’’واپس آؤں گا‘‘ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ فلم میں دلجیت دوسانجھ، نصیرالدین شاہ، شروری واگھ اور ویدانگ رائنا شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK