فلسطینی سفیر ریاض منصور نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی کیلئے اسرائیل کی مکمل واپسی ضروری ہے، ساتھ ہی انہوںنے یہ بھی کہا کہ اسرائیل غزہ کے مستقبل کو طے کرنے کی خواہش ختم کرے۔
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 8:02 PM IST | New York
فلسطینی سفیر ریاض منصور نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی کیلئے اسرائیل کی مکمل واپسی ضروری ہے، ساتھ ہی انہوںنے یہ بھی کہا کہ اسرائیل غزہ کے مستقبل کو طے کرنے کی خواہش ختم کرے۔
اقوام متحدہ میں فلسطینی سفیر ریاض منصور نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کی کامیابی اور استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ اسرائیل مکمل طور پر اس علاقے سے اپنی فوجیں نکال لے اور غزہ کے مستقبل کو طے کرنے کیخواہش کو ختم کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی عوام کی تکالیف کو بھی دیگر کی طرح فوری طور پر ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم امن منصوبے کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ اس نے قتل و غارت، قحط اور انسانی المیے کو فوری طور پر ختم کرنے کا راستہ پیش کیا ہے۔‘‘انہوں نے تمام اسرائیلی یرغمالوں اور قیدیوں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ،’’ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جنگ بندی سے ہزاروں جانیں بچائی گئی ہیں، لیکن یہ اہداف ابھی تک مکمل طور پر حاصل نہیں ہوئے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اوآئی سی کا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فلسطین کی مکمل رکنیت کا مطالبہ
بعد ازاں منصور نے فلسطین کی تباہی پر عدم جوابدہی پر سوال اٹھایا اور پوچھا: ’’ان لاکھوں فلسطینی خاندانوں کا کیا جن کے پیاروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جن میں ہزاروں لاشیں اب بھی ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جنہیں ڈھونڈنا، شناخت کرنا اور باعزت طریقے سے سپرد خاک کرنا باقی ہے؟‘‘ انہوں نے اسرائیلی افواج کے انسانی تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو یو این آر ڈبلیو اے اور این جی او سمیت انسانی امدادی کارکنوں کے خلاف جارحیت ختم کرنا ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ ’’غزہ فلسطینی خطے کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہ فلسطینی عوام کا ہے، کسی اور کا نہیں۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ غزہ کو مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے کے ساتھ دوبارہ متحد ہونا چاہیے اور فلسطینی خودارادیت اور ریاست کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔‘‘منصور نے کہا کہ فلسطین امریکہ اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’فلسطین کو کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں منصفانہ امن کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ اس کی غیر موجودگی میں وہ سب سے زیادہ ناانصافی کا شکار ہیں۔‘‘