ودربھ کے گڈچرولی ضلع میں واقع دھانورا تعلقہ کے جپ تلائی گائوں میں ایک آشرم اسکول کے ہوسٹل میں سانپ گھس آیا اور وہاں سو ئی ہوئی لڑکیوں کو کاٹ لیا
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 8:18 AM IST | Gadchiroli
ودربھ کے گڈچرولی ضلع میں واقع دھانورا تعلقہ کے جپ تلائی گائوں میں ایک آشرم اسکول کے ہوسٹل میں سانپ گھس آیا اور وہاں سو ئی ہوئی لڑکیوں کو کاٹ لیا
ودربھ کے گڈچرولی ضلع میں واقع دھانورا تعلقہ کے جپ تلائی گائوں میں ایک آشرم اسکول کے ہوسٹل میں سانپ گھس آیا اور وہاں سو ئی ہوئی لڑکیوں کو کاٹ لیا۔ ان میں سے ۳؍ لڑکیوں کی موت ہو گئی جبکہ ۳؍ دیگر لڑکیاں زخمی ہیں ۔ ان کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ مہلوک بچیوں کی عمر ۸؍، ۱۲؍ اور ۱۴؍ سال ہے۔ اس معاملے میں انتظامیہ پر لا پروائی کا الزام لگ رہا ہے۔ حکومت نے جانچ کا حکم دیدیا ہے۔ اس واقعہ کی خبر سرخیوں میں آنے کے آشرم اسکول انتظامیہ کی لاپرواہی کے خلاف شہریوں میں شدید غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اطلاع کے مطابق جپ تلائی گائوں میں واقع اس آشرم اسکول کی تمام طالبات اتوار کو’ یوم قبائل‘ م کی مناسبت سے منعقدہ پروگرام میں حصہ لینے کے بعد ہوسٹل لوٹے تھے۔ تمام طالبات نے رات کا کھانا کھایا اور معمول کے مطابق اپنے کمروں میں سو گئے۔ یہ چھوٹی بچیاں بستر کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے فرش پر سو رہی تھیں۔ آدھی رات کے قریب ایک زہریلا سانپ کمرے میں داخل ہوا اور اس نے ایک دو نہیں ۶؍ لڑکیوں کو ڈس لیا۔ درد محسوس ہونے پر لڑکیوں نے چیخ ماری تو ہوسٹل کا عملہ جاگ گیا اور ان لڑکیوں کے پاس پہنچا۔ فوری طور پرسانپ کا شکار ہونے والی ان لڑکیوں کو اسپتال پہنچایا گیا۔ تاہم بروقت مناسب علاج نہ ملنے اور زہر ان کے جسم میں داخل ہو جانے کی وجہ سے ان میں سے ۳؍ لڑکیاں دم توڑ گئیں۔ ان لڑکیوں کے نام دپیکا لاکڑا (۱۲) ، سشمتا منڈل( ۱۴) اور انو کوریٹی (۸) بتائے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ دیپکا ماڈوی (۱۰) کویتا کرنگا (۱۲) اور سمردھی نیتم ( ۱۴) زخمی ہیں۔
یاد رہے کہ اس علاقے میںمانسون کے دوران زہریلے جانداروں (سانپ ، بچھو وغیرہ) کی تعداد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ لہٰذا گھروں یا ہوسٹلوں میں بچوں کیلئے اونچائی پر سونے کا انتظام کیا جاتا ہے لیکن اس آشرم اسکول میں ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ یہ بچیاں زمین ہی پر سوئی ہوئی تھیں۔ اسکول کے احاطے میں ضروری صفائی ستھرائی، کیڑے مار ادویات کا چھڑکاؤ یا دیگر حفاظتی اقدامات بھی نہیں کئے گئے تھے۔
واقعہ کی اطلاع ملتے ہی طلبہ کے رشتہ دار گڈچرولی ضلع اسپتال پہنچے۔ اپنی بچیوں کی اچانک اور دردناک موت کو دیکھ کر والدین اور لواحقین اسپتال کے احاطے میں دھاڑیں مار مار کر رو پڑے۔ جہاں قبائلیوں کی ترقی اور بہبود کے بڑے بڑے دعوے کئے جا رہے ہیں، وہیں اس واقعے نے قبائلی علاقوں کے آشرم اسکولوں میں بنیادی سہولیات اور علاج کی کمی کو اجاگر کر دیا ہے۔ والدین نے اس معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور خاطیوں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ گڈچرولی ضلع کے ایک رہائشی آشرم اسکول میں سانپ کے کاٹنے سے تین طالبات کی موت پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ اور ضلع کے سرپرست وزیر دیویندر فرنویس نے کہا ہےکہ انہیں اس واقعہ کی اطلاع ملی ہے اور انہوں نے اس سلسلے میں انتظامیہ سے مزید اور تفصیلی معلومات طلب کی ہیں۔ ساتھ ہی پولیس کو اس معاملے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس دوران انتظامیہ نے اطلاع دی ہے کہ زخمی بچیوں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ناگپور پہنچایا گیا ہے جہاں انہیں جی ایم سی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ ان تینوں میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے لیکن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جی ایم سی اسپتال میں علاج کی بہترین سہولیات موجود ہیں اور ڈاکٹر پوری مستعدی سے علاج کر رہے ہیں۔