• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ناندیڑ: محنت کش خاندان کی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کیلئے گاؤں والوں نے چندہ جمع کیا

Updated: September 25, 2026, 5:18 PM IST | ZA Khan | Nanded

بارڈ گاؤں کی رہنے والی ہونہار طالبہ کاجل چوہان کو رکن اسمبلی شریجا چوہان کا بھی ساتھ ملا، تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

Village representatives handing over a cheque for the collected fee amount. Photo: INN
گاؤں کے نمائندہ افرادفیس کی ادائیگی کےلئے جمع کی گئی رقم کا چیک دیتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

اگر طالب علم /طالبہ کے ارادے مضبوط ہوں اورکوششیںانتھک ہوں تو سماج بھی اسکے خواب کو اپنا خواب سمجھ لیتا ہے ۔پھر مشکلات بھی راستہ چھوڑ دیتی ہیں اور منزل آسان ہوجاتی ہے۔  ناندیڑ ضلع کے مڈکھیڑ تعلقہ کے بارڈ گاؤں میں ایسی ہی ایک حوصلہ افزا مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک محنت کش خاندان کی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کے لئے پورا گاؤں متحد ہوگیا ہے۔ گاؤں والوں نے اجتماعی طور پر چندہ جمع کرکے نہ صرف اس  ہونہار طالبہ کی ایم بی بی ایس کی تعلیم کا راستہ ہموار کیا بلکہ اب رکن اسمبلی شریجا چوہان نے بھی اس کی مکمل تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق مڈکھیڑ کے بارڈ گاؤں کی رہنے والی کاجل چوہان اپنی محنت اور تعلیمی قابلیت کی بنیاد پر ایم بی بی ایس کورس میں داخلے کی اہل بنیں۔  قابل ذکر ہے کہ کاجل کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو محنت مزدوری کرکے اپنے اخراجات پورا کرتا ہے۔ ایم بی بی ایس میں داخلہ ملنے کے بعد جہاں خاندان میں خوشی کا ماحول تھا، وہیں مہنگی طبی تعلیم کے اخراجات ایک بڑا سوال بن کر سامنے کھڑے ہوگئے۔کاجل کے والدین کیلئے بیٹی کی تعلیم کا خرچ برداشت کرنا آسان نہیں تھا۔ داخلے کے باوجود مالی مشکلات اس کے ڈاکٹر بننے کے خواب کی راہ میں رکاوٹ بن رہی تھیں۔ جب یہ بات گاؤں والوں کے علم میں آئی تو انہوں نے اسے صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہ سمجھتے ہوئے پورے گاؤں کی ذمہ داری قرار دیا۔کاجل کی مالی دشواریوں کا علم ہونے کے بعد گاؤں کے لوگوں نے اجتماعی طور پر چندہ جمع کرنے کا فیصلہ کیا۔ مختلف افراد نے اپنی استطاعت کے مطابق مالی تعاون کیا اور پھر قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے کے مصداق دیکھتے ہی دیکھتے اتنی رقم جمع ہوگئی کہ کاجل کی ایم بی بی ایس کے پہلے سال کی مکمل فیس ادا کردی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: میکلمور کا ’فری فلسطین ٹور‘ کا اعلان

اس طرح گاؤں والوں کی اس اجتماعی کوشش نے نہ صرف کاجل کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے میں مدد کی بلکہ اسے یہ احساس بھی دلایا کہ اسکے خواب کو پورا کرنے میں پورا گاؤں اسکے ساتھ کھڑا ہے۔  کاجل کی کہانی صرف ایک طالبہ کے ڈاکٹر بننے کے خواب کی کہانی نہیں، بلکہ یہ دیہی معاشرے میں اجتماعی تعاون، انسانی ہمدردی اور باصلاحیت طلبہ کی حوصلہ افزائی کی ایک حوصلہ افزا مثال بھی ہے۔ایک محنت کش خاندان کی بیٹی نے اپنی محنت سے ایم بی بی ایس میں داخلہ حاصل کیا، مالی مشکلات سامنے آئیں تو گاؤں والوں نے متحد ہوکر اسکا ساتھ دیا، پہلے سال کی فیس ادا کی اور اب رکن اسمبلی نے بھی دست تعاون دراز کیا ہے۔

رکن اسمبلی نے کہا ’’بیٹی تم اپنی تعلیم پر توجہ دو،اخراجات کی فکر چھوڑو‘‘

کاجل چوہان کی مالی مشکلات اور گاؤں والوں کی جانب سے اسکی مدد کی خبر جب رکن اسمبلی شریجا چوہان تک پہنچی توانہوں نے بھی کاجل کی مدد کے لئے آگے آنے کا فیصلہ کیا۔شریجا چوہان نے کاجل کو یقین دہانی کراتے ہوئے کہا: ’’تم صرف اپنی تعلیم پر توجہ دو، تمہاری تعلیم کا مکمل خرچ میں برداشت کروں گی۔‘‘رکن اسمبلی کی اس یقین دہانی کے بعد کاجل اور اس کے اہل خانہ کو مزید حوصلہ ملا ہے۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK