ایم ایسٹ وارڈ میں مجلس اتحاد المسلمین کے ۸؍ امیدواروں نے فاتح حاصل کی۔ کئی علاقوں میں سیٹنگ کارپوریٹروں نے اپنی طاقت ثابت کی۔ دھاراوی سے بی جے پی کا صفایا۔
کانگریس کے کامیاب امیدوار ایک ساتھ۔ سنگیتا کولی، حیدر علی شیخ اور رفیق شیخ۔ تصویر: آئی این این
ممبئی میں میونسپل کارپوریشن الیکشن کے جمعہ کو خبر لکھے جانے تک جو نتائج آئے ہیں، ان سے پتہ چلتا ہے کہ اس مرتبہ مسلم علاقوں کے رائے دہندگان نے نئی پارٹیوں اور نئے امیدواروں کو بھی موقع دیا ہے جس کی سب سے بڑی مثال گنجان مسلم آبادی والے ’ایم ایسٹ وارڈ‘ میں دیکھنے کو ملی جہاں حیرت انگیز طور پر ’ مجلس اتحادالمسلمین‘ ( ایم آئی ایم) سب سے بڑی پارٹی بن کر اُبھری اور یہاں اس کے اکثر امیدواروں نے سماج وادی پارٹی کو نقصان پہنچایا۔
واضح رہے کہ ایم ایسٹ وارڈ میں مانخورد، دیونار، شیواجی نگر، رفیع نگر، کملا رمن نگر، چیتا کیمپ، ایکتا نگر، رمابائی نگر اور گوتم نگر جیسے علاقے شامل ہیں۔ یہاں ۲۰۱۷ء میں چیتا کیمپ کے وارڈ نمبر ۱۴۵؍ سے ایم آئی ایم کے امیدوار شاہنواز سرفراز حسین شیخ کو کامیابی ملی تھی۔ تاہم اس مرتبہ وہ آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے لیکن انہیں ہار کا سامناکرنا پڑا اور اس وارڈ سے ایم آئی ایم کی خیرالنساء اکبر حسین کو کامیابی ملی۔
یہاں جیت درج کرنے والےایم آئی ایم کے امیدواروں میں وارڈ نمبر ۱۳۴؍ سے مہ جبین عتیق احمد خان، ۱۳۶؍ سے ضمیر قریشی، ۱۳۷؍ سمیر پٹیل، ۱۳۸؍ روشن عرفان شیخ، ۱۳۹؍ سے شبانہ عاطف شیخ، ۱۴۰؍ وجئے تاتوبا، ۱۴۳؍ سے شبانہ فاروق قاضی اور ۱۴۵؍ سے خیرالنساء اکبر حسین شامل ہیں۔
کچھ مقامات پر عوام نے ماضی کی روایت کا قائم رکھتے ہوئے سٹنگ کاپوریٹر یا اسی پارٹی کو موقع دیا جس کی مثال کرلا میں دیکھنے کو ملی جہاں کانگریس کے سٹنگ کارپوریٹر اشرف اعظمی نے وارڈ نمبر ۱۶۵؍ میں این سی پی (اجیت پوار) کے سینئر لیڈر نواب ملک کے بھائی عبدالرشید کپتان ملک کو ہرایا۔ کپتان ملک وارڈ نمبر ۱۷۰؍ سے کارپوریٹر تھے اور اشرف اعظمی کے وارڈ ۱۶۵؍ سے الیکشن لڑرہے تھے لیکن کامیاب نہیں ہوسکے۔ جبکہ اشرف اعظمی کی بیٹی ڈاکٹر سمن نے وارڈ نمبر ۱۶۷؍ سے کامیابی حاصل کی ہے۔ اس وارڈ سے ۲۰۱۷ء میں اشرف اعظمی کی اہلیہ دلشاد بانو نے الیکشن جیتا تھا لیکن اس مرتبہ انہوں نے اپنی بیٹی کو انتخاب لڑنے کا موقع دیا تھا۔
کرلا میں کپتان ملک کے وارڈ نمبر ۱۷۰؍ سے ان کی بہو بشرا ندیم نے الیکشن میں فتح حاصل کی ہے جبکہ نواب ملک کی بہن ڈاکٹر سعیدہ خان وارڈ نمبر ۱۶۸؍ سے کامیاب ہوئی ہیں۔
کرلا میں ہی وارڈ نمبر ۱۶۲؍ سے ۲۰۱۷ء میں کانگریس کے واجد قریشی نے فتح حاصل کی تھی البتہ اس وارڈ سے اس مرتبہ کانگریس کے سینئر لیڈر محمد عارف (نسیم) خان کے فرزند امیر خان نے کامیابی حاصل کی ہے۔
وڈالا میں وارڈ نمبر ۱۷۹؍ سے ۲۰۱۲ء میں سماج وادی پارٹی کی امیدوار جیوتسنا پرمار کامیاب ہوئی تھیں لیکن ۲۰۱۷ء میں کانگریس کے امیدوار سفیان نیاز احمد ونو یہاں سےجیت گئے۔ اس مرتبہ یہ لیڈیز وارڈ ہوجانے کی وجہ سے سفیان نے اپنی اہلیہ عائشہ کو امیدوار بنایا تھا جو ۶؍ ہزار ۹۳۴؍ ووٹوں سے کامیاب ہوگئی ہیں۔ البتہ خود سفیان ونو الیکشن جیت نہیں سکے وہ وارڈ نمبر ۱۳۸؍ سے امیدوار تھے جہاں ایم آئی ایم کا امیدوار کامیاب ہوا ہے۔
وڈالا آر اےقدوائی مارگ و دیگر علاقوں پر محیط وارڈ نمبر ۲۰۱؍میں سماجوادی پارٹی کی اُمیدوار ارم ساجد احمد صدیقی نے ۶؍ہزار ۳۱۴؍ ووٹ حاصل کر کے فتح حاصل کی ہے۔ اس وارڈ میں ۲۰۱۲ء میں شیوسینا کی امیدوار شویتا رانے کامیاب ہوئی تھیںجبکہ ۲۰۱۷ء میں کانگریس امیدوار سپریہ مورے نے فتح حاصل کی تھی جو اس مرتبہ شیوسینا (شندے) کی امیدوار تھیں۔
مالونی۔ملاڈ اسمبلی حلقے میں کانگریس نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور۴؍ سیٹیں جیت لیں۔ یہ پہلاموقع تھا جب مقامی رکن اسمبلی اسلم شیخ کے صاحبزادے حیدر علی نے مالونی وارڈ نمبر ۳۴؍سے قسمت آزمائی کی اور کانگریس کے چاروں کامیاب ہونے والے امیدواروں میں سب سےزیادہ ووٹ حاصل کئے۔ انہیں ۱۶۶۱۴؍ ووٹ ملےجبکہ جیت کا فرق ۱۲۳۸۸؍ رہا۔ ۲۰۱۷ء میں یہاں سے کانگریس کے ہی قمر جہاں صدیقی کارپوریٹر بنے تھے۔
اسلم شیخ کی بہن سابق کارپوریٹر قمرجہاںصدیقی مالونی وارڈ نمبر ۳۳؍سے میدان میں تھیں۔ انہیں ۱۲؍ہزار۷۴۴؍ ووٹ ملے اورانہوں نے بھی نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ۲۰۱۷ء میں اس وارڈ سے کانگریس کے ویریندر چودھری کارپوریٹر تھے۔
مالونی وارڈ نمبر ۴۸؍ میں کانگریس کے امیدوار رفیق شیخ، سابق کارپوریٹر سلمٰی المیلکر (شیوسینا شندے گروپ) اوراسماعیل شیخ (سماج وادی پارٹی) کے درمیان سہ رخی مقابلہ تھا جس میں رفیق شیخ نے ۱۳؍ ہزار ۱۵۴؍ ووٹ سے کامیابی حاصل کی۔
اس کےعلاوہ وارڈ نمبر ۴۹؍ سے کانگریس کی امیدوار سنگیتا کولی نے بھی کامیابی حاصل کی۔
وارڈ نمبر ۳۲؍ میں گیتا کرن بھنڈاری (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کو ۸۷۷۷؍ ووٹ ملے۔ ان کی مد مقابل شیوسینا شندے گروپ کی امیدوار منالی اجیت بھنڈاری محض ۸۴؍ ووٹ سے شکست کھاگئیںجبکہ کانگریس کی تیسری پوزیشن رہی ۔
دھاراوی میںر ی ڈیولپمنٹ کے سبب عوام کی شدید ناراضگی اوردھاراوی بچاؤ آندولن کے ذمہ داران کی محنت، یقین دہانی اور۱۴؍ مدعوں پرتوجہ مرکوز کرنے کی اپیلوں کا اثر نمایاں طریقے سے دیکھنے کوملا اور یہاں سے بی جے پی کا مکمل صفایا ہوگیا۔
دھاراوی کے وارڈ نمبر ۱۸۳؍ میں آشا کالے (کانگریس)، وارڈ نمبر ۱۸۴؍ لیڈیز سیٹ ہوجانے کی وجہ سے کانگریس کے سٹنگ کارپوریٹر ببو خان نے اپنی اہلیہ ساجدہ کو امیدوار بنایا تھا اور وہ کامیاب ہوئیں۔
وارڈ نمبر ۱۸۵؍ میں ٹی ایم جگدیش (شیوسینا ادھو بالاصاحب ٹھاکرے)، وارڈ نمبر ۱۸۶؍ میں ارچنا شندے (شیوسیناادھوبالا صاحب ٹھاکرے)، وارڈ نمبر ۱۸۷؍ میں جوزف کولی (شیوسینا ادھوبالا صاحب ٹھاکرے)، وارڈ نمبر ۱۸۸؍ میں بھاسکرشیٹی (شیوسینا شندے) اور وارڈ نمبر ۱۸۹؍ میں ہرشلا آشیش مورے (شیوسینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) نے بازی مارلی۔