الہاس نگر میونسپل کارپوریشن میں اقتدار کی رسہ کشی اب اپنے منطقی انجام کو پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ شہر کے سیاسی منظر نامے پر کئی دنوں سے جاری جوڑ توڑ اور مہایوتی کے مابین طویل مشاورت کے بعد بالآخر میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں کیلئے امیدواروں کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
شیوسینا (شندے) کی امیدوار میئر کے عہدے کیلئے پرچہ نامزدگی داخل کرتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این
الہاس نگر میونسپل کارپوریشن میں اقتدار کی رسہ کشی اب اپنے منطقی انجام کو پہنچتی نظر آ رہی ہے۔ شہر کے سیاسی منظر نامے پر کئی دنوں سے جاری جوڑ توڑ اور مہایوتی کے مابین طویل مشاورت کے بعد بالآخر میئر اور ڈپٹی میئر کے عہدوں کیلئے امیدواروں کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ حیران کن طور پر اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کئے جس کے باعث اب ان عہدوں پر حکمراں اتحاد کے امیدواروں کا انتخاب محض ایک رسمی کارروائی رہ گئی ہے۔
میئر کے عہدے کیلئے شیوسینا( شندے) کی حمایت والی ٹیم اومی کلانی کی امیدوار اشونی نکم نے اپناپرچہ نامزدگی داخل کر دیا ہے جبکہ ڈپٹی میئر کیلئے بی جے پی کے کارپوریٹر امر لُنڈ نے پرچہ نامزدگی داخل کیا ہے۔
الہاس نگر کارپوریشن میں اقتدار پر گرفت مضبوط کرنے کیلئے شیوسینا(شندے) نے میجک فگر یعنی ۴۰ کا ہندسہ چھونے کیلئے ونچت بہوجن اگھاڑی، سائی پارٹی اور آزاد کارپوریٹرس کی حمایت حاصل کی ہے۔ ذرائع کے مطابق میئر کیلئے منتخب اشونی نکم کو سابق رکن اسمبلی پپو کلانی اور اومی کلانی کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔ وہ پہلی بار وارڈ نمبر ۶ سے منتخب ہوئی ہیں اور ان کے شوہر کملیش نکم ٹیم اومی کلانی کےترجمان ہیں۔ دوسری جانب ڈپٹی میئر کے امیدوار امر لُنڈ کا تعلق ایک منجھے ہوئے سیاسی خاندان سے ہے جس کے تین افراد پہلے ہی کارپوریٹر رہ چکے ہیں۔اس سیاسی گہما گہمی کے درمیان ونچت بہوجن اگھاڑی کے ضلعی صدر منوج پوار نے یہ انکشاف کر کے ہلچل مچا دی کہ شندے سینا نے ان سے ڈپٹی میئر کے عہدے کا وعدہ کیا تھا جسے اس بار پورا نہیں کیا گیا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ قیادت نے انہیں مستقبل میں ڈپٹی میئر کا عہدہ دینے اور ایک نامزد کارپوریٹر کی نشست دینے کی یقین دہانی کرائی ہےجس کے بعد انہوں نے اپنی حمایت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اگرچہ اپوزیشن کے میدان چھوڑ دینے سے دونوں امیدواروں کی جیت یقینی ہو چکی ہے لیکن الیکشن افسران کی جانب سے اس کا باضابطہ اعلان ۳ ؍فروری کو کیا جائے گا۔