ٹرمپ کےمطابق امید ہے کہ ایران کیخلاف فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ا یرانی نائب صدر کا مذاکرات میں شامل ہونےکا اعلان۔
لبنان میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا پوسٹر لگایا گیا ہے۔ تصویر: اےپی/ پی ٹی آئی
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کی جانب بحری بیڑ ہ روانہ کر دیا ہے لیکن اس کا استعمال نہ کرنا ہی بہتر ہوگا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس وقت امریکہ کے کئی بڑے اور طاقتور جنگی جہاز ایران کی سمت بڑھ رہے ہیں لیکن امید ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی ایران سے مذاکرات ہو چکے ہیں اور مستقبل میں بھی بات چیت کا امکان موجود ہے۔
دوسری ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے زور دیا ہے کہ تہران جنگ شروع نہیں کرے گا اور مذاکرات میں شامل ہونے کے لئے تیار ہے لیکن اس بار واضح ضمانتوں کا حصول ضروری ہے۔ انہوں نے ایک سرکاری اجلاس کے دوران کہا کہ ہم مذاکرات میں شامل ہونے کے لئے تیار ہیں لیکن ہمیں ضمانتیں چاہئے کہ مذاکرات کے دوران ہم پر حملہ نہیں کیا جائے گا لیکن انہوں نے واضح کیا کہ جنگ کی صورتحال کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو اس کا خاتمہ دشمنوں کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ اس سے ان کا اشارہ واشنگٹن کی جانب تھا جو ایران کے خلاف فوجی حملے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔یہ ایرانی بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کہا کہ ایران کے پاس جوہری معاہدہ کرنے کا اختیار موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام آپشنز میز پر ہیں اور ہم ان کے لئے تیار ہیں۔ ہیگستھ نے یہ بھی کہا کہ امریکی وزارت دفاع صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد کیلئے تیار ہو گی۔
دریں اثنا مغربی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ایران میں تشدد کے ذمہ داروں اور لیڈروں کو نشانہ بنانے کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں اور ان کے معاونین ایسے حملوں کا جائزہ لے رہے ہیں جن کے دیرپا اثرات مرتب ہوں۔ ان ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ ان حملوں کا ہدف ایرانی بیلسٹک میزائل اور ایران کے جوہری پروگرام ہو سکتے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ ٹرمپ نئے مظاہروں کی حوصلہ افزائی کے لئے ایران پر بمباری پر غور کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لئےسازگار حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں لیکن ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ نے ابھی تک ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے۔وہیںایران کے پریس ٹی وی کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز میں جنگی مشقوں کا اعلان کیا ہے۔
بین الاقوامی ٹی وی چینل الجزیرہ نے نامعلوم ایرانی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشق میں روس اور چین کی افواج بھی حصہ لیں گی لیکن ایرانی حکام کی جانب سے ان مشقوں میں ان دونوں ممالک کی شمولیت سے متعلق کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
خبررساں ادارے اسوسی ایٹیڈ پریس کی ایک خبر کے مطابق ایران نے جمعرات کو شپنگ کمپنیوں کو بھیجے گئے ایک نوٹس میںکہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں کی جائیں گی۔