• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

انڈیا اتحاد: دہلی میں پارلیمنٹ کی حکمت عملی کیلئے میٹنگ، فلور لیڈران کی شرکت

Updated: December 08, 2023, 9:19 AM IST | Agency | New Delhi

اپوزیشن اتحاد کے تمام اہم لیڈران شریک ہوئے،پارلیمنٹ میں سرکار کو مختلف موضوعات پر گھیرنے اور ۲۰۲۴ء کی حکمت عملی کے تعلق سے گفتگو کی گئی.

Meeting scene of floor leaders and other important leaders of India Alliance. Photo: PTI
انڈیا اتحاد کے فلور لیڈرس اور دیگر اہم لیڈرس کی میٹنگ کا منظر۔ تصویر : پی ٹی آئی

اپوزیشن اتحاد انڈیامیں شامل سیاسی پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ نے  بدھ کی رات دہلی میں ایک میٹنگ کی جس میں اسمبلی انتخابات کے نتیجوں کے بعد پیدا شدہ حالات، پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس میں سرکار کو مختلف موضوعات پر گھیرنے کی کوشش اور ۲۰۲۴ء کے لوک سبھا انتخاب کے مدنظر آگے کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔یہ میٹنگ کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں حزب مخالف لیڈر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ میٹنگ میں کانگریس پارٹی سے ملکارجن کھرگے کے علاوہ راہل گاندھی اور جئے رام رمیش، ڈی ایم کے سے ٹی آر بالو، سماجوادی پارٹی سے رام گوپال یادو، جاوید علی خان اورایس ٹی حسن،عام آدمی پارٹی سے راگھو چڈھا، جنتا دل یو سے راجیو رنجن سنگھ عرف للن سنگھ، آر جے ڈی سے فیاض احمد، این سی پی سے وندنا چوہان، راشٹریہ لوک دل سے جینت چودھری، جے ایم ایم سے مہوا مانجھی، سی پی آئی سے ونئے وشوم اور کچھ دیگر لیڈران شامل ہوئے۔
میٹنگ سے قبل آپ لیڈر راگھو چڈھا نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہاکہ  ہماری گفتگو کئی موضوعات پر رہی لیکن سبھی کا  زور ۲۰۲۴ء کی حکمت عملی پر رہا ۔ انہوں نے کہاکہ  انڈیا اتحاد کو کیسے آگے لے کر جانا ہے، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مرض کو ختم کر کے ملک کو کیسے آگے لے  جانا ہے اس بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ہماری یہ کوشش ہے کہ۲۰۲۴ءمیں ایک ایسا بلیو پرنٹ دیا جائے جس سے ملک اور آگے بڑھے۔قابل ذکر ہے کہ انڈیا اتحاد میں شامل کچھ اہم پارٹیوں کے سربراہان کی عدم دستیابی کے سبب پارلیمانی پارٹی کے لیڈران کی کوآرڈنیشن میٹنگ کی گئی۔ ممتا بنرجی، اکھلیش یادو، نتیش کمار جیسے اہم لیڈران کی موجودگی میں ایک میٹنگ رواں ماہ کے تیسرے ہفتہ میں ہوگی۔ لالو پرساد نے اس تعلق سےاعلان کردیا ہے کہ ۱۷؍ دسمبر کو دہلی میں اہم میٹنگ ہو گی۔
بہرحال انڈیا اتحاد کے لیڈران کی میٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور راجستھان کے اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن  کانگریس نے تلنگانہ میں بڑی جیت درج کی ہے۔ اسمبلی انتخابات میں تین ریاستوں میں کانگریس کی شکست کے بعد انڈیا اتحاد کی کچھ پارٹیوں نے کانگریس پر سوال کھڑے کئے تھے مگر اس وقت سبھی کا فوکس ۲۰۲۴ء کے انتخاب کی حکمت عملی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK