• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان اور پولینڈ کا۲۰۳۰ء تک تجارت دُگنی کرنے کا ہدف

Updated: October 22, 2026, 5:01 PM IST | New Delhi

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پولینڈ نے ۲۰۳۰ء تک دوطرفہ تجارت کو دُگنا کرنے کا مشترکہ ہدف مقرر کیا ہے۔دونوں ممالک اپنی کمپنیوں کے درمیان تعاون بڑھا کر دنیا کے لیے قابلِ اعتماد سپلائی نظام تیار کرنے کی سمت میں بھی کام کریں گے۔

 Narendra Modi with Poland’s Prime Minister Donald Tusk.Photo:PTI
مودی پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونالڈ ٹسک کے ساتھ۔ تصویر:پی ٹی ائی

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پولینڈ نے  ۲۰۳۰ء تک دوطرفہ تجارت کو دُگنا کرنے کا مشترکہ ہدف مقرر کیا ہے۔دونوں ممالک اپنی کمپنیوں کے درمیان تعاون بڑھا کر دنیا کے لیے قابلِ اعتماد سپلائی نظام تیار کرنے کی سمت میں بھی کام کریں گے۔ مودی نے ہندوستان کے دورے پر آئے پولینڈ کے وزیر اعظم کے ساتھ جمعرات کو  دوطرفہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس بیان میں کہا کہ ۲۰۲۴ء میں ان کے دورۂ پولینڈ کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کو اسٹریٹجک شراکت داری کا درجہ دیا گیا تھا۔ گزشتہ دو برسوں میں اس شراکت داری نے نئی رفتار حاصل کی ہے اور حالیہ ملاقات میں اسے مزید مضبوط بنانے کے لیے کئی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:پروین بابی کو بالی ووڈ کی پہلی خاتون سپر اسٹار اور ’ٹرینڈ سیٹر‘ قرار دیا جاتا ہے

وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ نافذ ہونے کے بعد ہندوستان سے پولینڈ کو مشینری، کیمیکل، پلاسٹک اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ ریلوے، ٹرانسپورٹ، جدید مینوفیکچرنگ، فوڈ پروسیسنگ اور بایو ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں پولینڈ سے سرمایہ کاری حاصل کرنے کے امکانات بھی بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے دفاع، خلائی ٹیکنالوجی اور جوہری توانائی کے شعبوں میں تعلقات مضبوط کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہندوستان نے ان شعبوں میں پولینڈ کی کمپنیوں کو مشترکہ ترقی اور پیداوار کے لیے مدعو کیا ہے۔ اہم معدنیات اور کوئلے سے گیس تیار کرنے کے شعبے میں بھی نئی شراکت داریاں قائم کی جائیں گی۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سائبر سیکوریٹی میں تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ہندوستان اور پولینڈ نے `ہندوستان- پولینڈ اسٹارٹ اپ سیتو  قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے نوجوانوں کے درمیان تکنیکی مقابلے بھی منعقد کیے جائیں گے۔ اس سے مصنوعی ذہانت، سائبر سیکوریٹی، مالیاتی ٹیکنالوجی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں تعاون بڑھنے کے ساتھ نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
مودی نے کہا کہ ہندوستان اور پولینڈ کے تعلقات صرف سفارت کاری تک محدود نہیں ہیں، بلکہ دونوں ممالک کے درمیان انسانیت اور ہمدردی کی مشترکہ وراثت بھی موجود ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران جام نگر اور کولہاپور کے شاہی خاندانوں نے پولینڈ کے ہزاروں بچوں اور خاندانوں کو ہندوستان میں پناہ دی تھی۔ پولینڈ کے لوگ آج بھی جام صاحب کو احترام کے ساتھ ڈوبری مہاراجا کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:۸۲؍ فیصد ہندوستانی طلبہ ہاتھ سے نوٹس لکھنے اور روایتی طریقوں سے پڑھائی کے حامی

انہوں نے کہا کہ ۲۰۲۲ء میں یوکرین سے ہندوستانی طلبہ کی محفوظ واپسی میں پولینڈ نے تعاون کیا تھا۔ جام صاحب یوتھ ایکسچینج پروگرام  کے ذریعے پولینڈ کے نوجوان ہندوستان آ رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کی تاریخی دوستی کو نئی نسل تک پہنچانے میں مدد مل رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک نے ثقافت، تعلیم، کھیل اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پولینڈ کے شہر کراکوف میں ہندوستانی مطالعات کی ایک چیئر بھی قائم کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولینڈ کی معیشت نے گزشتہ سال ایک لاکھ کروڑ ڈالر کا ہندسہ عبور کیا، جبکہ ہندوستان نے گزشتہ سہ ماہی میں ۸ء۷؍ فیصد کی اقتصادی ترقی درج کی۔
عالمی مسائل پر تبادلۂ خیال کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ ہندوستان اور پولینڈ جمہوری اقدار اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ دونوں ممالک عالمی اداروں کو مزید مضبوط اور مؤثر بنانے کے لیے اصلاحات کو ضروری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان یوکرین اور مغربی ایشیا میں امن کے لیے کی جانے والی ہر بامعنی کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔ وزیر اعظم نے یقین ظاہر کیا کہ پولینڈ کے وزیر اعظم کے دورۂ ہندوستان سے دونوں ممالک کی اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی توانائی ملے گی اور مستقبل میں ٹیکنالوجی، اختراع اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK