یورپی کمیشن کی صدرکے مطابق ہندوستان اور یورپی یونین اس تاریخی تجارتی معاہدے کے قریب ہیں جسے ’تمام معاہدوں کی ماں‘ کہا جا رہا ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لیئن خطاب کرتےہوئے۔ تصویر: آئی این این
یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لیئن نے بدھ کو کہا کہ ہندوستان اور یورپی یونین اس تاریخی تجارتی معاہدے کے قریب ہیں جسے ’تمام معاہدوں کی ماں‘ کہا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ۲؍ ارب افراد کیلئے ایک بڑا بازار قائم کرے گا۔
ورلڈ اکنامک فورم( ڈبلیوای ایف) میں خطاب کرتے ہوئے وان ڈیر لیئن نے زور دیا کہ یہ نیا معاہدہ عالمی جی ڈی پی کے تقریباً ایک چوتھائی حصہ کو شامل کرے گا اور۲۱؍ ویں صدی میں ہندوستان اور یورپی یونین کو نمایاں اقتصادی کھلاڑی بنائے گا۔ انہوں نے کہا،’’ میں ہندستان کا سفر کروں گی۔ ابھی کام باقی ہے لیکن ہم تاریخی تجارتی معاہدے کے قریب ہیں۔ بعض اسے تمام معاہدوں کی ماں کہتے ہیں جو۲؍ارب افراد کی مارکیٹ تخلیق کرے گا جو عالمی جی ڈی پی کے تقریباً ایک چوتھائی کے برابر ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ یورپ کو دنیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اور سب سے زیادہ متحرک براعظم کے ساتھ سب سے پہلے اس معاہدے میں شمولیت کا فائدہ فراہم کرے گا۔‘‘انہوں نے اس معاہدے کو دونوں خطوں کے لئے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا۔ یہ معاہدہ یورپی کونسل کے صدر انٹونیو کوستا اور یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لیئن کے ہندوستان کے آئندہ دوروں کے دوران حتمی شکل پائے گا جو یوم جمہوریہ پریڈ۲۰۲۶ء کے موقع پر ہوں گے۔ ان کی موجودگی ہندوستان کی عالمی شراکت داریوں اور یورپ کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ امریکہ کی جانب سے عائد محصولات (ٹیرف) پر تشویش کے پیش نظر یورپ اپنی عالمی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور یہ معاہدہ دونوں خطوں کے کاروبار کے لئے نئے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ یہ ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے جو اقتصادی منظرنامے کو برسوں تک بدل دے گا۔ وان ڈیر لیئن نے معاہدے کے فوائد پر بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’یورپ کو دنیا کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اور متحرک براعظم کے ساتھ سب سے پہلے طے پانے والے معاہدےکا فائدہ فراہم کرے گا۔‘‘