Updated: February 16, 2026, 5:05 PM IST
| New delhi
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سیم آلٹ مین نے کہا ہے کہ ہندوستان چیٹ جی پی ٹی کی دنیا کی دوسری سب سے بڑی منڈی بن چکا ہے، جہاں ۱۰۰؍ ملین ہفتہ وار فعال صارفین موجود ہیں۔ ان کا بیان انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ سے قبل سامنے آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں مصنوعی ذہانت کو تیزی سے اپنایا جا رہا ہے، خاص طور پر طلبہ اور نوجوان طبقے میں۔
اوپن اے آئی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر سیم آلٹ مین نے نئی دہلی میں منعقد ہونے والے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ سے قبل انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان چیٹ جی پی ٹی کے لیے دنیا کی دوسری سب سے بڑی منڈی بن کر ابھرا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں اس وقت ۱۰۰؍ ملین ہفتہ وار فعال صارفین موجود ہیں، جو عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال میں بھارت کے نمایاں کردار کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سیم آلٹ مین نے یہ اعداد و شمار ایک مضمون میں شیئر کیے جو اتوار کو ٹائمز آف انڈیا میں شائع ہوا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب دارالحکومت میں پانچ روزہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کا آغاز ہونے والا تھا۔ ان کے مطابق، نوجوان آبادی، وسیع انٹرنیٹ رسائی اور ڈجیٹل تعلیم کے فروغ نے بھارت میں اے آئی ٹولز کو تیزی سے مقبول بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آئین ’ہم لوگ‘ سے شروع ہوتا ہے نہ کہ ’بھارت ماتا کی جئے‘ جیسے نعروں سے: اویسی
عالمی سطح پر چیٹ جی پی ٹی نے اکتوبر ۲۰۲۵ء یک ۸۰۰؍ ملین ہفتہ وار فعال صارفین کا ہندسہ عبور کر لیا تھا اور یہ تعداد اب ۹۰۰؍ ملین کے قریب بتائی جا رہی ہے۔ اس تیز رفتار ترقی میں ہندوستان کا حصہ نمایاں ہوتا جا رہا ہے، جو اوپن اے آئی کی طویل مدتی حکمت عملی کے لیے نہایت اہم سمجھا جا رہا ہے۔ آلٹ مین کے مطابق، ہندوستان میں طلبہ چیٹ جی پی ٹی کے سب سے بڑے صارفین میں شامل ہیں۔ وہ اسے تعلیم، امتحان کی تیاری، کوڈنگ میں مدد اور تحقیقی کام کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ تعلیمی شعبے میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا کردار نہ صرف سیکھنے کے انداز کو بدل رہا ہے بلکہ تعلیمی اداروں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
تعلیم کے میدان میں دیگر اے آئی کمپنیوں نے بھی ہندوستان کو ترجیحی منڈی کے طور پر اختیار کیا ہے۔ بعض حریف ادارے طلبہ کو مفت یا رعایتی اے آئی منصوبے پیش کر رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کلاس روم اور آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اے آئی کے فروغ کا اہم میدان بن چکے ہیں۔ قیمت کے لحاظ سے حساس ہندوستانی مارکیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اوپن اے آئی نے اپنی حکمت عملی میں تبدیلیاں کی ہیں۔ یاد رہے کہ کمپنی نے اگست ۲۰۲۵ء میں نئی دہلی میں اپنا دفتر قائم کیا اور کم لاگت والا چیٹ جی پی ٹی گو پلان متعارف کرایا، جس کی قیمت پانچ ڈالر سے کم رکھی گئی۔ بعد ازاں اسے ہندوستانی صارفین کے لیے ایک سال تک مفت بھی فراہم کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل کر سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: فرانس سے ملنے والے ۱۱۴؍ رافیل طیاروں میں ۲۴؍ سپر رافیل ہونگے
آلٹ مین نے ہندوستان میں اوپن اے آئی کی توجہ کے تین اہم شعبوں کا ذکر کیا: اول، رسائی: تاکہ آمدنی یا تعلیمی پس منظر سے قطع نظر ہر فرد کو اے آئی ٹولز دستیاب ہوں۔ دوم، اپنانا: اسکولوں، کلینکوں اور چھوٹے کاروباروں میں اے آئی کو ضم کرنا۔سوم، ایجنسی صارفین کو اعتماد اور مہارت فراہم کرنا تاکہ وہ اے آئی کو مؤثر طریقے سے استعمال کر سکیں۔ ان کے مطابق، ہندوستان کا وسیع پیمانہ اور متنوع آبادی اسے ’’جمہوری اے آئی‘‘ کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک مثالی مثال بنا سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ وسیع پیمانے پر استعمال کو طویل مدتی معاشی قدر میں تبدیل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ بنیادی ڈھانچے کی محدودیت اور قابل استطاعت کے مسائل ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں بڑے پیمانے پر نفاذ کو مشکل بنا سکتے ہیں۔
ہندوستانی حکومت کے پروگرام، جیسے انڈیا اے آئی مشن، ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد کمپیوٹنگ صلاحیت میں اضافہ، اسٹارٹ اپس کی معاونت اور صحت و زراعت جیسے شعبوں میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔ آلٹ مین نے خبردار کیا کہ اگر رسائی غیر مساوی رہی تو اے آئی کے فوائد محدود طبقے تک ہی سمٹ سکتے ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اوپن اے آئی حکومت ہند کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے اور جلد نئی شراکت داریوں کا اعلان کیا جا سکتا ہے، اگرچہ اس کی تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: ۷؍ سال سے ڈپٹی اسپیکر نہیں، کانگریس کا اظہار تشویش
خیال رہے کہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں عالمی ٹیکنالوجی لیڈر، پالیسی ساز اور کاروباری شخصیات شرکت کریں گے۔ یہ کانفرنس نہ صرف بھارت کے بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل اثر و رسوخ کو اجاگر کرے گی بلکہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے مستقبل کی تشکیل میں اس کے کردار کو بھی نمایاں کرے گی۔ اوپن اے آئی کے لیے بھارت اب محض ایک ابھرتی ہوئی منڈی نہیں بلکہ عالمی اے آئی مکالمے کا ایک اہم ستون بنتا جا رہا ہے۔